عنوان: دوسرے ملک رقم بھیج کر قربانی کرنے کا حکم(101787-No)

سوال: مفتی صاحب! مہربانی فرما کر یہ عرض کر دیجئے کہ اگر کوئی شخص بیرون ملک میں مقیم ہو اور اس کی خواہش ہو کہ وہ قربانی پاکستان میں کرے، اگر ایسا ہو کہ پاکستان میں عید کی نماز پہلے ہو جائے اور جس نے قربانی کرنی ہو، اس ملک میں عید کی نماز ابھی نہ ہوئی ہو، تو کیا ایسے شخص کی قربانی ہو جائے گی؟ جزاك اللہ خيرا

جواب: دوسرے ملک میں رقم بھیج کر قربانی کرنا جائز ہے، البتہ دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

١- دونوں ملکوں میں قربانی کے جو ایام مشترکہ ہوں، ان ایام میں قربانی کی جائے، اگر کسی ایک ملک میں بھی قربانی کا دن نہیں ہوگا، تو قربانی ادا نہیں ہوگی۔
مثلا: سعودی عرب میں ١۰ ذی الحجہ ہو اور پاکستان میں ٩ ذی الحجہ، تو اس دن قربانی ادا نہیں ہوگی اور اگر سعودی عرب میں ١١ ذی الحجہ ہو، پاکستان میں ١۰ ذی الحجہ تو چونکہ یہ دن دونوں ملکوں میں قربانی کا مشترکہ دن ہے، لہذا اس دن قربانی جائز ہوگی۔
٢- جس جگہ قربانی کی جارہی ہے، اگر وہاں عید کی نماز ہوتی ہو( یعنی وہ شہر ہو، گاؤں دیہات نہ ہو) تو اس جگہ عید کی نماز ہونے کے بعد قربانی کی جائے، البتہ اگر شہر میں مساجد کے نمازِعید کے اوقات مختلف ہوں، تو سب سے پہلے جہاں عید کی نماز ہوتی ہو، اس کا اعتبار ہوگا، وہاں نماز ہوجانے کے بعد قربانی کی جاسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (75/5)

''وإن كان الرجل في مصر، وأهله في مصر آخر، فكتب إليهم أن يضحوا عنه روي عن أبي يوسف أنه اعتبر مكان الذبيحة، فقال: ينبغي لهم أن لايضحوا عنه حتى يصلي الإمام الذي فيه أهله، وإن ضحوا عنه قبل أن يصلي لم يجزه، وهو قول محمد - عليه الرحمة -. وقال الحسن بن زياد: انتظرت الصلاتين جميعاً، وإن شكوا في وقت صلاة المصر الآخر انتظرت به الزوال، فعنده لا يذبحون عنه حتى يصلوا في المصرين جميعاً، وإن وقع لهم الشك في وقت صلاة المصر الآخر لم يذبحوا حتى تزول الشمس، فإذا زالت ذبحوا عنه.
(وجه) قول الحسن: أن فيما قلنا اعتبار الحالين: حال الذبح وحال المذبوح عنه، فكان أولى. ولأبي يوسف ومحمد رحمهما الله أن القربة في الذبح، والقربات المؤقتة يعتبر وقتها في حق فاعلها لا في حق المفعول عنه، ويجوز الذبح في أيام النحر نهرها ولياليها؛ وهما ليلتان: ليلة اليوم الثاني وهي ليلة الحادي عشر، وليلة اليوم الثالث وهي ليلة الثاني عشر، ولا يدخل فيها ليلة الأضحى وهي ليلة العاشر من ذي الحجة؛ لقول جماعة من الصحابة -رضي الله عنهم -: أيام النحر ثلاثة، وذكر الأيام يكون ذكر الليالي لغة، قال الله عز شأنه في قصة زكريا عليه الصلاة والسلام: ﴿ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا﴾ [آل عمران: 41] وقال عز شأنه في موضع آخر: ﴿ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ [مريم: 10] والقصة قصة واحدة، إلا أنه لم يدخل فيها الليلة العاشرة من ذي الحجة؛ لأنه استتبعها النهار الماضي وهو يوم عرفة؛ بدليل أن من أدركها فقد أدرك الحج، كما لو أدرك النهار وهو يوم عرفة، فإذا جعلت تابعةً للنهار الماضي لا تتبع النهار المستقبل، فلا تدخل في وقت التضحية، وتدخل الليلتان بعدها، غير أنه يكره الذبح بالليل؛ لا لأنه ليس بوقت للتضحية، بل لمعنى آخر ذكرناه في كتاب الذبائح، والله عز شأنه أعلم''.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 224
doosray mulk raqam bhej kar qurbani karne ka hukum, Order to sacrifice by sending money to another country

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.