عنوان: بیوی کا طلاق کا دعویٰ کرنا (15742-No)

سوال: مفتی صاحب! ہم حال ہی میں نیوزی لینڈ پہنچے ہیں، میری اہلیہ مقامی این جی اوز سے منسلک ہوگئی اور 14 جنوری 2023 کو صبح کے وقت ہمارے درمیان چھوٹا سا جھگڑا ہوا، جو حل ہوگیا، اس کے بعد وہ کسی سے مسلسل رابطے میں تھی اور رات گئے اس نے پولیس کو فون کیا۔ پولیس نے طریقہ کار کے مطابق دونوں فریقین کو 48 گھنٹے کی مدت کے لیے الگ ہونے کو کہا، 48 گھنٹے کے بعد جب میں واپس آیا تو گھر میں بیوی بچے موجود نہیں تھے۔
تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کسی این جی او کے ساتھ رہ رہی ہے، اب ایک ماہ سے زیادہ گزرنے کے بعد اس نے مجھ پر کچھ غیر حقیقت پسندانہ الزامات لگائے (بظاہر محفوظ گھر میں اپنے قیام کو بڑھانے کے لیے)۔ ایک جھوٹا دعوی یہ ہے کہ میں نے اسے طلاق دے دی ہے، جو کہ بالکل بے بنیاد ہے۔
ایسے حالات میں میں اپنی قسم کی بنیاد پر فتوی لینے کی کوشش کر رہا ہوں کہ میں نے اسے طلاق نہیں دی اور وہ میرے نکاح میں ہے۔
تنقیح:
محترم! اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ آپ کی بیوی طلاق کا دعوی کیوں کررہی ہے؟ اور کیا آپ کی بیوی کے پاس طلاق کے گواہ موجود ہیں؟
جواب تنقیح:
بظاہر این جی اوز کی طرف سے کی گئی ذہن سازی ہے، کیونکہ یہاں این جی اوز ایسے کیس کی وجہ سے فنڈ لیتی ہے اور شہرت پاتی ہے۔
مزید یہ کہ ایک مقامی مسجد کے پیش امام سے جب میں نے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنے ذریعے تفتیش کی، لیکن میری بیوی جواب نہ دے سکی اور کوئی گواہ ثبوت پیش نہ کر سکی۔
میرا بیان یہ ہے کہ میں محمد عديل ولد محمد إقبال اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حرا یاسین بنت محمد یاسین انصاری میرے نکاح میں ہے اور میری قانونی اور شرعی بیوی ہے اور میں نے نہ طلاق دی ہے اور نہ دینے کا ارادہ ہے۔
برائے مہربانی فتوی عنایت فرمائیں کہ وہ میری بیوی ہے اور میرے نکاح میں ہے۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کا حلفیہ بیان واقعہ کے مطابق اور سچا ہے، اور بیوی طلاق کا جھوٹا دعویٰ کر رہی ہے تو محض بیوی کی طرف سے دعویٰ ہونے کی وجہ سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
تاہم قضاءً اس مسئلہ کے حکم میں تفصیل یہ ہے کہ چونکہ آپ کی بیوی طلاق کا دعویٰ کر رہی ہے، جب کہ بحیثیت شوہر آپ اس کا انکار کررہے ہیں، اس لیے یہ مسئلہ مسلمان قاضی/جج کی عدالت میں پیش کیا جائے، اگر نیوزی لینڈ میں مسلمان قاضی میسر نہ ہو تو یہ مسئلہ مسلمانوں کی جماعت (مسلم کمیونٹی جس میں ماہر مستند عالمِ دین بھی شامل ہوں) کے سامنے پیش کیا جائے، اس کے بعد قاضی یا مسلم کمیونٹی عورت سے اس کی دعویٰ پر گواہ طلب کرے، اگر عورت اپنے طلاق کے دعویٰ پر دو شرعی گواہ پیش کردے تو قضاءً طلاق کا فیصلہ کیا جائے گا، لیکن اگر بیوی گواہ پیش نہ کرسکے تو آپ (شوہر) سے طلاق نہ دینے پر قَسم لی جائے گی کہ نکاح کے بعد سے اب تک آپ نے کوئی طلاق نہیں دی ہے، اگر آپ قاضی/ مسلم کمیونٹی کے سامنے اس بات پر قسم کھالیں تو ایسی صورت میں قاضی / مسلم کمیونٹی کا فیصلہ آپ کے حق میں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الترمذي: (رقم الحديث: 1342، 19/3، ط: دار الغرب الإسلامي)
حدثنا ‌محمد بن سهل بن عسكر البغدادي، قال: حدثنا ‌محمد بن يوسف، قال: حدثنا ‌نافع بن عمر الجمحي ، عن ‌عبد الله بن أبي مليكة ، عن ‌ابن عباس «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى، أن اليمين على المدعى عليه»
هذا حديث حسن صحيح. والعمل على هذا عند أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم؛ أن ‌البينة ‌على ‌المدعي واليمين على المدعى عليه.

الإجماع لابن المنذر: (ص: 65، ط: دار المسلم للنشر و التوزيع)
256 - وأجمعوا على أن ‌البينة ‌على ‌المدعي، واليمين على المدعى عليه.

المبسوط للسرخسي: (80/6، ط: دار المعرفة)
ولا يسع ‌المرأة إذا سمعت ذلك أن تقيم معه لأنها مأمورة باتباع الظاهر ‌كالقاضي.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 200 Feb 26, 2024
biwi ka talaq ka dawa karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.