عنوان: "اھبطوا بعضکم لبعض عدو" آیت کی تفسیراور اشکال کا جواب (101638-No)

سوال: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ۔ ترجمہ لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائده اٹھانا ہے۔ مفتی صاحب ! دلیل کے ساتھ بتائیں کہ قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت میں تم ایک دوسرے کے دشمن ہو کا کیا مطلب ہے؟ کیونکہ جس طرح اردو زبان میں واحد اور جمع کے صیغے ہوتے ہیں، اسی طرح انگریزی زبان میں بھی واحد اور جمع کے صیغے ہوتے ہیں، یعنی یا تو صرف ایک اور یا ایک سے زائد، مگر کمال کی بات ہے کہ عربی زبان میں ایک کے لیے الگ صیغہ ہے، دو کے لیے الگ صیغہ ہے اور دو سے زیادہ کے لیے الگ صیغہ ہے، تو اس تناظر میں میرا سوال صرف اتنا سا ہے کہ اس آیت میں جو صیغہ استعمال ہوا ہے وہ کون سا ہے اور آیت کے عربی متن کے الفاظ سے، نیز گرامر کی رو سے کیا معنی نکل رہا ہے؟ کیا شیطان اور آدم علیہ السلام ایک دوسرے کے دشمن قرار دییے گئے تھے یا شیطان، آدم علیہ السلام اور اماں حوا علیہا السلام سب ایک دوسرے کے دشمن قرار دییے گئے تھے؟

جواب: واضح رہے کہ صرف عربی زبان اور عربی گرامر پڑھ لینے کے بعد انسان قرآن مجید کا عالم نہیں بن جاتا کہ اس کے بعد جس طرح اس کی سمجھ میں آئے، قرآن کریم کی تفسیر کرے، غور کرنے کی بات ہے کہ دنیا میں کوئی بھی علم وفن ایسا نہیں ہے، جس میں محض زبان دانی کے بل بوتے پر مہارت پیدا ہوسکتی ہے، آج تک کبھی کسی عقلمند نے انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھنے کے باوجود یہ دعوی نہیں کیا ہوگا کہ وہ ڈاکٹر بن گیا ہے تو قرآن جیسا علم محض عربی زبان سیکھ لینے کی بناء پر آخر کیسے حاصل ہوجائے گا؟
لہذا تفسیر قرآن کے لیے صرف عربی زبان کی معمولی واقفیت کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے علم اصول تفسیر، علم حدیث، اصول حدیث، اصول فقہ، علم فقہ، علم نحو، علم صرف، علم لغت، علم ادب اور علم بلاغت میں ماہرانہ بصیرت اور اس کے ساتھ طہارت وتقوٰی ضروری ہے۔
اس ساری تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ
حضرت ابن عباس سے مروی ہے اھبطوا کا خطاب آدم، حواء اور شیطان تینوں کو ہے،
یہ بھی ممکن ہے کہ خطاب صرف آدم ، حواء اور ان کی اولاد کو ہو، کیونکہ وہ دونوں افزائش نسلِ انسانی کا ذریعہ تھے تو حکما ان کی اولاد کو موجود فرض کیا گیا۔
اور بعض مفسرین نے کہا کہ اس سے مراد آدم، ان کی اولاد، اور ابلیس اور اس کی اولاد مراد ہیں۔
ان سب اقوال کی بنا پر اھبطوا کے صیغہ جمع ہونے اور جمع مراد لینے پر کوئی اعتراض نہیں وارد ہوتا، البتہ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد صرف آدم اور حواء ہیں، اس قول پر اعتراض ہوتا ہے کہ اھبطوا جمع کا صیغہ ہے اور آدم و حواء تو دو افراد ہیں، صیغہ تثنیہ لانا چاہیے، جمع کاصیغہ کیوں لائے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اھبطوا جمع کا صیغہ ہے اور عربی میں جمع کا اطلاق عموما کم سے کم تین افراد پر ہوتا ہے اور کبھی کبھار دو افراد پر بھی ہوتا ہے، جیسے فان کان لہ اخوة میں اخوہ جمع ہے اور مراد اس سے دو بہن بھائی ہیں، اسی طرح آیت وکنا لحکمھم شاھدین میں حکمھم کی "ھم ضمیر" جمع ہے، لیکن اس سے مراد داود اور سلیمان علیھما السلام ہیں۔
قرآن کریم کے دوسرے مقامات میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنت سے اترنے کا خطاب تین صیغوں کے ساتھ آیا ہے۔
مفرد کے صیغے اھبط کے ساتھ سورة اعراف ، تثنیہ کے صیغے اھبطا کے ساتھ سورة طہ اور جمع کے صیغے اھبطوا کے ساتھ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں آیا ہے۔
جہاں مفرد آیا ہے اس سے مراد ابلیس ہے ، جہاں تثنیہ آیا ہے اس سے مراد آدم اور حواء ہیں اور جہاں جمع آیا ہے وہاں آدم ، حواء اور ابلیس تینوں مراد ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی الدرالمنثور للامام السیوطی:

عن ابن عباس في قوله {وقلنا اهبطوا بعضكم لبعض عدو} قال: آدم وحواء وإبليس والحية۔۔۔۔۔وأخرج عبد بن حميد عن قتادة قال {اهبطوا} يعني آدم وحواء وإبليس۔

(ج: 1،ص: 134)

وفی زاد المسیر لابن الجوزی:

وإلى من انصرف هذا الخطاب؟ فيه ستة أقوال: أحدها: أنه انصرف إلى آدم وحواء والحية، قاله أبو صالح عن ابن عباس. والثاني: إلى آدم وحواء وإبليس والحية، حكاه السدي عن ابن عباس.
والثالث: إلى آدم وإبليس، قاله مجاهد . الرابع: إلى آدم وحواء وإبليس، قاله مقاتل. والخامس: إلى آدم وحواء وذريتهما، قاله الفراء. والسادس: إلى آدم وحواء فحسب، ويكون لفظ الجمع واقعا على التثنية، كقوله: وكنا لحكمهم شاهدين ذكره ابن الأنباري، وهو العلة في قول مجاهد أيضا۔۔۔۔۔وفي العداوة المذكورة هاهنا ثلاثة أقوال: أحدها: أن ذرية بعضهم أعداء لبعض، قاله مجاهد.والثاني: أن إبليس عدو لآدم وحواء، وهما له عدو، قاله مقاتل. والثالث: أن إبليس عدو للمؤمنين، وهم أعداؤه، قاله الزجاج

(ج: 1، ص: 56، ط: دار الكتاب العربي)

وفی البحر المحيط في التفسير لأبي حيان أثير الدين الأندلسي: 

والمخاطب بالأمر آدم وحواء والحية، قاله أبو صالح عن ابن عباس، أو هؤلاء وإبليس، قاله السدي عن ابن عباس، أو آدم وإبليس، قاله مجاهد، أو هما وحواء، قاله مقاتل، أو آدم وحواء فحسب. ويكون الخطاب بلفظ الجمع وإن وقع على التثنية نحو:وكنا لحكمهم شاهدين ، ذكره ابن الأنباري، أو آدم وحواء والوسوسة، قاله الحسن، أو آدم وحواء وذريتهما، قاله الفراء، أو آدم وحواء، والمراد هما وذريتهما، ورجحه الزمخشري قال: لأنهما لما كانا أصل الأنس ومتشعبهم جعلا كأنهما الأنس كلهم. والدليل عليه قوله: قال اهبطا منها جميعا بعضكم لبعض عدو  ، ويدل على ذلك قوله: فمن تبع هداي الآية، وما هو إلا حكم يعم الناس كلهم، انتهى. وفي قول الفراء خطاب من لم يوجد بعد، لأن ذريتهما كانت إذ ذاك غير موجودة. وفي قول من أدخل إبليس معهما في الأمر ضعف، لأنه كان خرج قبلهما، ويجوز على ضرب من التجوز.

(ج: 1،ص: 263، ط: دارالفکر بیروت)

وفی التَّفْسِيرُ البَسِيْط لأبي الحسن علي بن أحمد النيسابوري:

وقال أبو إسحاق: كان إبليس أهبط أولا، لأنه قال: {فاخرج منها فإنك رجيم} [الحجر: 34]، وأهبط آدم وحواء بعدذلك،فجمع
الخبرللنبي-عليه [الصلاة]  والسلام لأنهم اجتمعوا في الهبوط وإن اختلف بهم الوقت ۔
وقال ابن الأنباري: مذهب الفراء أن {اهبطوا} خطاب لآدم وحواء وذريتهما لأن الأب يدل على الذرية إذ كانوا منه ۔
وقيل: إنه خطاب لآم وحواء. والعرب تخاطب الاثنين بالجمع، لأن التثنية أول الجمع، ومثله من التنزيل قوله: {وكنا لحكمهم شاهدين} [الأنبياء:78]، يريد حكم داود وسليمان، وقوله: {فإن كان له إخوة}أراد أخوين 

(ج: 2، ص: 396، ط: عمادة البحث العلمي)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 375

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com