سوال:
مفتی صاحب! اگر کسی کی تین رکعات نکل جائیں تو کس طرح پڑھنی ہوں گی؟
جواب: صورت مسئولہ میں امام کی نماز مکمل ہونے کے بعد مسبوق (جس کی کوئی رکعت امام کے ساتھ ادا کرنے سے رہ گئی ہو) اپنی بقیہ نماز اس طرح مکمل کرے گا کہ وہ امام کے دونوں سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہوکر پہلے ثناء پڑھے، پھر تعوذ اور تسمیہ کے بعد سورہ فاتحہ پڑھے، اس کے بعد کوئی سورت پڑھ کر رکوع سجدہ کر کے التحیات پڑھ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے اور بقیہ دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیردے، پہلی دو رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت بھی پڑھے گا، جبکہ تیسری رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیۃ: (91/1، ط: دار الفکر)
فإذا قام إلى قضاء ما سبق يأتي بالثناء ويتعوذ للقراءة. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة والظهيرية....(ومنها) أنه يقضي أول صلاته في حق القراءة وآخرها في حق التشهد حتى لو أدرك ركعة من المغرب قضى ركعتين وفصل بقعدة فيكون بثلاث قعدات وقرأ في كل فاتحة وسورة ولو ترك القراءة في إحداهما تفسد.
ولو ادرك ركعة من الرباعية فعليه أن يقضي ركعة يقرأ فيها الفاتحة والسورة ويتشهد ويقضي ركعة أخرى كذلك ولا يتشهد وفي الثالثة بالخيار والقراءة أفضل. هكذا في الخلاصة.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی