عنوان: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب نوشى کے الزام کى حقیقت(10471-No)

سوال: مفتی صاحب! مندرجہ ذیل حدیث کی تحقیق مطلوب ہے:
سیدنا عبد اللہ بن بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرے والد سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، انہوں نے ہمیں بچھونوں پر بٹھایا اور کھانا کھلایا، پھر ہمارے پاس ایک پینے کی چیز لائی گئی، سیدنا معاویہ نے وہ پی اور میرے ابا جان کو پکڑا دی، میرے ابا جان نے کہا: اسے جب سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرام قرار دیا ہے میں نے اس وقت سے اسے نہیں پیا، سیدنا معاویہ رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں قریش میں سے سب سے زیادہ صاحب جمال ہوں اور سب سے عمدہ دانتوں والا ہوں، میں نے تو اپنی جوانی میں اس جیسی لذت کسی اور چیز میں نہیں پائی، البتہ دودھ میں اس سے زیادہ لذت ہے یا وہ انسان بھی بڑا لذت انگیز لگتا ہے، جو مجھ سے اچھی بات کرتا ہے۔

جواب: مفتی صاحب! مندرجہ ذیل حدیث کی تحقیق مطلوب ہے:
سیدنا عبد اللہ بن بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرے والد سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، انہوں نے ہمیں بچھونوں پر بٹھایا اور کھانا کھلایا، پھر ہمارے پاس ایک پینے کی چیز لائی گئی، سیدنا معاویہ نے وہ پی اور میرے ابا جان کو پکڑا دی، میرے ابا جان نے کہا: اسے جب سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرام قرار دیا ہے میں نے اس وقت سے اسے نہیں پیا، سیدنا معاویہ رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں قریش میں سے سب سے زیادہ صاحب جمال ہوں اور سب سے عمدہ دانتوں والا ہوں، میں نے تو اپنی جوانی میں اس جیسی لذت کسی اور چیز میں نہیں پائی، البتہ دودھ میں اس سے زیادہ لذت ہے یا وہ انسان بھی بڑا لذت انگیز لگتا ہے، جو مجھ سے اچھی بات کرتا ہے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب نوشى کے الزام کى حقیقت
الجواب حامدا ومصلیا۔۔۔
بھیجے گئے مضمون کا اول تو کوئی حوالہ درج نہیں ہے کہ یہ کس کتاب سے لیا گیا ہے؟ اور اس مضمون کے عربی الفاظ کا مفہوم وہ نہیں ہے جو اس میں بیان کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والے نے ترجمہ کرنے میں غلطى کى ہے، لہذا بغیر کسى حوالے کے کسى بھى ترجمہ کو حدیث سمجھنا درست نہیں ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بہرکیف! جب آپ نے اس مضمون کو بغرضِ تحقیق پوچھا ہى ہے تو اس کا جواب ذکر کیا جاتا ہے:
سوال میں مذکور عبارت جس حدیث کا ترجمہ ہے، وہ درج ذیل ہے:
حدثنا زيد بن الحباب، حدثني حسين، حدثنا عبد الله بن بريدة قال: دخلت أنا وأبي على معاوية فأجلسنا على الفرش، ثم أتينا بالطعام فأكلنا، ثم أتينا بالشراب ،فشرب معاوية، ثم ناول أبي، ثم قال: ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ثم قال معاوية: كنت أجمل شباب قريش وأجوده ثغرا، وما شيء كنت أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب غير اللبن، أو إنسان حسن الحديث يحدثني.
مسند أحمد: (38/ 25، رقم الحدیث (22941)، ط: مؤسسة الرسالة)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن بریدہ تابعی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ملنے کے لیے گئے، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں زمین پر بچھی ہوئی فرشی نشست پر بٹھایا، پھر ہمارے لیے کھانا لایا گیا، جو ہم نے تناول کیا، پھر ہمارے سامنے ایک مشروب لایا گیا، جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے نوش فرمایا، پھر میرے والد کو پیش کیا، پھر انہوں نے کہا (یہاں ان سے مراد کون ہے؟ اس کی تعیین نہیں ہے، یا حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا یا حضرت بریدہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا): جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (مشروب) کو حرام قرار دیا ہے، میں نے اسے کبھی نہیں پیا، پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قریشی نوجوانوں میں سب سے حسین ترین اور خوبصورت دانتوں والا نوجوان تھا اور جوانی کے ان دنوں میں میرے لیے دودھ اور ایسے شخص جو عمدہ کلام کرتا ہو، اس سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ نہیں رہی ہے۔ (مسند احمد: حدیث نمبر: 22941)
مذکورہ بالا روایت میں الفاظ: "فشرب معاوية" سے مخالفین اور بد باطن لوگوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ پر شراب خوری کا الزام لگایا ہے۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ محدثین کرام رحمہم اللہ نے اس روایت کو اس کى سند، متن اور درایت (معقولیت) کے اعتبار سے ناقابل اعتبار قرار دیا ہے، ذیل میں بالترتیب تینوں کو ذکر کیا جاتا ہے:
1) روایت کی اسنادی حیثیت:
اس روایت میں ایک راوى ہیں "حسین بن واقد المروزی" محدثین نے اس کے ثقہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھى لکھى ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس "حسین بن واقد" کى مرویات کا ذکر ہوا تو امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: "اس کى مرویات کیا چیز ہیں؟ کچھ بھى نہیں" اور اس کى مرویات کى بے وزنى بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو جھاڑ دیا۔
امام عقیلی رحمہ اللہ (م 322ھ) نے اپنى کتاب "الضعفاء الکبیر" 252/1، ط: دار المکتبة العليمة، میں حسین بن واقد کے تذکرے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذکورہ بالا ارشاد نقل کیا ہے۔
حافظ ذہبى رحمہ اللہ (م 748 ھ) نے اپنى کتاب "المغنی فی الضعفاء" 176/1 میں حسین بن واقد کے تذکرے میں فرمایا: یہ صدوق ہیں، لیکن امام احمد رحمہ اللہ نے ان کى بعض احادیث کو "منکر" قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانى رحمہ اللہ (م 852 ھ) نے اپنى کتاب "تہذیب التہذیب" 374/2، ط: مطبعة دائرة المعارف النظامية، الهند، میں "حسین بن واقد" کے تذکرے میں امام احمد رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے: اس کى احادیث میں بعض ایسے اضافات ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیا ہیں؟ اور انہوں نے اپنے ہاتھ جھاڑ دیے، امام ساجى نے کہا ہے کہ وہ "صدوق " ہیں، لیکن ان کو وہم ہوتا تھا۔
الغرض کسى حدیث کے راوى پر اگر محدثین کرام کا اس قدر کلام پایا جائے تو وہ روایت قابل اعتبار نہیں رہتى ہے۔
2) روایت کے الفاظ میں نکارت (انوکھا پن):
بالفرض اگر اس روایت کى سند میں موجود راوى "حسین بن واقد" پر محدثین کے کلام سے صرفِ نظر کر بھى لیا جائے، تب بھى یہ روایت نا قابل اعتبار ہے، کیونکہ اس روایت کے الفاظ میں عربی گرامر کے اعتبار سے غلطی ہے، جس کی وجہ سے اس کا مفہوم مبہم اور غیر واضح ہے، وجہ اس کى یہ ہے کہ اس روایت میں الفاظ ہیں: "فشرب معاوية، ثم ناول أبي، ثم قال: ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم" (ترجمہ: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے وہ مشروب نوش فرمایا، پھر انہوں نے پینے کا وہ برتن میرے والد کى طرف بڑھایا، پھر انہوں نے کہا: جب سے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے، میں نے اسے کبھى نہیں پیا ہے)، اس ترجمہ میں "ثم ناول أبي" کے بعد "ثم قال" (پھر اس نے کہا) ہے، اب سوال یہ ہے کہ یہ کہنے والا کون ہے؟ اگر کہنے والے سے مراد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ ہیں تو عربى گرام کے اعتبار سے اس کو "ثم قال" کے بجائے "فقال" ہونا چاہیے اور اگر کہنے والے سے مراد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہوں تو روایت کے مفہوم میں تضاد آتا ہے، کیونکہ اس سے پہلے ہے کہ "فشرب معاوية" مذکور ہے، اس اعتبار سے متضاد مفہوم یہ ہوگا: (حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے وہ مشروب نوش فرمایا، پھر انہوں نے کہا: جب سے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے، میں نے اسے کبھى نہیں پیا ہے) ان دونوں باتوں میں تضاد ہے۔
البتہ حسین بن واقد ہى کے طریق سے یہ روایت "مصنف ابن ابی شیبہ" 79/16 رقم الحدیث (31201) ط: دار القبلة، میں بھى مذکور ہے، لیکن اس میں ان الفاظ کا اضافہ نہیں ہے اور اس عبارت کا مفہوم بھى واضح ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: "دخلت أنا وأبي على معاوية، فأجلس أبي على السرير، وأتي بالطعام فطعمنا، وأتى بشراب فشرب، فقال معاوية: ما شيء كنت أستلذه وأنا شاب فآخذه اليوم إلا اللبن، فإني آخذه كما كنت آخذه قبل اليوم، والحديث الحسن".
ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن بریدہ کہتے ہیں : میں اور میرے والد (حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے میرے والد کو چار پائى پر بٹھایا اور کھانا لایا گیا، وہ وہم نے تناول کیا اور مشروب لایا گیا، وہ ہم نے نوش کیا، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جوانى کے دنوں سے لے کر اب تک دو چیزیں سے بہت لطف اندوز ہوتا ہوں (وہ دو چیزیں) دودھ اور عمدہ کلام ہے، میں آج بھى دودھ اسى طرح پسند کرتا ہوں جیسا پہلے پسند کیا کرتا تھا۔
"مصنف ابن ابی شیبہ" کے اس طریق سے معلوم ہوتا ہے: "ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم" کا اضافہ راوى کا تصرف ہے، چنانچہ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ (م 807 ھ) نے "مجمع الزوائد" 54/5، رقم الحدیث (8022) ط: دار الفکر بیروت، میں مسند احمد کى اس روایت کو"ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم " کے اضافے کے بغیر نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے: "وفي كلام معاوية شيء تركته" (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے کلام میں قابل اعتراض بات تھى، اس وجہ سے میں اس کو ترک کر دیا ہے)۔
3) درایت (معقولیت) کے اعتبار سے روایت کا جائزہ:
پہلى بات تو یہ ہے کہ نبى اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام قرآن و سنت کے احکام کے پابند تھے، ان میں سے کوئى صحابى بھى صریح حکمِ شرعى کى خلاف نہیں کرتا تھا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تو جلیل القدر صحابہ میں سے تھے، وہ خلیفۃ المسلمین کے منصب پر رہتے ہوئے اس فعلِ حرام (شراب نوشى) کا کیسے ارتکاب کر سکتے تھے؟ حالانکہ خود حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے شراب کى حرمت پر احادیث مروی ہیں، سنن ابن ماجہ 88/5، رقم الحدیث (3389) ط: دار الجیل، میں روایت ہے: عن يعلى بن شداد بن أوس، سمعت معاوية، يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "كل مسكر، حرام على كل مؤمن". (ترجمہ: یعلى بن شداد بن اوس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:"ہر نشہ آور چیز ہر مؤمن پر حرام ہے)۔
لہذا جب خود حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شراب کى حرمت سے متعلق روایت کر رہے ہیں، پھر ان کا خود اس فعل حرام کا ارتکاب کرنا ان کے مقام دیانت کے خلاف ہے۔
نیز آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا فرمائى تھى: "اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به" (اے اللہ ! معاویہ کو (قوم کے لیے) ہادى اور (اپنے لیے) مہدى بنا اور اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما) اور آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم کى دعائیں یقینا منظور ہوئیں ہیں، اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب نوشى کا الزام درست مانا جائے تو وہ کیسے ہادى اور مہدى کہلائیں گے؟!
بالفرض اگر قابل اعتراض روایت کو درست تسلیم کر بھى لیا جائے تو اس کا صحیح مفہوم یہ ہوگا کہ جو مشروب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نوش فرمایا تھا اس کے متعلق دو احتمال ہو سکتے ہیں:
(1) وہ مشروب یا تو "دودھ" تھا، جیسا کہ "مسند احمد" اور "مصنف ابن ابى شیبہ" کے دونوں طریقوں میں اس کا ذکر موجود ہے اور یہ بات قرین قیاس بھى ہے، کیونکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنى دو مرغوب چیزوں میں سے ایک چیز دودھ کا ذکر فرمایا ہے اور عام طور پر میزبان مہمان کى دلچسپى بڑھانے کے لیے اپنى مرغوب چیز پیش کر کے یہ بات کہتا ہے کہ مجھے یہ بہت پسند ہے، لہذا میں نے آپ کى خدمت میں اپنى پسند کى چیز پیش کى ہے۔
(2) وہ مشروب یا تو "نبیذ" (ایک قسم کا مشروب) تھا، جسے اس دور میں کھانے کے بعد بطورِ مقوى غذا کے استعمال کیا جاتا تھا اور "نبیذ" پینا شرعا حلال ہے، البتہ راوى نے اس کو بیان کرتے ہوئے ایسے الفاظ میں ذکر کردیا، جس سے اس کے حرام ہونے کا شبہ پیدا ہوگیا۔
خلاصہ کلام:
اول تو یہ حدیث جس راوى نے بیان کى ہے، اس پر محدثین نے جرح کى ہے، دوسرا یہ کہ اس روایت کے الفاظ کا مفہوم غیر واضح، مبہم اور متضاد ہے، تیسرا یہ کہ خود حضرت امیر معاویہ رضى اللہ عنہ سے شراب کى حرمت سے متعلق احادیث مروى ہیں، جو شخص خود شراب کى حرمت سے متعلق احادیث بیان کرنے والا ہو، وہ کیسے اس کے خلاف کر سکتا ہے؟ جبکہ وہ ہو بھى صحابى رسول صلى اللہ علیہ وسلم اور وہ بھى جلیل القدر مشہور صحابى، وقت کے خلیفۃ المسلمین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہوں، ان کے متعلق یہ گمان کرنا ہى بہت بڑى جسارت ہے، بالفرض اگر اس روایت کو درست مان بھى لیا جائے تو اس کا صحیح محمل اور مفہوم یہ ہوگا کہ وہ مشروب یا تو "نبیذ" تھى یا دودھ تھا، جیسا کہ اس روایت کے آخر میں بھى مذکور ہے، لہذا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب نوشى کا الزام سراسر بہتان ہے اور یہ الزام بدباطن دشمنان صحابہ کرام ہى لگاتے ہیں۔
(مستفاد از "سیرت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ "جلد 2 ص 649 تا ص 655، مصنفہ: حضرت مولانا محمد نافع صاحب نور اللہ مرقدہ، ط: دار الکتاب)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مسند أحمد: (رقم الحدیث: 22941، 38/25، ط: مؤسسة الرسالة)
حدثنا زيد بن الحباب، حدثني حسين، حدثنا عبد الله بن بريدة قال: دخلت أنا وأبي على معاوية فأجلسنا على الفرش، ثم أتينا بالطعام فأكلنا، ثم أتينا بالشراب فشرب معاوية، ثم ناول أبي، ثم قال: ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال معاوية: كنت أجمل شباب قريش وأجوده ثغرا، وما شيء كنت أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب غير اللبن، أو إنسان حسن الحديث يحدثني.

مصنف ابن أبي شيبة: (رقم الحدیث: 31201، 79/16، ط: دار القبلة)
حدثنا زيد بن الحباب، عن حسين بن واقد، قال: حدثنا عبد الله بن بريدة، قال: دخلت أنا وأبي على معاوية، فأجلس أبي على السرير وأتي بالطعام فطعمنا وأتي بشراب فشرب، فقال معاوية: ما شيء كنت أستلذه وأنا شاب فآخذه اليوم إلا اللبن، فإني آخذه كما كنت آخذه قبل اليوم، والحديث الحسن.

سنن ابن ماجة: (رقم الحدیث: 3389، 88/5، ط: دار الجيل)
عن يعلى بن شداد بن أوس، سمعت معاوية، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "كل مسكر ، حرام على كل مؤمن".

مسند أحمد: (رقم الحدیث: 17895، 426/29، ط: مؤسسة الرسالة)
عن عبد الرحمن بن أبي عميرة الأزدي، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه ذكر معاوية، وقال: "اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به".

الضعفاء الكبير للعقيلي: (ترجمة حسين بن واقد، 251/1، ط: دار المكتبة العليمة)
"حدثني الخضر بن داود قال: حدثنا أحمد بن محمد قال: ذكر أبو عبد الله حسين بن واقد فقال: وأحاديث حسين ما أرى أي شيء هي ونفض يده".

تهذيب التهذيب: (ترجمة حسين بن واقد، 374/2، ط: مطبعة دائرة المعارف النظامية، الهند)
"وقال العقيلي: أنكر أحمد ابن حنبل حديثه ،وقال الأثرم: قال أحمد: في أحاديثه زيادة ما أدري أي شيء هي؟ونفض يده. وقال ابن سعد: كان حسن الحديث، وقال الآجري عن أبي داود: ليس به بأس، وقال الساجي: فيه نظر، وهو صدوق يهم ،قال أحمد: أحاديثه ما أدري إيش هي".

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 847 May 08, 2023
hazrat ameer muavia razi allaho anho per sharab noshi k ilzam ki haqiqat

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.