عنوان: وقت کی بنیاد پر ملازمین (Time based employees) کی تنخواہ کا کچھ حصہ اہداف کے ساتھ مشروط کرنا(13384-No)

سوال: کیا ایسا کیا جا سکتا ہے کہ ایمپلائی کی تنخواہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے، مثلاً تیس فیصد تنخواہ وقت پہ دفتر آنے جانے میں دی جائے اور ستر فیصد تنخواہ اہداف کے حصول کے لیے دی جائے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب: جن ملازمین کے ساتھ وقت کی بنیاد پر تنخواہ دینے کا معاہدہ کر لیا گیا ہو، دوران معاہدہ ان کی تنخواہ میں سے کچھ حصہ اہداف کے حصول کے ساتھ مشروط کرنا بظاہر طے شدہ معاہدہ کی خلاف ورزی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں ہوگا، تاہم ان کے وقت کو معیاری بنانے کیلئے جائز تنبیہی کاروائی کی جاسکتی ہے، نیز طے شدہ تنخواہ کے علاوہ اضافی بونسز (Bonuses) یا ترقی وغیرہ روکی جاسکتی ہے۔
البتہ نئے ملازمین (یا جن کے ساتھ مخصوص مدت جیسے سال وغیرہ کے بعد نیا معاہدہ ہونا طے ہو تو ان) کے ساتھ معاہدہ کرتے وقت یہ بات طے کی جاسکتی ہے کہ طے شدہ وقت پورا دینے کے عوض اتنی تنخواہ دی جائے گی، اور اہداف کے حصول کی صورت میں اتنی رقم دی جائے گی۔ ملازم جتنا وقت کم دے گا، اس کے بقدر تنخواہ سے کٹوتی کی جاسکتی ہے، اور اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں اہداف کے عوض طے شدہ رقم کی کٹوتی کی جاسکے گی، ایسی صورت میں اصل معاہدہ وقت کی بنیاد پر ہوگا، جبکہ تبعاً عمل (اہداف) کو بھی شامل ہوگا، ایسا معاہدہ کرنا شرعاً درست ہوگا، بشرطیکہ کسی جائز ملکی قانون کی خلاف ورزی لازم نہ آتی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

روح المعانی: (73/4، ط: زکریا)
"یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ" " : أن المراد بها ما يعم جميع ما ألزمه الله تعالى عباده وعقد عليهم من التكاليف والأحكام الدينية، وما يعقدونه فيما بينهم من عقود الأمانات والمعاملات ونحوهما مما يجب الوفاء به، أو يحسن دينا، ويحمل الأمر على مطلق الطلب ندبا أو وجوبا، ويدخل في ذلك اجتناب المحرمات والمكروهات لأنه أوفق بعموم اللفظ

المبسوط للسرخسی: (162/15، ط: دار المعرفة)
وَإِذَا اسْتَأْجَرَ رَاعِيًا شَهْرًا لِيَرْعَى لَهُ فَأَرَادَ الرَّاعِي أَنْ يَرْعَى لِغَيْرِهِ بِأَجْرٍ فَلِرَبِّ الْغَنَمِ أَنْ يَمْنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ بَدَأَ بِذِكْرِ الْمُدَّةِ وَذَكَرَ الْمُدَّةَ لِتَقْدِيرِ الْمَنْفَعَةِ فِيهِ فَتَبَيَّنَ أَنَّ الْمَعْقُودَ عَلَيْهِ مَنَافِعُهُ فَيَكُونُ أَجِيرًا لَهُ خَاصًّا فَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ رَبُّ الْغَنَمِ بِمَا فَعَلَهُ حَتَّى رَعَى لِغَيْرِهِ فَلَهُ الْأَجْرُ عَلَى الثَّانِي وَيَطِيبُ لَهُ ذَلِكَ وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْأَوَّلِ شَيْءٌ؛ لِأَنَّهُ قَدْ حَصَلَ مَقْصُودُ الْأَوَّلِ بِكَمَالِهِ وَتَحَمَّلَ زِيَادَةَ مَشَقَّةٍ فِي الرَّعْيِ لِغَيْرِهِ فَمَا يَأْخُذُ مِنْ الثَّانِي عِوَضَ عَمَلِهِ فَيَكُونُ طَيِّبًا لَهُ وَقَدْ تَقَدَّمَ نَظِيرُهُ فِي الظِّئْرِ وَلَوْ كَانَ يَبْطُلُ مِنْ الشَّهْرِ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ لَا يَرْعَاهَا حُوسِبَ بِذَلِكَ مِنْ أَجْرِهِ سَوَاءٌ كَانَ مِنْ مَرَضٍ أَوْ بَطَالَةٍ؛ لِأَنَّهُ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ بِتَسْلِيمِ مَنَافِعِهِ، وَذَلِكَ يَنْعَدِمُ فِي مُدَّةِ الْبَطَالَةِ سَوَاءٌ كَانَ بِعُذْرٍ أَوْ بِغَيْرِ عُذْرٍ.

الفتاوی الھندیة: (499/4، ط: دار الفکر)
والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر۔

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 237 Dec 04, 2023
waqt ki bunyad per mulazmeen ki tankhwah ki kuch hissa ahdaf k sath mashrot karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.