عنوان: شادی کے موقع پر لڑکی والوں کا لڑکے والوں سے جہیز کے لیے رقم مانگنا (13438-No)

سوال: مفتی صاحب! ہمارے علاقہ میں شادی کے موقع پر لڑکی والے لڑکے والوں سے جہیز کے پیسے مانگتے ہیں، کیا لڑکی والوں کا لڑکے والوں سے جہیز کے لیے پیسے لینا جائز ہے؟

جواب: واضح رہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو اپنے ماں باپ کی طرف سے جو گھر گرہستی کا سامان اور تحائف دیے جاتے ہیں، اسے "جہیز" کہا جاتا ہے۔ اگر والدین بغیر کسی دباؤ کے اپنی وسعت کے مطابق نام و نمود اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے اپنی بیٹی کو جہیز دیں تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
لیکن یہ تحائف اور سامان (جہیز) لڑکی والوں پر لازم نہیں ہیں، لہذا محض جہیز کی رسم کو پورا کرنے کے لیے لڑکی والوں کا لڑکے والوں سے جہیز کے لیے رقم مانگنا بھی درست نہیں ہے۔
البتہ چونکہ گھر کی ضروریات فراہم کرنے کی اصل ذمہ داری شادی کے بعد لڑکے پر ہی عائد ہوتی ہے، چنانچہ اگر وہ اپنی اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کے لیے لڑکی والوں کے مطالبے کے بغیر خود سے جہیز کے ضروری سامان کی خریداری کے لیے کوئی رقم دے تو اسے لے کر گھر کے ضروری سامان کی خریداری میں خرچ کرنا جائز ہے۔
تاہم لڑکے والوں کی طرف سے دی جانے والی رقم سے متعلق تعیین کروا لینی چاہیے کہ آیا یہ ان کی طرف سے لڑکی کو ہدیہ (Gift) ہے یا لڑکی کے والد کے ساتھ تعاون ہے یا یہ سامان لڑکے کے لیے خریدا جا رہا ہے، نیز اس خریداری میں یہ بات بھی ضرور مد نظر رکھنی چاہیے کہ یہ محض جہیز کی رسم پوری کرنے کے لیے نہ ہو، نیز نام و نمود اور بے جا اسراف سے بھی اجتناب کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (584/3، ط: دار الفکر)
"قوله ( وفي البحر الخ ) وعبارته والحاصل أن المرأة ليس عليها إلا تسليم نفسها في بيته وعليه لها جميع ما يكفيها بحسب حالها من أكل وشرب ولبس وفرش".

الفتاوى الھندیة: (327/1، ط: رشیدیة)
"وإذا بعث الزوج إلی أہل زوجتہ أشیاء عند زفافہا منہا دیباج، فلما زفت إلیہ أراد أن یسترد من المرأۃ الدیباج لیس لہ ذلک، إذا بعث إلیہا علی جہۃ التملیک - إلی قولہ - وقال في الواقعات: إن کان العرف ظاہراً بمثلہ في الجہاز کما في دیارنا، فالقول قول الزوج، وإن کان مشترکا، فالقول قول الأب".

الموسوعة الفقھیة الکویتیة: (166/16، ط: دار السلاسل)
"ذهب جمهور الفقهاء إلى أنه لا يجب على المرأة أن تتجهز بمهرها أو بشيء منه، وعلى الزوج أن يعد لها المنزل بكل ما يحتاج إليه ليكون سكنا شرعيا لائقا بهما. وإذا تجهزت بنفسها أو جهزها ذووها فالجهاز ملك لها خاص بها".

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 202 Dec 18, 2023
shadi kay moqa per larki walo ka larkay walo se jahaiz ke liye raqam mangna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.