عنوان: دوسرے شخص کی طرف سے قربانی کرنے کے مختلف احکام (10869-No)

سوال: کسی دوسرے شخص کی طرف سے اس سے رقم لیے بغیر اس کی اجازت سے قربانی کرے تو اس کو اس کے حصے کا گوشت بھی دینا ضروری ہے یا اپنے پاس ہی رکھ سکتے ہیں؟
تنقیح:
اس سوال کے جواب کے لیے یہ وضاحت درکار ہے کہ دوسرے شخص کی قربانی کی ادائیگی کے لیے اپنا پالتو جانور ذبح کیا ہے یا اس کے لیے الگ سے جانور خریدا ہے؟ نیز دوسرے شخص کی طرف سے یہ واجب قربانی تھی یا محض نفلی قربانی تھی؟ اس وضاحت کے بعد ہی آپ کے سوالات کا جواب دیا جاسکے گا۔
جواب تنقیح:
اس کے لئے الگ سے ایک سے بکرا لیا تھا یا اپنے لئے جانور خریدتے وقت اس کو شریک کیا تھا، اور یہ اس کی واجب قربانی تھی۔ نیز تنقیح میں آپ نے جن صورتوں کو بیان کیا ہے ہر ایک صورت کا حکم بتادیں تو آپ کا ممنون و مشکور ہوں گا۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں چونکہ اُس شخص کی اجازت سے اُس کے لئے ایک الگ جانور خرید کر اس کی طرف سے واجب قُربانی کی گئی ہے، لہذا یہ قربانی درست ہے، اور اس صورت میں قربانی کے گوشت کا مالک بھی وہی شخص ہے جس کی طرف سے قربانی کی گئی ہے، نیز چونکہ اس شخص کے لئے اس کی اجازت سے الگ جانور خریدا گیا ہے، لہذا اس پر اس جانور کی قیمت بھی لازم ہوگی، البتہ اگر قربانی کرنے والا شخص یہ قیمت معاف کردے تو یہ بھی درست ہے۔
تنقیح میں ذکر کردہ تمام صورتوں کا حکم درج ذیل ہے:
1) اگر دوسرے شخص کی طرف سے واجب قربانی اس کی اجازت کے بغیر کی جائے تو یہ قربانی سرے سے درست ہی نہیں ہے۔
2) اگر دوسرے شخص کی طرف سے واجب قربانی اس کی اجازت سے کی جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
الف) قربانی کے لئے کوئی جانور الگ سے نہیں خریدا، بلکہ اپنا پالتو جانور ذبح کرے یا اپنے پالتو جانور میں حصہ ڈالے تو یہ قربانی بھی درست نہیں ہے، کیونکہ یہ صورت "ہِبہ" کی ہے اور ’’ہِبہ‘‘ کے درست ہونے کے لئے قبضہ ضروری ہوتا ہے، اور یہاں قبضہ نہیں پایا گیا۔
ب) قربانی کے لئے الگ جانور خریدا، یا جانور خرید کر اس میں حصہ ڈالا تو یہ قربانی درست ہوگی۔ اور اس صورت میں گوشت کا مالک وہی شخص ہوگا جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے، لہذا اسے گوشت پہنچانا ضروری ہے، البتہ اگر وہ گوشت نہ لینا چاہے تو اس کی طرف سے یہ تبرع ہوگا۔ نیز چونکہ جانور اس کی اجازت سے خریدا گیا ہے، اس لیے اس جانور کی قیمت بھی اس شخص پر لازم ہوگی، تاہم اگر قربانی کرنے والا یہ قیمت نہ لینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
3) اگر دوسرے شخص کی طرف سے نفل قربانی کی جائے تو ایسی قربانی ہر صورت میں درست ہوجائے گی، چاہے اس کی اجازت سے ہو یا اس کی اجازت کے بغیر ہو، اور ایسی صورت میں قربانی کے گوشت کا مالک قربانی کرنے والا ہی ہوگا، جس کی طرف سے قربانی کی جائے اس کو گوشت پہنچانا لازم نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوى الهندية: (302/5، ط: دار الفكر)
إذا ضحى بشاة نفسه عن غيره بأمر ذلك الغير أو بغير أمره لا تجوز؛ لأنه لا يمكن تجويز التضحية عن الغير إلا بإثبات الملك لذلك الغير في الشاة، ولن يثبت الملك له في الشاة إلا بالقبض، ولم يوجد قبض الآمر هاهنا لا بنفسه ولا بنائبه، كذا في الذخيرة.
.....ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغارا جاز عنه وعنهم جميعا في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كبارا إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى، وإن فعل بغير أمرهم أو بغير أمر بعضهم لا تجوز عنه ولا عنهم في قولهم جميعا.

احسن الفتاویٰ: (541/7، ط: سعید)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 605 Aug 09, 2023
dousrey / dosray shakhs ki taraf se / say qurbani karne k mukhtalif ehkam

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.