عنوان: بیوی کا شوہر کے والدین سے الگ رہنے کا مطالبہ کرنا(11220-No)

سوال: میری شادی آج سے تین سال پہلے ہوئی ہے، شادی کے فورا بعد ہم دونوں میں لڑائی ہوئی، جس میں میری بیوی کا ہاتھ بھی فریکچر ہوا ہے، اس کے بعد خیر ہمارا تجدید نکاح ہوا، لیکن ہمارے درمیان پھر بھی لڑائی رہی۔ وجہ یہ ہے کہ میرے گھر میں والدین اور ایک بہن اور ان کی بیٹی رہتی ہے، میں ان کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا، کیونکہ والد صاحب کی عمر زیادہ ہے، اور بہن واپس آئی ہے، جبکہ بیوی بضد ہے کہ مجھے ان سے الگ رکھو اور دو سال سے اپنے گھر پر بیٹھی ہے، ایسے میں مجھ سے ایک مرتبہ غلط کام بھی سر زد ہوا، جس پر میں اللہ سے معافی بھی مانگی ہے، میں بہت پریشان ہو میں کیا کروں؟ میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب: صورتِ مذکورہ میں اولاً آپ خاندان کے معتبر لوگوں کے ذریعے اپنی بیوی کو راضی کرکے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں کہ وہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے علیحدہ گھر کے مطالبہ کے بجائے اسی گھر میں آپ کے والدین اور بہن کو اپنے والدین اور بہن سمجھ کر اخلاقاً ان کے ساتھ رہے، اور ایک بہو اور بیٹی ہونے کے ناطے جتنا ہوسکے، آپ کے والدین کی اخلاقاً خدمت کرتی رہے، اور ساتھ ہی مناسب طریقے سے آپ کے والدین اور بہن کو سمجھایا جائے کہ وہ بھی آپ کی بیوی کو اپنی بیٹی اور بہن سمجھ کر اس کے ساتھ زندگی گزاریں، اور اگر کسی کی طرف سے کوئی سخت بات بھی ہوجائے تو ایک بیٹی اور والدین ہونے کے ناطے ایک دوسرے کو معاف کیا جائے، یقیناً اس رویہ کو اپنانے سے آپ کا گھر معاشرے میں ایک بے مثال گھرانہ بن جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ ہر ایک اخروی طور پر بڑے اجر کا بھی مستحق ہوگا۔
تاہم اس طرح سے کوشش کے باوجود اگر پھر بھی معاملہ حل نہ ہو، اور بیوی الگ رہنے پر بضد رہے تو وہ الگ رہنے کے مطالبہ میں حق بجانب ہوگی، اور کم از کم اس کے لیے ایک ایسا کمرہ، کچن اور بیت الخلاء کا انتظام کرنا آپ پر لازم ہوگا، جس میں کسی دوسرے کا اشتراک اور عمل دخل نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (النساء، الآية: 35)
وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا o

بدائع الصنائع: (23/4، ط: دار الکتاب الاسلامی)
ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر.

رد المحتار: (601/3، ط: دارالفكر بيروت)
قلت: والحاصل أن المشهور وهو المتبادر من إطلاق المتون أنه يكفيها بيت له غلق من دار سواء كان في الدار ضرتها أو أحماؤها. وعلى ما فهمه في البحر من عبارة الخانية وارتضاه المصنف في شرحه لا يكفي ذلك إذا كان في الدار أحد من أحمائها يؤذيها، وكذا الضرة بالأولى. وعلى ما نقله المصنف عن ملتقط صدر الإسلام يكفي مع الأحماء لا مع الضرة، وعلى ما نقلنا عن ملتقط أبي القاسم وتجنيسه للأسروشني أن ذلك يختلف باختلاف الناس، ففي الشريفة ذات اليسار لا بد من إفرادها في دار، ومتوسط الحال يكفيها بيت واحد من دار. ومفهومه أن من كانت من ذوات الإعسار يكفيها بيت ولو مع أحمائها وضرتها كأكثر الأعراب وأهل القرى وفقراء المدن الذين يسكنون في الأحواش والربوع، وهذا التفصيل هو الموافق، لما مر من أن المسكن يعتبر بقدر حالهما، ولقوله تعالى - {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: ٦]- وينبغي اعتماده في زماننا هذا فقد مر أن الطعام والكسوة يختلفان باختلاف الزمان والمكان، وأهل بلادنا الشامية لا يسكنون في بيت من دار مشتملة على أجانب، وهذا في أوساطهم فضلا عن أشرافهم إلا أن تكون دارا موروثة بين إخوة مثلا، فيسكن كل منهم في جهة منها مع الاشتراك في مرافقها، فإذا تضررت زوجة أحدهم من أحمائها أو ضرتها وأراد زوجها إسكانها في بيت منفرد من دار لجماعة أجانب وفي البيت مطبخ وخلاء يعدون ذلك من أعظم العار عليهم، فينبغي الإفتاء بلزوم دار من بابها، نعم ينبغي أن لا يلزمه إسكانها في دار واسعة كدار أبيها أو كداره التي هو ساكن فيها؛ لأن كثيرا من الأوساط والأشراف يسكنون الدار الصغيرة، وهذا موافق لما قدمناه عن الملتقط من قوله اعتبارا في السكنى بالمعروف،إذ لا شك أن المعروف يختلف باختلاف الزمان والمكان، فعلى المفتي أن ينظر إلى حال أهل زمانه وبلده، إذ بدون ذلك لا تحصل المعاشرة بالمعروف، وقد قال تعالى - {ولا تضاروهن لتضيقوا عليهن} [الطلاق: ٦]-.

فتاویٰ عثمانی: (487/2، ط: مکتبة معارف القرآن)

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 535 Oct 19, 2023
biwi ka shohar k waldain se alag rehne ka mutalba karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.