عنوان: قرآن مجید میں سکتہ سے کیا مراد ہے؟ (101644-No)

سوال: السلام علیکم، آیت کے بیچ میں جو سکتہ آتا ہے، اسکا مقصد کیا ہوتا ہے؟ تھوڑی دیر رکنا ہوتا ہے سانس توڑے بغیر، ہمیں مطلب تو سمجھ نہیں آتا، لیکن یہاں رکنے کا مقصد کیا ہے ؟ جزاک اللہ

جواب: ہر زبان کے اہلِ زبان جب گفتگو کرتے ہیں تو کہیں ٹھہر جاتے ہیں ، کہیں نہیں ٹھہرتے، کہیں کم ٹھہرتے ہیں، کہیں زیادہ اور اس ٹھہرنے اور نہ ٹھہرنے کو بات کے صحیح بیان کرنے اور اس کا صحیح مطلب سمجھنے میں بہت دخل ہے۔ قرآن مجید میں بھی ٹھہرنے نہ ٹھہرنے کی علامتیں مقرر ہیں، جن کو رموزِ اوقاف قرآن مجید کہتے ہیں، ان میں سے ایک علامت 'سکتہ' ہے۔
سکتہ کے لغوی معنی ہے، ٹھہرنا
اور اصطلاحِ تجوید میں سکتہ والے کلمے پر سانس توڑے بغیر تھوڑی دیر رک جانے کو 'سکتہ' کہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی العین:

سكت: سكت عنه الغضب سكوتا، وسكن بمعناه. ورجل ساكوت، أي: صموت، وهو ساكت، إذا رأيته لا ينطق

(ج: 5، ص: 305، ط: مکتبۃ الھلال)

وفی کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم:

السكت:

بالفتح وسكون الكاف عند القراء هو قطع الصوت زمنا دون زمن من غير تنفس.

(ج: 1، ص: 959، ط: مکتبۃ لبنان)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 984

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com