سوال:
مفتی صاحب! کتنے سال کی عمر میں بچوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کہا جا سکتا ہے؟ کیونکہ بچے ہر وقت جماعت سے نماز پڑھنے جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ گھر میں پڑھیں گے، ایک وقت کی نماز کے لیے مسجد چلے جائیں گے، گھر کے بڑے بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں، گھر کے بڑوں کو سمجھائیں تو وہ برا مانتے ہیں۔ برائے کرم آپ والدین کی اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ بالغ بچوں کے لیے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت موکدہ قریب بواجب ہے، لہذا بغیر عذر کے بالغ بچوں کے لیے جماعت کی نماز چھوڑنا جائز نہیں ہے، البتہ نابالغ بچوں کے لیے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے، لیکن ان کو بھی وقتاً فوقتاً جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے بھیجنا چاہیے، تاہم والدین اور گھر کے بڑوں کو ان کے معاملے میں زیادہ سختی کے بجائے نرمی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے، تاکہ غیر معمولی سختی کی وجہ سے بچے والدین یا دین سے دور نہ ہو جائیں اور آسانی کے ساتھ وہ باجماعت نماز پڑھنے کے عادی بن جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (554/1، ط: دار الفكر)
(فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج) ولو فاتته ندب طلبها في مسجد آخر إلا المسجد الحرام ونحوه (فلا تجب على مريض ومقعد وزمن ومقطوع يد ورجل من خلاف) أو رجل فقط، ذكره الحدادي (ومفلوج وشيخ كبير عاجز وأعمى).
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی