عنوان: بیوی کو آزاد خیالی کے ارادے سے "آزاد" کہنے سے طلاق کا حکم(13497-No)

سوال: ایک دن میں گھر آیا تو حسب معمول بیوی سے مذاق وغیرہ کیا تو کسی بات پر وہ ناراض ہو کر ہمارے دوسرے گھر جانے لگی، میں نے منع کیا پر وہ چلی گئی، میں بھی پیچھے پیچھے دوسرے گھر چلا گیا، وہاں ہم نے کھانا کھایا، میں نے سمجھاتے ہوئے ناراضگی کا ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جو لڑکی گھر سے قدم باہر نکالتی ہے، وہ آزاد ہوتی ہے، یہ اچھا نہیں کیا (آزاد خیال والا آزاد) پھر ماحول سارا ٹھنڈا ہو گیا، مگر میں ناراضگی دکھا رہا تھا، پھر انہوں نے کپڑے دھونے کے لیے لفافے میں ڈالے، ہم جانے لگیں تو وہ دروازے میں کھڑی ہو کر منانے لگ گئی، میں نے پھر اعتدال ٹھنڈے لہجے میں وہ ہی بات دہرائی کہ آزاد ہو جو دل ہے کرو، ذہن میں آزاد خیال والا آزاد تھا حلفاً کہہ رہا ہوں، انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہتے، دوبارہ کہو میں نے پھر کہہ دیا اور اور پھر کمرے سے نکل کر ہم دوسرے گھر آ گئے، سب معمول کے مطابق ہو گیا، قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلفاً اور کلمہ پڑھ کر کہہ رہا ہوں کہ میرے دل میں وہ والا آزاد دور دور تک نہیں تھا، بعد میں پتہ لگا کہ آزاد لفظ اتنا خطرناک ہے، نہ میری نیت چھوڑنے کی تھی، آزاد کا لفظ آزاد خیال یا خود مختیار کے معنی میں تھا۔ اس بارے میں رہنمائی کی درخواست ہے۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں لفظِ "آزاد" سے اگر شوہر کا مقصد نکاح سے آزاد کرنا نہیں تھا، بلکہ آزاد خیالی مراد تھی، جیسا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہورہا ہے تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی، اور نکاح حسبِ سابق قائم ہے، تاہم شوہر کو چاہیے کہ آئندہ ایسے الفاظ کہنے سے اجتناب کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (299/3، ط: دار الفکر)
قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اه وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي۔

کذا في فتاویٰ دار العلوم کراتشی: رقم الفتوی: 1388/ 34

کذا في فتاویٰ دار العلوم دیوبند: رقم الفتوی: 63306

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 322 Dec 29, 2023
biwi ko azad khayal ke irade se "azad" kehne se talaq ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.