عنوان: موجودہ دور میں سفری سہولیات زیادہ ہونے کی وجہ سے معیارِ سفر ٧٧.٢۵ کلو میٹر سے زیادہ ہونا چاہیے، " اشکال اور اس کا جواب"(101065-No)

سوال: آپ سے ایک سوال انتہائی ادب سے دریافت کرنا ہے کہ اگر موجودہ دور میں جب سفر کی ایڈوانس سہولیات سے انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ تھوڑی دیر میں پہنچ جاتا ہے، جبکہ پہلے زمانے میں چند منٹوں کا سفر بھی کئی دنوں میں طے ہوتا تھا، اسی وجہ سے عورت کو بغیر محرم کے سفر کی اجازت نہیں ہوتی تھی، اس سلسلے میں کچھ سوالات ہیں، جن کا تسلی بخش جواب مطلوب ہے۔ 1- کیا اب بھی سفر کا تعین اسی مسافت سے کیا جاناضروری ہے، جب کہ جہاز اور تیزترین سواریاں موجود ہیں؟ 2-کیا صورتحال تبدیل ہونے سے مسائل کے جواب کی نوعیت بدلی نہیں جا سکتی ؟ 3- کیا اس مسئلہ میں علماء کرم اجتھاد نہیں کر سکتے ؟ انتہائی معذرت اگر کوئی بات آپ کو نا گوار گزری ہو، اللہ آپ لوگوں کو انتہائی جزاء خیر دے، آمین

جواب: جوابات سے پہلے چندباتیں سمجھ لیں :
١- قرآن وحدیث میں احکام شریعت کے تمام بنیادی اصول مذکور ہیں، فقہاء کرام انہی اصول کی روشنی میں شریعت کے احکام کو اپنے اجتہاد سے واضح فرماتے ہیں۔

٢- زمانے اور حالات کے بدل جانے سے مسائل کی نوعیت بلاشبہ بدل جاتی ہے، مگر قرآن و سنت کے بنیادی اصول کو برقرار رکھا جاتا ہے اور فقہاء کرام نے ہر زمانے میں اس کی ہمیشہ رعایت کی ہے کہ بنیادی اصول کو چھیڑے بغیر نئے حالات کے مطابق رہنمائی کی جائے ۔

٣- مسائل شریعت میں اجتہاد کے اصول وضوابط تاریخ اسلام کی ابتدائی تین صدیوں میں متعین کردیے گئے تھے، اس زمانے سے اجتہاد کا عمل انہی اصول کے دائرے میں رہ کر ہوتا رہا ہے۔

مزید برآں کہ جس اسلامی مملکت میں جو بھی فقہ بطور قانون رائج رہی ہے، اس میں ہر زمانے میں کسی نہ کسی اعتبار سے اسی فقہ کے اصولِ اجتہاد کی روشنی میں فقہاء کرام، امت کو پیش آمدہ جدید مسائل میں اجتہاد کرکے رہنمائی کرتے رہے ہیں۔ جس کی مثال خلافت عثمانیہ میں "مجلۃ الاحکام العدلیہ " برصغیر میں سلطنت مغلیہ میں سلطان اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کے زمانے میں "فتاوی عالمگیری "اور موجودہ دور میں سعودیہ میں فقہ حنبلی بطور قانون رائج ہے، وہاں آج بھی حنبلی فقہاء نئے مسائل میں امت کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
تاہم بر صغیر میں استعمار کے غلبے کی وجہ سے اگرچہ اسلامی حکومت قائم نہ رہی اور اس کے نتیجے میں فقہ حنفی جو ہمارا مملکتی قانون تھا معطل ہوگیا، ایسے حالات میں نت نئے مسائل کے حل میں ہمارے دارالافتاؤں کے مفتیان کرام نے اپنی بساط کی حد تک غور و خوض کا سلسلہ جاری رکھا اور الحمدلله جدید مسائل میں امت کو مایوس نہیں کیا اور رہنمائی کرتے رہے، تاہم یہ انفرادی کوششیں ہیں، جو کسی حکومتی سرپرستی کے بغیر گذشتہ دو صدیوں سےسرانجام دی جارہی ہیں۔
۴- فقہاء کرام مسائل کے استنباط میں کسی حکم کو جب لاگو کرتے ہیں، تو اس حکم کی علت (جس وجہ سے یہ حکم لگتا ہے) پر مدار رکھتے ہیں، مثلاً: ریح خارج ہونے کی وجہ وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن فقہاء کرام نے نیند کو بھی وضو توڑنے والی چیزوں میں شامل فرمایا ہے، حالانکہ نیند کی وجہ سے کوئی ریح وغیرہ خارج نہیں ہوتی، مگر عام طور پر نیند میں انسان کے اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور انسان کو سوتے ہوئے ریح خارج ہونے کا احساس نہیں ہوتا، اس لیے فقہاء نے نیند (جو خروج ریح کا سبب ہے) کو اصل علت کا قائم مقام بنا دیا اور حکم کا مدار اس پر رکھا۔
چنانچہ جب حکم کا دار ومدار سبب پر ہو گیا تو چاہے علت پائی جائے یا نہ پائی جائے(نیند کے دوران ریح خارج ہو یا نہ ہو) جب بھی نیند پائی جائے گی تو وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔
اسی طرح سفر میں جو مسافر کو شریعت نے آسانیاں دی ہیں، مثلاً : نماز میں قصر اور رمضان میں روزے کو قضاء کرنے کی گنجائش وغیرہ اس کی بھی علت " سفر کی مشقت" ہے، لیکن سفر جو کہ اس کا سبب ہے، حکم کا مدار اس پر ہے، لہذا جب بھی سفر شرعی پایا جائے گا، سفر کی سہولتیں مسافر کو دی جائیں گی، چاہے اس سفر میں مسافر کو مشقت کا سامنا ہو یا نہ ہو، لہذا موجودہ دور میں نقل وحمل کے ذرائع اگر آرام دہ ہونے کی وجہ سے مشقت نہ ہو، تب بھی سفر کی سہولتیں ملیں گی۔

آپ کے سوالوں کے جوابات:

١- احادیث میں جو سفر کی مسافت بیان کی گئی ہے، وہ اس زمانے کے وسائل سفر کو سامنے رکھتے ہوئے بیان کی گئی ہے (جبکہ تیز رفتار سواریاں نہیں تھیں اور مسافت کی پیمائش کے موجودہ زمانے کی طرح باریک سے باریک معیارات بھی نہیں تھے) وہ یہ کہ سفر میں اگر اتنا دور جانا ہو کہ منزل تک پہنچنے میں پیدل، متوسط رفتار سے، راستوں میں آرام کرتے ہوئے، دن کو چلا جائے، تو تین دن لگ جائیں ۔
اس کو بنیاد بنا کر فقہاء نے آسانی کے لیے ہر زمانے اور ہر علاقے کے رائج پیمائش کے معیارات کو سامنے رکھتے ہوئے تین دن کی مسافت کی تحدید کی ہے، چنانچہ ہمارے زمانے میں رائج معیار پیمائش کے اعتبار سے سفر شرعی کی مسافت سوا ستتر کلو میٹر طے کی ہے۔

٢- اگرچہ ذرائع نقل وحمل تیز ترین ایجاد ہوچکے ہیں، جن کی بدولت مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے اور پہلے جیسی مشقت بھی نہیں رہی، لیکن چونکہ سفر کے بارے میں شریعت نے جو آسانیاں رکھی ہیں، آج بھی انسان ان کا محتاج ہے، صرف اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ وسائل سفر تیز ہوگئے ہیں، وہ آسانیاں ختم کر دی جائیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا بارہا ہوا ہے کہ انہی تیز رفتار سواریوں میں کوئی خرابی آگئی، موسم موافق نہ ہوا اور سفر کا دورانیہ طویل ہوگیا۔ مثلاً: کسی مسافر نے روزہ رکھ لیا، جبکہ اس کوسفر میں روزہ چھوڑنے کی گنجائش تھی اور پھر ریل بیچ جنگل میں خراب ہوگئی یا فلائٹ میں آٹھ دس گھنٹے کی تاخیر ہوگئی، ایسی صورت میں مسافر کو ایک تو اپنے روزے کی مشقت اور اوپر سے ریل کی خرابی کی وجہ سے یا جہاز کی تاخیر کی وجہ سے سفر طویل ہونے کی مشقت، یہ دونوں مل کر اس کی پریشانی میں اضافہ کریں گے، لہذا اب بھی وہ پہلے زمانے جیسی مشقت پیش آسکتی ہے، اس لیے ہم سفر کی رخصتوں کو ختم نہیں کر سکتے ہیں۔

٣- عورت کے بغیر محرم سفر کرنے میں اصل علت" فتنہ " ہے اور سفر اس کا سبب ہے، لہذا مسافت شرعی کے بقدر سفر میں خواہ فتنے کا اندیشہ ہو یا نہ ہو اور خواہ وہ سفر حج وعمرے کا سفر ہی کیوں نہ ہو، جائز نہیں ہے اور آج کل کے زمانے میں فتنے کے اسباب بہت زیادہ ہیں، آئے روز ایسے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں کہ عورت کے دوران سفر اجنبی مرد سے رابطہ ہوا اور بات بڑھتے بڑھتے عزت و عصمت داغ دار کر بیٹھی۔
یہی وجہ ہے کہ اگر کسی عورت پر حج فرض ہو جائے اور اس کے ساتھ جانے کے لیے کوئی محرم سفر کے شروع میں ساتھ نہ ہو، تو فقہاء نے اس کے لیے حج ادا کرنے کو فرض قرار نہیں دیا، جب تک اپنے محرم کا انتظام نہیں کر لیتی، چاہے اسے محرم کا خرچ خود برداشت کرنا پڑے۔ اور یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کوئی محرم نہیں مل رہا اور وہ عورت بے نکاحی ہے تو کسی مرد سے نکاح کرلے، پھر حج پر اس کے ساتھ جائے۔ اس لیے کہ پردے کے احکام میں شریعت نے عورت کی عفت کی حفاظت کے لیے بہت احتیاط کرنے کا حکم دیا ہے۔

۴- اس کے علاوہ اگر ہم معیار کلو میٹر کو نہ بنائیں، بلکہ جہاز کی رفتار کو بنائیں تو کبھی بھی ہم کسی معیار کو مقرر نہیں کر سکتے، کیونکہ آج سے تیس سال پہلے کے جہازوں کی رفتار ٣۰۰ کلو میٹر فی گھنٹہ تھی، اب تقریباً ۵۰۰ کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، کچھ عرصہ بعد مزید ترقی ہو گی ، تو شاید ١۰۰۰ کلو میٹر فی گھنٹہ کے حساب سے جہاز کی رفتار ہوا کرے گی، اسی طرح آج بھی مختلف جہازوں کی رفتار مختلف ہوا کرتی ہے، تو ہم کس کو معیار بنائیں گے؟

لہذا اسی لیے ہم کلو میٹر کو ہی معیار بنائیں گے کہ ٧٧.٢۵ کلو میٹر کو جو بھی پار کرے گا، وہ مسافر کہلائے گا، چاہے وہ آہستہ چل کر جائے یا وہ مسافت ایک منٹ میں پار کر جائے، فقہاء نے تین دن کے سفر میں اونٹ، پیدل اور گھوڑے سے سفر کو معیار بنایا ، لہذا آج کے دور میں اگر آپ پوری دنیا کا چکر لگانا چاہیں تو آج کل کے جہازوں میں چند دنوں میں پوری دنیا گھوم سکتے ہیں یا کم از کم تین دن میں کئی بر اعظم گھوم سکتے ہیں ، اس حساب سے ہم اگر ہوائی جہاز کی رفتار کو معیار بنائیں تو آپ پوری دنیا کا چکر لگا دینے کے باوجود بھی مسافر نہیں بنیں گے، کیونکہ آپ نے صرف تین دن کی مسافت طے کی ہے، اس لحاظ سے اگر کوئی جہاز آپ کو تین دن میں پوری دنیا کا چکر لگوادے، تب بھی آپ مسافر نہیں بنیں گے، تو کیا اس صورت میں بھی آپ یہ کہیں گے کہ خواتین بغیر محرم کے پوری دنیا کا چکر لگا سکتی ہیں؟
ظاہر سی بات ہے کہ آپ کا جواب نفی میں ہو گا اور لا محالہ آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ کلو میٹر کے پیمانے کو سفر کے معیار کی حد کے طور پر مقرر کرنا چاہیے۔

۵- سفر کی دوسری سہولیات یعنی نماز میں قصر اور روزہ چھوڑنے کی گنجائش پر آپ اشکال نہیں کرتے کہ آج کل سفر باسہولت ہوگیا ہے، اس میں مشقت نہیں ہے، لہذا مشقت ہوگی تو قصر کریں گے اور مشقت ہوگی تو روزہ چھوڑ یں گے، بلکہ جس طرح وہاں اصل مشقت کے اوپر حکم کا مدار نہیں رکھتے، بلکہ سبب پر رکھتے ہیں کہ جہاں سفر ہوگا تو نماز میں قصر اور روزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی، چاہے مشقت ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح عورت کے سفر میں "فتنہ" کو سبب نہیں بنایا گیا، بلکہ سفر کو سبب بنایا گیا ہے کہ جہاں سفر پایا جائے گا تو عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، چاہے "فتنہ" کا اندیشہ ہو یا نہ ہو ۔
امید ہے ان تمام گذارشات سے آپ کا اشکال رفع ہو گیا ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھدایۃ: (80/1، ط: دار احیاء التراث العربی)
" السفر الذي يتغير به الأحكام أن يقصد الإنسان مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بسير الإبل ومشي الأقدام " لقوله عليه الصلاة والسلام " يمسح المقيم كمال يوم وليلة والمسافر ثلاثة أيام ولياليها " عمت الرخصة الجنس ومن ضرورته عموم التقدير وقدر أبو يوسف رحمه الله بيومين وأكثر اليوم الثالث والشافعي بيوم وليلة في قول وكفى بالسنة حجة عليهما " والسير المذكور هو الوسط " وعن أبي حنيفة رحمه الله التقدير بالمراحل وهو قريب من الأول

کنز الدقائق: (209/1، ط: المطبعۃ الکبریٰ الامیریۃ)
وأما الثالث - وهو بيان مسافة السفر فقد قال أصحابنا أقل مسافة تتغير فيها الأحكام مسيرة ثلاثة أيام بسير متوسط، وهو سير الإبل ومشي الأقدام في أقصر أيام السنة وعن أبي يوسف أنه مقدر بيومين وأكثر اليوم الثالث

الدر المختار: (125/2، ط: دار الفکر)
(فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر

مختصر القدوری: (63/1، ط: دار الکتب العلمیة)
وإن كان مسافرا لا يستضر بالصوم فصومه أفضل وإن أفطر وقضى جاز

الھندیۃ: (218/1، ط: دار الفکر)
(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع

بدائع الصنائع: (123/2، ط: دار الکتب العلمیة)
عن ابن عباس - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: ألا «لا تحجن امرأة إلا ومعها محرم» ، وعن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «لا تسافر امرأة ثلاثة أيام إلا ومعها محرم أو زوج» ولأنها إذا لم يكن معها زوج، ولا محرم لا يؤمن عليها إذ النساء لحم على وضم إلا ما ذب عنه، ولهذا لا يجوز لها الخروج وحدها.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 588
Mojoda Maujooda daur dor mai safri sahooliat ziyada honay ki waja se Mayare safar 77.25 km say ziyada honi chahiay , Due to the improved facilities of transportation in the current era, the standard distance of travel should be more than 77.25 km, "Concern and the answer"

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.