عنوان: ٹریول ایجنسی والوں کا مجہول اجرت لینا(11009-No)

سوال: ایجنسی والے لوگوں کو عمرہ کے لیے بھیجتے ہیں جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ 80 ہزار روپے یکمشت اور 8 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے ہوتے ہیں اور جس دن بھیجتے ہیں تو اس دن کی قیمت سے 30 ہزار روپے اضافی لیتے ہیں۔ نیز مجموعی رقم پہلے سے متعین نہیں ہے تو کیا ایجنسی والوں کا یہ طریقہ کار درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں
تنقیح :محترم اس سوال کے جواب کے لیے اس معاملے کی مکمل وضاحت کریں کہ کس چیز کی قیمت سے 30 ہزار اضافی لیتے ہیں؟ اور یہ کہ پیشگی رقم کسی معاہدے کے تحت لیتے ہیں، یا کس حیثیت سے لیتے ہیں؟ اس وضاحت کے بعد ہی آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے گا۔
جواب تنقیح:عقد کے وقت عمرہ کی قیمت متعین نہیں ہوتی، بلکہ عقد کے وقت یہ بات ہوتی ہے کہ جس دن عمرہ کے لیے ہم آپ کو بھیجیں گے، اس دن عمرے کی جو قیمت ہوگی اس سے 30 ہزار اضافی لیں گے مثلا: اگر اس دن عمرہ کی قیمت چار لاکھ ہے تو ہم چار لاکھ تیس ہزار ادا کریں گے، چونکہ یہ ادائیگی قسطوں کے ساتھ ہوتی ہے (کہ 80 ہزار یکمشت اور پھر ہر مہینے کو 8 ہزار ادا کریں گے) اس وجہ سے 30 ہزار روپے اضافی لیتے ہیں۔

جواب: سوال میں ذکر کردہ ٹریول ایجنسی کی یہ صورت کمیشن کی صورت ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ گاہک سے وعدہ کیا جائے کہ رقم جمع کرواتے رہو، جب وہ رقم اتنی ہوجائے گی جس سے عمرہ ہوسکے تو ہم آپ کے لیے ٹکٹ، ویزہ اور ہوٹلنگ وغیرہ (مکمل پیکج) کا انتظام کریں گے، اور ان ساری خدمات کے عوض آپ سے تیس ہزار روپے بطورِ کمیشن وصول کریں گے تو کمیشن کی یہ صورت جائز ہے، لیکن اس میں یہ شرط ہے کہ ابتداء میں صرف وعدہ کیا جاتا ہو، باقاعدہ کوئی عقد نہ کیا جائے، اور پھر جب گاہک کے پیسے پورے ہونے کے بعد وہ عملاً پیکج لے تو اس وقت باقاعدہ عقد کیا جائے، نیز ایسی صورت میں گاہک سے تیس ہزار کے علاوہ صرف حقیقی اخراجات ہی وصول کیے جائیں، اس سے زیادہ رقم وصول نہ کی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (560/4، ط: دار الفكر)

وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 323 Sep 06, 2023
travel agency walo ka majhol ujrat lena

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.