عنوان: بچے کے اسکول چھوڑجانے کی صورت میں لی گئی فیس کا حکم(10854-No)

سوال: ہر پرائیوٹ اسکول ماہانہ فیس ایڈوانس میں لیتا ہے، اس طرح ہمارا اسکول بھی داخلے کے وقت داخلہ فیس ‏کے ساتھ ماہانہ فیس پیشگی لیتا ہے۔
اس ضمن میں دو سوالات ہیں:‏
‏۱) جب بچہ تعلیم مکمل کرلے یا کسی اور وجہ سے اسکول چھوڑے تو کیا جس ماہ اسکول چھوڑ رہا ہو، اس مہینے کی ‏فیس لینی چاہیے یا نہیں؟ اور اخراج کے وقت کی فیس کا بھی بتائیے۔
‏۲) اگر مہینہ شروع ہونے سے پہلے اسکول چھوڑنے کا بتائے تو اگلے مہینے کی فیس نہیں لی جاتی، لیکن یکم کے ‏بعد اسکول چھوڑنا کا بتائے تو فیس لی جاتی ہے تو کیا یہ فیس لینا جائز ہے؟

جواب: ۱-۲) واضح رہے کہ بچے سے جو فیس لی جاتی ہے وہ اسکول میں اسے تعلیمی اور تربیتی خدمات فراہم کرنے کے ‏عوض میں ہوتی ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ آپ یہ اصول بنائیں کہ "بچہ کسی بھی وجہ سے اگر مہینہ کے درمیان میں اسکول چھوڑ دیتا ہے تو جتنے دن اس نے اسکول میں تعلیم و تربیت حاصل کی ہوگی، صرف ان دنوں کی فیس لی ‏جائے گی"۔ اور اگر کسی انتظامی مصلحت یا مجبوری کی وجہ سے لی گئی فیس واپس کرنا ممکن نہ ہو تو پھر مہینے کے درمیان بچے کے چلے جانے کی صورت میں پورے مہینے کی فیس لینے کا اصول مقرر کرنے کی بھی گنجائش ہے، البتہ اس دوسری صورت میں انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ بوقت داخلہ ہی بچے اور اس کے سرپرست کو اس ضابطہ سے واضح طور پر (بہتر یہ ہے کہ تحریری طور پر) آگاہ کردیں۔ ‏یہی حکم بچے کے اسکول سے اخراج کرنے کی صورت میں بھی ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوى الهندية: (500/4، ط: دار الفکر)‏
قالوا الأجير المشترك من يستحق الأجر بالعمل لا بتسليم نفسه للعمل والأجير ‏الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه ‏لاستحقاق الأجر وبعضهم قالوا الأجير المشترك من يتقبل العمل من غير واحد ‏والأجير الخاص من يتقبل العمل من واحد‎…‎‏ والأوجه أن يقال الأجير المشترك ‏من يكون عقده واردا على عمل معلوم ببيان عمله والأجير الخاص من يكون ‏العقد واردا على منافعه ولا تصير منافعه معلومة إلا بذكر المدة أو بذكر ‏المسافة. كذا في التبيين.‏

البناية شرح الهداية: (282/10، ط: دار الكتب العلمية)‏
استأجر إنسانا ليعلم غلامه أو ولده شعرا أو أدبا أو حرفة مثل الخياطة ونحوها ‏فالكل سواء إن بين المدة سواء بأن استأجره شهرا ليعلمه هذا العلم يجوز ويصح ‏وينعقد العقد على المدة حتى تستحق الأجرة فعلم أو لم يتعلم إذا سلم الأستاذ ‏نفسه لذلك أما إذا لم يبين المدة فينعقد لكن فاسدا، حتى لو علم استحق أجر ‏المثل وإلا فلا.‏
وكذلك تعلم سائر الأعمال كالخط والهجاء والحساب على هذا، ولو شرط عليه ‏أن يحذقه في ذلك العمل فهو غير جائز، لأن التحذيق ليس في وسع المعلم.‏

الفتاوى الهندية: (313/6، ط: دار الفكر)‏
‏(استئجار الأستاذ لتعليم الصبي الحرفة) استأجره ليعلم ابن المستأجر المسمى ‏كذا حرفة كذا بتمامها بوجوهها في مدة كذا بكذا درهما ليقوم بتعليمه في ‏أوقات التعليم وسلم إليه هذا الابن وعجل له جميع هذه الأجرة ويتم الكتاب، ‏وأزيد من هذا الفصل الذي يليه، هكذا يكتب أهل هذه الصنعة، والصواب أن ‏يكتب استأجره ليقوم عليه مدة كذا في تعليم النسج مثلا على أن أعطاه الولي ‏كل شهر كذا‎.‎

رد المحتار‎ :‎‏(14/6، ط: دار الفكر)‏
اعلم أن أبا حنيفة كان أولا يقول لا يجب شيء من الأجرة ما لم يستوف جميع ‏المنفعة والعمل؛ لأنه المعقود عليه فلا يتوزع الأجر على الأجزاء كالثمن في المبيع ‏ثم رجع فقال: إن وقعت الإجارة على المدة كما في إجارة الدار والأرض أو ‏قطع المسافة كما في الدابة وجب بحصة ما استوفى لو له أجرة معلومة بلا ‏مشقة ففي الدار لكل يوم وفي المسافة لكل مرحلة.‏
والقياس أن يجب في كل ساعة بحسابه تحقيقا للمساواة لكن فيه حرج‎.‎

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 537 Aug 08, 2023
bachay / bachey / talibe ilm / student k school chor jane ki sorat me / mein le gai fees ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.