عنوان: جلسہ کیلئے دکانداروں سے مخصوص رقم لینا(13394-No)

سوال: معاملہ یہ ہے کہ ہمارے علاقہ میں دستاربندی اور اصلاحی جلسوں میں بہت ساری دکانیں لگتی ہیں اور جلسہ کمیٹی ہر دکان دار سے جلسہ کے لئے پیسہ بھی لیتی ہے اور معاملہ کو خوش گوار رکھنے کے لیے ایک دو آدمیوں کو متعین بھی کر دیتی ہے۔ اب حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ پان کے دکانداروں میں سے کسی ایک دکاندار سے اس شرط پر بہت زیادہ پیسے لے لیتے ہیں کہ اس دکاندار کےعلاوہ کسی دوسرے پان کے دکاندار کو اس جلسہ گاہ میں دکان نہیں دی جائے گا،کیا یہ کام صحیح ہے؟ کیونکہ مذکورہ طریقہ پر جلسہ کرنے والے مدرسہ یا مسجد کو زیادہ پیسہ ملتا ہے۔
اس کی صورت یہ ہے کہ اگر پان کے دس دکان ہوں گیں اور ہر ایک دکاندار سے ایک سو (100) روپیہ کرکے لیا گیا تو صرف ایک ہزار (1000) ہی ملے گا، جبکہ ایک ہی دکان سے تین ہزار (3000) یا چار (4000) مل رہا ہے تو جلسہ کو زیادہ نفع ہو رہا ہے، جبکہ محلہ کے دکاندار بھی دکان دینا چاہتے ہیں اور دور کے دکانداروں کو بھی دکان لے کر آنے کے بعد واپس جانا پڑتا ہیں اور بہت سارے لوگ ناراض بھی ہوتے ہیں، جبکہ اس قسم کے دکان کے علاوہ ہر قسم کے دکان سب کو دینے کی اجازت رہتی ہے۔اب جاننا یہ تھا کہ اس طریقہ پر جلسہ کے لئے پیسہ لینا کیسا ہے؟ اور دکاندار کے لئے اس طرح کمانا کیسا ہے؟
کیا اس طرح کمانے میں سب دکانداروں کا حق کھانا لازم آتا ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر دکانیں لگانے کی جگہ جلسہ کمیٹی/مدرسہ کی اپنی ہو تو ایسی صورت میں وہاں دکان لگانے کے عوض دکانداروں سے باہمی رضامندی کے ساتھ طے شدہ کرایہ وصول کرنا شرعاً جائز ہے، نیز کمیٹی کو شرعا اختیار ہے کہ وہ کسی وجہ سے کسی دکاندار کو اپنی جگہ پر دکان لگانے سے منع کردے۔
لیکن اگر دکانوں کی جگہ جلسہ کمیٹی/مدرسہ کی اپنی نہ ہو تو ایسی صورت میں جلسہ کمیٹی کا کسی دکاندار کو دکان لگانے سے منع کرنا درست نہیں ہوگا، نیز ایسی صورت میں دکانداروں سے کرایہ کی مد میں پیسے لینا بھی جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر جلسہ کمیٹی کی طرف سے دکانداروں کیلئے کوئی خدمات مثلا: سامان کی حفاظت، نظم و ضبط کیلئے انتظامات وغیرہ فراہم کی گئی ہوں تو ایسی صورت میں اپنی جائز خدمات کے عوض باہمی رضامندی سے طے شدہ اجرت لینا درست ہوگا۔
واضح رہے کہ جلسہ کے انعقاد کیلئے چندہ کرنا جائز ہے، البتہ متعین رقم طے کرکے دکانداروں پر چندہ لازم نہ کیا جائے، بلکہ اختیاری معاملہ ہو کہ جو دکاندار اپنی صوابدید کے مطابق جتنی رقم دینا چاہے، دے سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

التفسير المظهري (209/1، ط: مکتبة الرشيدیة)
ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل كالدعوى الزور والشهادة بالزور او الحلف بعد إنكار الحق او الغصب والنهب والسرقة والخيانة او القمار واجرة المغني ومهر البغي وحلوان الكاهن وعسب التيس والعقود الفاسدة او الرشوة وغير ذلك من الوجوه التى لا يبیحه الشرع.

مسند أحمد: (رقم الحدیث: 20715، ط: مؤسس قرطبة، القاھرۃ)
عن أبی حمزۃ الرقاشی عن عمه قال: کنت آخذا بزمام ناقة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و سلم فی أوسط أیام التشریق أذود عنه الناس ، فقال: "یا أیها الناس ! ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا یحل مال امرء إلا بطیب نفس منه"

الهداية في شرح بداية المبتدي: (3/ 230، ط: دار إحياء التراث العربي)‏
‏"الإجارة: عقد على المنافع بعوض" لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع‎…‎‏"ولا ‏تصح حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة"‏‎…..‎‏ "الأجرة لا تجب بالعقد ‏وتستحق بأحد معان ثلاثة: إما بشرط التعجيل، أو بالتعجيل من غير شرط، ‏أو باستيفاء المعقود عليه"

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 140 Dec 06, 2023
jalsa ke liye dukandaron se makhsoos raqam lena

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.