resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: قضا نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہونے کی صورت میں ادائیگی کا طریقہ(1627-No)

سوال: مفتی صاحب! میری بہت ساری نمازیں قضا ہوگئی ہیں اور تعداد بھی معلوم نہیں ہے تو اس کو ادا کرنے کا کیا حکم اور کیا طریقہ ہے؟

جواب: اگر کسی شخص کی نمازیں قضاء ہوگئی ہوں اور ان قضاء نمازوں کی تعداد یاد نہ ہو تو خوب اچھی طرح سوچ سمجھ کر ایک صحیح تخمینہ اور اندازا لگالینا چاہیے اور اس کے مطابق اپنی فوت شدہ نمازیں ادا کرلینی چاہییں، یہاں تک کہ اس کو یقین ہوجائے کہ اب میرے ذمہ کوئی قضاء نماز باقی نہیں ہے، مثلاً ایک شخص چودہ یا پندرہ سال کی عمر میں بالغ ہوا، اور اس نے پانچ چھ سال تک نماز نہیں پڑھی، یا کبھی پڑھی اور کبھی نہیں پڑھی اور یہ مدت اس شخص کے غالب گمان میں مثلاً پانچ سال کی ہوئی تو اس شخص کو اپنے غالب گمان کے مطابق اتنے ہی سالوں کی نماز ادا کرنا ضروری ہوگا۔
قضاء نماز کا دن اور وقت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح بھی نیت کی جاسکتی ہے کہ مثلاً جتنی فجر کی نمازیں میں نے قضا  کی ہیں، ان میں سے پہلی فجر کی نماز ادا کر رہا ہوں، یا مثلاً جتنی ظہر  کی نمازیں قضا ہوئی ہیں ان میں سے پہلی ظہر کی نماز ادا کر رہا ہوں، اسی طرح بقیہ نمازوں میں بھی نیت کریں، اسی طرح پہلی کے بجائے اگر آخری کی نیت کرے تو بھی درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (ص: 157، ط: دارالکتب العلمیة)
من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء۔

حاشیة الشلبي علی تبیین الحقائق: (468/1، ط: سعید)
وفي الحاوي لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقضي حتى يستيقن۔

الدر المختار: (76/2، ط: دار الفکر)
كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

qaza namazo / namazon ki tadad malom na hone ki sorat me / mein adaigi ka tariqa, Method of performing prayers in case the number of qadha / missed prayers is not known / remembered

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)