عنوان: قرآن شریف کی آیت "وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ" کی تفسیر(12306-No)

سوال: میں قرآن کی آیت "وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (سورة النور، الایة:31) میں مذکور 'چھپی ہوئی زینت' کے معنی کے بارے میں الجھن میں ہوں۔ کیا اس سے مراد وہ زیور ہیں جو عبایا سے چھپائے جاتے ہیں یا جسم کے ان خوبصورت اعضاء کو کہتے ہیں جو لباس (بال اور سینہ) سے پوشیدہ ہوتے ہیں؟

جواب: اس آیت میں "وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ" سے مراد مواقع زینت ہیں، یعنی وہ اعضاء ہیں جن پر زینت کی چیزیں (یعنی زیور وغیرہ) پہنی جاتی ہیں، اور "إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا" میں ان اعضاء کا استثناء ہے جو شرعاً اور عادتاً ظاہر اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں، جیسے انگلیاں جن پر انگوٹھی پہنی جاتی ہے یا آنکھیں جن میں سرمہ لگایا جاتا ہے تو ایسے اعضاء کو چھپانا فرض نہیں ہے۔
لیکن جن اعضاء کو شرعا چھپانا ضروری ہے، ان اعضاء پر زیور پہنا ہوا ہو تو ان کو اس زینت کے ساتھ ظاہر کرنا بدرجہ اولیٰ ناجائز ہے، جیسے کلائیاں جن میں چوڑیاں اور کنگن پہنے ہوں یا کان اور ناک جن میں بالیاں اور پِن وغیرہ پہنی ہوئی ہوں یا گلا جس میں ہار، چین یا لاکٹ وغیرہ پہنا ہوا ہو، اسی طرح سر اور سر کے بال وغیرہ، ایسے اعضاء کو ظاہر کرنا "وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ" کی رو سے ناجائز اور حرام ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تفسير روح المعاني للالوسي: (335/9، ط: دار الكتب العلمية)
وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ أي ما يتزين به من الحلي ونحوه إِلَّا ما ظَهَرَ مِنْها أي إلا ما جرت العادة والجبلة على ظهوره والأصل فيه الظهور كالخاتم والفتخة والكحل والخضاب فلا مؤاخذة في إبدائه للأجانب وإنما المؤاخذة في إبداء ما خفي من الزينة كالسوار والخلخال والدملج والقلادة والإكليل والوشاح والقرط.
وذكر الزينة دون مواقعها للمبالغة في الأمر بالتستر لأن هذه الزين واقعة على مواضع من الجسد لا يحل النظر إليها إلا لمن استثني في الآية بعد وهي الذراع والساق والعضد والعنق والرأس والصدر والأذن فنهى عن إبداء الزين نفسها ليعلم أن النظر إذا لم يحل إليها لملابستها تلك المواقع بدليل أن النظر إليها غير ملابسة لها كالنظر إلى سوار امرأة يباع في السوق لا مقال في حله كان النظر إلى المواقع أنفسها متمكنا في الخطر ثابت القدم في الحرمة شاهدا على أن النساء حقهن أن يحتطن في سترها ويتقين الله تعالى في الكشف عنها كذا في الكشاف۔

معارف القرآن: (سورۃ النور آیت نمبر: 31)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 399 Nov 10, 2023
quran shareef ki ayat "وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ" ki tafseer

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.