عنوان: دوسری بیوی سے نکاح کے لئے پہلی بیوی کا جعلی طلاق نامہ بنوانا، نیز جعلی طلاق نامہ بنوانے کی صورت میں طلاق کا حکم (14643-No)

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ میری پہلے ایک بیوی ہے اور میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن جس جگہ دوسری لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہوں، اس لڑکی اور ان کے والد اور والدہ کی شرط ہے کہ اس لڑکی سے نکاح کرنے کے لیے آپ پہلی والی بیوی کو طلاق دوگے۔ اگر میں جعلی پیپر کسی اور بندے سے بنواؤں اور اس پیپر میں یہ لکھوں کہ میں فلاں کی بیٹی کو جو میری بیوی ہے، میں اس کو طلاق طلاق طلاق دے چکا ہوں اور دل میں نہیں ہو کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہوں اور اس پیپر کو پھر جس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہوں، اس کے والدین کو دے دوں اور ان سے کہوں کہ میں نے پہلی بیوی کو چھوڑ دیا ہے اور اس پیپر پر دستخط بھی کردوں تو کیا ایسا کرنے سے پہلی بیوی کو طلاق ہو جائے گی؟

جواب: ایک نکاح کے ہوتے ہوئے کسی دوسری عورت سے نکاح کرنا جائز ہے، لیکن نکاحِ ثانی کے بعد دونوں بیویوں میں برابری کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا واجب ہے، جبکہ جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں، ان سے بچنا اور سچ کو لازم پکڑنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، نیز دوسری بیوی سے جھوٹ بولنے کے بعد آپ کے لیے پہلی بیوی کے حقوق خاص کر رات گزارنے کا حق ادا کرنا ممکن نہیں رہے گا، لہذا آپ کو جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
مذکورہ بالا سوال پر مستفتی کا اعتراض اور اس کا جواب
میں اس جواب سے مطمئن نہیں ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنے سے میری پہلی بیوی طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟ کیونکہ میں نے ایسا کام کیا ہے جو میں نے آپ سے شیئر کیا ہے۔ شکریہ
تنقیح:
محترم! آپ اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ کیا آپ نے جعلی طلاق نامہ بنواتے وقت دو آدمیوں کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ میں یہ جعلی طلاق نامہ بنوا رہا ہوں، نہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اور نہ طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا۔جزاک اللہ خیرا
جواب تنقیح:
جی گواہ بنایا تھا لیکن جو طلاق کا پیپیر بنایا تھا اس پر میرا اشناختی کارڈ نمبر اور میرا دستخط موجود تھا۔
جعلی طلاق نامہ بنوانے کی صورت میں طلاق کا حکم
الجواب حامداً و مصلیاً...
ذکر کردہ صورت کے مطابق اگر آپ نے واقعی جعلی طلاق نامہ بناتے وقت دو گواہوں کے سامنے اس بات کو صراحت کے ساتھ ذکر کر دیا ہو کہ میں نے اپنی بیوی کو نہ تو طلاق دی ہے اور نہ طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہوں اور یہ طلاق نامہ محض فرضی اور جھوٹا ہے تو اس طرح کرنے سے اس طلاق نامے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، البتہ جعلی طلاق نامہ بنوانے کی اجازت عام حالات میں نہیں دی گئی ہے، فقہاء نے صرف انتہائی شدید مجبوری (مثلاً قانونی مجبوری) جس سے نکلنا ممکن نہ ہو، اس میں بھی شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے، اس لیے آئندہ ایسا کرنے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (427/6، ط: سعید)
الْكَذِبُ مُبَاحٌ لِإِحْيَاءِ حَقِّهِ وَدَفْعِ الظُّلْمِ عَنْ نَفْسِهِ وَالْمُرَادُ التَّعْرِيضُ لِأَنَّ عَيْنَ الْكَذِبِ حَرَامٌ قَالَ: وَهُوَ الْحَقُّ قَالَ تَعَالَى - {قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ} [الذاريات: ١٠]- الْكُلُّ مِنْ الْمُجْتَبَى وَفِي الْوَهْبَانِيَّةِ قَالَ:وَلِلصُّلْحِ جَازَ الْكِذْبُ أَوْ دَفْعُ ظَالِمٍ ... وَأَهْلِ التَّرَضِّي وَالْقِتَالِ لِيَظْفَرُوا۔

مجمع الانھر: (کتاب الکراھیة، 552/2، ط: دار احیاء التراث العربی)
وَالْكَذِبُ حَرَامٌ إلَّا فِي الْحَرْبِ لِلْخُدْعَةِ وَفِي الصُّلْحِ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَفِي إرْضَاءِ الْأَهْلِ وَفِي دَفْعِ الظَّالِمِ عَنْ الظُّلْم۔

الدر المختار: (293/3، ط: دار الفکر)
"قال: أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك؛ وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذباً صدق قضاء وديانة شرح وهبانية".

و فیه ایضاً: (460/4، ط: دار الفکر)
"وإن قال: تعمدته تخویفا لم یصدق قضاء إلا إذا أشہد علیه قبله به یفتی".

کذا فی فتاوی دار العلوم دیوبند: رقم الفتاوی: 1477-1449/L=01/1438

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 197 Feb 06, 2024
doosri biwi se nikah ke liye pehli biwi ka jali talaq nama banwana,neiz jali talaq nama banwane ki sorat mein talaq ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.