عنوان: جب تک مقروض قرض ادا نہ کردے یا قرض خواہ خود معاف نہ کردے مقروض کا ذمہ فارغ نہیں ہوتا(10514-No)

سوال: 1997 سے اب تک کافی لوگوں کا قرض دار ہوں، لوگوں کے قرضے دینے کی نیت ہے، لیکن اب کمانے کے قابل نہیں ہوں، نہ میرے پاس بیچنے کی کوئی چیز ہے اور نہ ہی مجھے اپنی اولاد سے امید ہے کہ وہ میرا قرضہ ادا کردیں گے۔ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے کہ لوگوں کے قرضے بھی اتر جائیں اور میری آخرت میں پکڑ بھی نہ ہو؟

جواب: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ شہید کے تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے، مگر کسی کا قرضہ معاف نہیں کرتا۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر:1886)
مذکورہ حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرض بندہ کا ایسا حق ہے جو کسی بھی صورت میں معاف نہیں ہوتا ہے، البتہ اگر قرض خواہ خود معاف کردے تو اس سے مقروض کا ذمہ فارغ ہو جاتا ہے۔
پوچھی گئی صورت میں سب سے پہلے آپ اپنے دل میں پکی نیت کرلیں کہ آپ اپنی زندگی میں قرض ادا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے، اس کے لیے آپ اللّٰه تعالٰی سے دعائیں بھی مانگیں، بالخصوص اس دعا کا اہتمام کریں:
"اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ" (جامع الترمذی، حدیث نمبر: 3563)
ترجمہ:
"اے اللہ ! اپنے حرام سے بچاتے ہوئے اپنے حلال کے ذریعے میری کفایت فرما، اور اپنے فضل سے دوسروں سے مجھے بے نیاز فرمادے".
حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر کسی پرجَبَلِ صیر (صیر ایک پہاڑ کا نام ہے) جتنا قرض ہوگا، تو اللہ تعالی اس دعا کے اہتمام کرنے کی وجہ سے ادا کروا دے گا۔
دعاؤں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ آپ اپنی محنت میں بھی اضافہ کردیں، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرمادیں گے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
جو شخص کسی سے اس نیت سے قرض لے کہ وہ اس کو ادا کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے، اور اگر قرض لیتے وقت اس کا ارادہ ہڑپ کرنے کا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسی طرح کے اسباب پیدا کرتا ہے جس سے وہ مال ہی برباد ہوجاتا ہے۔ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر:2387)
علاوہ ازیں قرض خواہوں کے سامنے اپنی حالت زار بیان کرکے ان سے درخواست کریں کہ آپ کا قرضہ یا اس کا کچھ حصہ معاف کردیں۔
ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی وجہ سے امید ہے کہ اللہ پاک آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرما دے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1886، ط: دار احیاء التراث العربی)
"عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "يغفر للشهيد كل ذنب إلا الدين"۔

صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 2387، ط: دار طوق النجاۃ)
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه، ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله".

سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 3563، ط: دار الغرب الإسلامي)
عن علي، أن مكاتبا جاءه فقال: إني قد عجزت عن مكاتبتي فأعني، قال: ألا أعلمك كلمات علمنيهن رسول الله صلى الله عليه وسلم لو كان عليك مثل جبل صير دينا أداه الله عنك، قال: قل: اللهم اكفني بحلالك عن حرامك، وأغنني بفضلك عمن سواك.

الهداية: (256/3، ط: مکتبه رحمانیه)
وکل شئ وقع علیه الصلح وھو مستحق بعقد المداينة لم يحمل على المعاوضة وانما يحمل على انه استوفى بعض حقه واسقط باقيه كمن له على اخر الف درهم فصالحه على خمس مأة.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 403 May 17, 2023
jab tak maqroz / maqrooz qarz ada na karde /kardey ya qarz khwah khod muaf na karde maqroz ka zima / zimma farigh nahi hota

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.