عنوان: تقلید شخصی کا حکم(101582-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب ! سوال یہ پوچھنا تھا کہ کیا ایک امام صاحب کی پیروی کرنا ضروری ہے یا سب کی کر سکتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ فروعی مسائل میں قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس سے استنباط شدہ مسائل کو" فقہ " کہا جاتا ہے، جس میں انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے مسائل کا شرعی حل موجود ہے، لہذا اس پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔
دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے، کہ فروعی مسائل کا قرآن و حدیث، اجماع اور قیاس کے ذریعے جس طرح چار مشہور اماموں ( امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل ) نے استنباط کیا ہے، ان جیسی صلاحیت والا کوئی دوسرا شخص اب تک پیدا نہیں ہوا، جو روز مرہ کے فروعی مسائل کو براہ راست قرآن وحدیث سے اخذ کر سکے، لہذا دین کے مسائل میں ان اماموں کی تقلید کرنا واجب ہے، ساتھ ساتھ یہ بات بھی ضروری ہے کہ جس امام کی تقلید کی جائے، اول سے لے کر اخیر تک تمام شرعی مسائل میں اسی کی تقلید کرنا لازم ہے، ایسا ہر گز نہ کیا جائے کہ جس امام کے ہاں کسی مسئلے میں سہولت نظر آئے، تو اس میں اپنے امام کی تقلید چھوڑ کر دوسرے امام کی تقلید اختیار کر لی جائے، یہ طرز عمل شریعت کے اتباع کا نہیں، بلکہ اپنی خواہش کی پیروی کرنے کا ہے، جو کہ شرعا گناہ ہے۔
امید ہے اس تفصیل سے بات واضح ہو گئی ہو گی۔
مزید اس سلسلے میں حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدھم کی کتاب : تقلید کی شرعی حیثیت کا مطالعہ مفید رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (لقمان، الایة: 15)
وَّ اتَّبِعۡ سَبِیۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَo

و قوله تعالی: (النساء، الایة: 59)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ....الخ

الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: (193/32، ط: دار السلاسل)
الفقه في اللغة: العلم بالشيء والفهم له، والفطنة فيه، وغلب، على علم الدين لشرفه، قال تعالى: {قالوا يا شعيب ما نفقه كثيرا مما تقول} ، وقيل: هو عبارة عن كل معلوم تيقنه العالم عن فكر.
وفي الاصطلاح هو: العلم بالأحكام الشرعية العملية، المكتسب من أدلتها التفصيلية.

و فیھا ایضاً: (160/13، ط: دار السلاسل)
اختلف في التقليد في الأحكام الشرعية العملية غير ما تقدم ذكره على رأيين:
الأول: جواز التقليد فيها وهو رأي جمهور الأصوليين ، قالوا: لأن المجتهد فيها إما مصيب وإما مخطئ مثاب غير آثم، فجاز التقليد فيها، بل وجب على العامي ذلك؛ لأنه مكلف بالعمل بأحكام الشريعة، وقد يكون في الأدلة عليها خفاء يحوج إلى النظر والاجتهاد، وتكليف العوام رتبة الاجتهاد يؤدي إلى انقطاع الحرث والنسل، وتعطيل الحرف والصنائع، فيؤدي إلى الخراب، ولأن الصحابة رضي الله عنهم كان يفتي بعضهم بعضا، ويفتون غيرهم، ولا يأمرونهم بنيل درجة الاجتهاد. وقد أمر الله تعالى بسؤال العلماء في قوله تعالى: {فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون} .

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 375
taqleed e shakhsi ka hukum, Ruling on only one faqeeh / person imitation / taqleed e shakhsi

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.