عنوان: کرایے کی گاڑی کی مرمت (15812-No)

سوال: مفتی صاحب! رینٹ کی گاڑی میں اگر کوئی مسئلہ آجائے تو اس کی ذمہ داری کس پر ہے، آیا رینٹ پر لینے والے کے یا مالک کے ذمہ ہے؟

جواب: کرایے پر دی ہوئی کار میں اگر ایسی کوئی بنیادی خرابی آجائے جس کے بعد اس کار سے نفع اٹھانا ممکن نہ ہو تو اس خرابی کی مرمت اور اصلاح کرنے کی اصل ذمہ داری مالک پر ہوگی، کرایہ دار کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا اور اس سے مرمت کروانا جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ خرابی کرایہ دار کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے آئی ہے تو اس صورت میں کرایہ دار سے تاوان وصول کیا جاسکتا ہے۔
اور اگر گاڑی میں ایسی معمول کی خرابی آجائے جو گاڑی کے استعمال کی وجہ سے ہو، (جیسے ٹائر پنچر ہونا) تو اس کی مرمت میں عرف اور معاہدے کی شرائط کا اعتبار ہوگا، عرف میں جس فریق کو اس کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہو، وہی اسے ٹھیک کرائے گا، اسی طرح اگر معاہدے میں اس کی صراحت کردی گئی ہو تو پھر اسی کے مطابق عمل ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفقه الاسلامی و ادلته: (المبحث الخامس، ضمان العین المستاجرۃ، 3850/5)
تعتبر يد المستأجر على العين المستأجرة في إجارة المنافع يد أمانة، فلا يضمن ما يتلف بيده إلا بالتعدي أو التقصير في الحفظ، ويتقيد في الانتفاع بمقتضى العقد وما شُرط فيه وما جرى به العرف ….. قد تتغیر صفة الامانة الی الضمان فی الاحوال الآتیة، اولا ترك الحفظ ثانیا الاتلاف والافساد، ثالثا مخالفة المستاجر شرط المؤجر نصا او دلالة، المخالفة سبب لوجوب الضمان، وللمخالفة صور وهی اما فی الجنس او فی القدر او فی الصفة او فی المکان اوفی الزمان.

رد المحتار : (80/6، ط: سعید)
ولو امتلأ مسيل الحمام فعلى المستأجر تفريغه ظاهرا كان أو باطنا ۔ وفيها وتسييل ماء الحمام وتفريغه على المستأجر وإن شرط نقل الرماد والسرقين رب الحمام على المستأجر لا يفسد العقد وإن شرط على رب الحمام فتأمل ولعله مفرع على القياس أو مبني على العرف ففي البزازية وفي استئجار الطاحونة في كري نهرها يعتبر العرف.

بدائع الصنائع: (18/6، ط: دار النشر)
"ولو استأجر داراً بأجرة معلومة وشرط الآجر تطيين الدار ومرمتها أو تعليق باب عليها أو إدخال جذع في سقفها على المستأجر فالإجارة فاسدة؛ لأن المشروط يصير أجرةً وهو مجهول فتصير الأجرة مجهولةً، وكذا إذا آجر أرضاً وشرط كري نهرها أو حفر بئرها أو ضرب مسناة عليها؛ لأن ذلك كله على المؤاجر، فإذا شرط على المستأجر فقد جعله أجرةً وهو مجهول فصارت الأجرة مجهولةً۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 107 Apr 15, 2024
karaye rent ki gari car ki murammat

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.