عنوان: سونے سے وضو ٹوٹ جانے کی صورت میں استنجاء کرنا (10479-No)

سوال: مسجد میں بیٹھے ہوئے یا سفر میں جاتے ہوئے آنکھ لگ جائے تو کیا استنجا بھی کرنا ہوگا یا صرف وضو کرنا کافی ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ایسی نیند جس کی وجہ سے انسان کو اپنے اعضاء پر قدرت باقی نہ رہے، اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، لہذا اگر کوئی شخص مسجد میں یا سفر کے دوران ٹیک لگا کر بیٹھا ہو اور اس کی نیند اتنی گہری ہو کہ اگر ٹیک ہٹادی جائے تو وہ گرجائے تو ایسی نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، البتہ ایسی صورت میں صرف وضو کر لینا کافی ہے، استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (141/1)

"(و) ينقضه حكماً (نوم يزيل مسكته) أي قوته الماسكة بحيث تزول مقعدته من الأرض، وهو النوم على أحد جنبيه أو وركيه أو قفاه أو وجهه (وإلا) يزل مسكته (لا) يزل مسكته (لا) ينقض وإن تعمده في الصلاة أو غيرها على المختار كالنوم قاعداً ولو مستنداً إلى ما لو أزيل لسقط على المذهب".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 597 May 10, 2023
soney / neend karne se wazu toot janey ki sorat me /mein istenja karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.