عنوان: بیوی کا الگ گھر کا مطالبہ کرنا اور نامحرم عامل سے علاج کرانا(11097-No)

سوال: مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:
1) ہمارے شادی کو ایک سال ہوگیا ہے، بیوی میکے میں رہائش پذیر ہے، جبکہ میرا پانچ مہینے کا بچہ بھی اسی کے ساتھ ہی ہے اور وہاں ایک عامل (نامحرم مرد کسی بھی قسم کا کوئی رشتہ نہیں لگتا) کا مستقل آنا جانا رہتا ہے جومجھے (شوہر) ناپسند ہے، اس لیے شادی سے پہلے بیوی کو منع کیا گیا تھا کہ اس سے پردہ کریں، اس کے سامنے نہ جائے اور اس کے سامنے سے نہ گزرے، جبکہ "سسرال والے (ساس ، سالیاں) اس عامل کے سامنے ایسے بیٹھتے ہیں جیسے وہ اپنے سگا چچا ہو۔
اب بیوی میکے میں رہتی ہوئے ساس نے اس عامل سے تعویذ دلاکر اپنی بیٹی کے گلے میں ڈال دیا اور کہا کہ جسم میں جلن ہو رہی ہے۔ اب بیوی اس عامل کے سامنے بیٹھتي ہي جو کہ شوہر کو بالکل برداشت نہیں اور شوہر کی مرضی سسرال والوں کو برداشت نہیں۔ قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں شوہر کی اطاعت ضروری ہے یا والدین کی؟
2) سسرال والوں نے میکے میں بیوی کو داماد سے الگ گھر کا مطالبہ کرنے کے لیے بٹھایا ہوا ہے، نیز کیا نومولود بچے کو اپنے والدین سے ملنے اور ملاقات کرنے سے سسرال والے روک سکتے ہیں؟
جبکہ صورت حال یہ ہے کہ بیوی میکے میں رہائش پذیر ہے اور نو مولود بچہ بھی ساتھ ہے، لیکن شوہر اپنے پاس اپنے گھر میں بچے کو دیکھنے کے لیے کسی کے ذریعے بیوی سے مانگتا ہے اور اس صورت میں سسرال والوں کا یہ کہنا کہ جب تک ہماری بیٹی ( شوہر کی بیوی) اپنے سسرال نہ چلی جائے ،تب تک بچے کو اپنے والد سے ملنے نہیں دینا، کیا یہ پیغام بیجھنا درست ہے؟
3) بیٹی کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور بچے کو بھی، مجھے یہ زیادتی برداشت کرنے کا تحمل نہیں ہے، اب کوئی راستہ بتادیں کہ کیا سسر کے اس رویہ پر کوئی قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے؟

جواب: 1) علماء نے عملیات کے جائز ہونے کے لئے تین بنیادی شرائط بیان کیں ہیں:
١) عمل کسی جائز مقصد کے لیے ہو، ناجائز مقصد کے لیے ہرگز نہ ہو۔
٢) عامل اور مریض کا عقیدہ درست ہو، یعنی اس عمل کو مؤثر بالذات نہ سمجھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کو ہی اصل شفا دینے والا سمجھے۔
٣) عمل اور کلام جائز مضمون پر مشتمل ہو، اس میں کسی قسم کے کفر و شرک یا گناہ کی بات نہ ہو۔
پوچھی گئی صورت میں اگر علاج مذکورہ شرائط کے مطابق ہورہا ہو تو اس کی اجازت ہے، لیکن عامل سے پردہ نہ کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے آپ کی بیوی کو چاہیے کہ شریعت کے حکم کے مطابق مذکورہ نامحرم عامل سے پردہ کرے اور اس کے سامنے بے پردگی سے مکمل اجتناب کرے۔
2) شریعت اسلامی میں شوہر پر اپنی بیوی کی رہائش کے لئے ایسا الگ مقفل کمرہ، باورچی خانہ اور بیت الخلاء کا انتظام کرنا ضروری ہے، جس میں کسی دوسرے کا عمل دخل نہ ہو، لہذا شوہر کو چاہئے کہ بیوی کے لیے مذکورہ شرائط کے مطابق رہائش کا انتظام کرے، اور اگر شوہر نے بیوی کے لیے اس قسم کی الگ رہائش کا انتظام کرلیا ہو تو پھر بیوی کا الگ گھر کا مطالبہ کرنا۔اور اس کے لیے میکے میں جاکر بیٹھ جانا اور شوہر کو بچے سے نہ ملنے دینا جائز نہیں ہے۔
3) قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو اپنے باہمی مسائل حل کرنے کے لیے "تحکیم" کا حکم دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میاں اور بیوی کے خاندان سے چند ذی رائے آدمیوں کو بٹھا کر ان سے فیصلہ کروا لیا جائے، اور پھر دونوں میاں بیوی اس کے مطابق عمل کرکے باہمی تنازعہ کو ختم کردیں، میاں بیوی کے آپس کے معاملات کو عدالت لے کر جانا اور سب کے سامنے ایک دوسرے کی برائی کرنا پسندیدہ عمل نہیں ہے، اس سے حتی الامکان بچنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (الاحزاب، الایة: 59)
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا o

و قوله تعالی: (النساء، الایة: 35)
وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُواْ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِۦ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصْلَٰحًا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيْنَهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا o

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 2200، ط: دار احیاء التراث العربی)
عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كنا نرقي في الجاهلية، فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال: اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك.

الدر المختار: (600/3، ط: دار الفکر)
بيت منفرد من دار له غلق زاد في الاختيار والعيني ومرافق ومراده لزوم كنيف ومطبخ وينبغي الإفتاء به.

الفتاویٰ الھندیة: (535/1، ط: مکتبة رشیدیة)
الولد متى كان عند أحد الأبوين لايمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده، كذا في التتارخانية ناقلاً عن الحاوي.

الفقه الاسلامی و أدلته: (7320/10، ط: دار الفکر)
قال الحنفية : إذا كان الولد عند الحاضنة، فلأبيه حق رؤيته، بأن تخرج الصغير إلى مكان يمكن الأب أن يراه فيه كل يوم. وإذا كان الولد عند أبيه لسقوط حق الأم في الحضانة، أو لانتهاء مدة الحضانة، فلأمه رؤيته، بأن يخرجه إلى مكان يمكنها أن تبصر ولدها، كل يوم. والحد الأقصى كل أسبوع مرة كحق المرأة في زيارة أبويها۔

رد المحتار: (600/3، ط: دار الفکر)
قوله ( وفي البحر عن الخانية ) عبارة الخانية فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لهاأن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمه أحد من أحماء الزوج يؤذيها ا ه
قال المصنف في شرحه فهم شيخنا أن قوله ثمه إشارة للدار لا البيت لكن في البزازية أبت أن تسكن مع أحماء الزوج وفي الدار بيوت إن فرغ لها بيتا له غلق على حدة وليس فيه أحد منهم لا تمكن من مطالبته ببيت آخر

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 338 Sep 25, 2023
biwi ka alag ghar ka mutalba krna or na mehram amil se elaj karana

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.