عنوان: ساعت اور گھڑی کا شرعی لحاظ سے تعین(100011-No)

سوال: مفتی صاحب ! پوچھنا یہ تھا کہ ساعت اور گھڑی کا تعین شرعی لحاظ سے کیا ہے؟ جیسے ایک حدیث میں ہے "ان صاحب الشمال لیرفع القلم ست ساعات عن العبد المسلم الخ....تو ساعت سے کتنا وقت مراد ہے؟

جواب: ساعت ! عربی لغت میں تھوڑے سے زمانہ کے لئے بولا جاتا ہے جس کی کوئی خاص تحدید لغت کے اعتبار سے نہیں ہے،
بلکہ ایک خاص مقررہ وقت مراد ہے، جس کی مقدار مختلف مواقع پر مختلف ہوتی ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا
ترجمہ:
یعنی ہم ان کو آگ میں داخل کردیں گے، جب ان کی کھالوں کو جلایا جائیگا الخ_
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا کاغذ کی طرح ان کی کھالیں سفید کردی جائیں گی ۔
اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے اس آیت کے پڑھنے والے کو فرمایا کہ اس آیت کو بار بار پڑھئے اور ان کے پاس حضرت معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) بھی موجود تھے، معاذ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ کیا اس کی تفسیر معلوم ہے؟ اس کی تفسیر یہ ہے کہ ایک ساعت میں سو بار کھال تبدیل کی جائے گی ، حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سنا ہے۔ حسن (رحمہ اللہ) کا قول ہے کہ ایک ساعت میں ستر ہزار بار ان کو آگ کھائے گی ہر مرتبہ حکم ہوگا دوبارہ ویسے ہی ہوجاؤ حسب الحکم وہ جیسے تھے دوبارہ ویسے ہی ہوجائیں گے ۔ ( تفسیر بغوی)

الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ
ترلمہ: یعنی جنہوں نے تنگی کے وقت میں آپ کی اتباع کی، اور مراد اس غزوہ کے تمام اوقات ہیں، اور اس سے اس کی معین ساعت مراد نہیں لی، اور یہ بھی کہا گیا ہے (آیت) ” ساعۃ العسرۃ “ سے مراد وہ شدید ترین ساعت ہے جو اس غزوہ کے دوران ان پر گزری۔ (تفسیر قرطبی)

لہذا اس سے معلوم ہوا کہ ساعت کی کوئی خاص حد متعین نہیں ہے، بلکہ یہ ساعت سیکنڈوں، منٹوں، اور سالوں میں بھی ہوسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی تفسیر البغوی:

قوله تعالى: إن الذين كفروا بآياتنا سوف نصليهم نارا، ندخلهم نارا، كلما نضجت، احترقت، جلودهم بدلناهم جلودا غيرها، غير الجلود المحترقة، قال ابن عباس رضي الله عنهما: يبدلون جلودا بيضا كأمثال القراطيس.
وروي أن هذه الآية قرئت عند عمر رضي الله عنه، فقال عمر رضي الله عنه للقارئ: أعدها فأعادها، وكان عنده معاذ بن جبل، فقال معاذ: عندي تفسيرها «تبدل في كل ساعة مائة مرة» ، فقال عمر رضي الله عنه: هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال الحسن: تأكلهم النار كل يوم سبعين ألف مرة كلما أكلتهم قيل لهم:
عودوا فيعودون كما كانوا.

(ج:1،ص:647،ط:دار احیاء التراث العربی)

وفی تفسیر القرطبی:

قوله تعالى: (الذين اتبعوه في ساعة العسرة) أي في وقت العسرة، والمراد جميع أوقات تلك الغزاة ولم يرد ساعة بعينها. وقيل: ساعة العسرة أشد الساعات التي مرت بهم في تلك الغزاة.

(ج:8،ص:278،ط:دار الکتب المصریۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
Print Views: 469
Sa'at or ghari ka sharai lihaz se ta'ayun Saat tayun taayon, Determining the hour and moment according to Shari'ah

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com