عنوان: مسجد میں کنڈے کی بجلی استعمال کرنا (18040-No)

سوال: مفتی صاحب! ہمارے گاؤں کی مسجد میں بجلی کا میٹر نہیں ہے، مسجد میں بچلی کا نظام کنڈے سے چل رہا ہے، قابلِ غور بات یہ ہے کہ امامِ مسجد سردی کے موسم میں وضو اور غسل کے لیے پانی کا ڈرم راڈ کے ذریعے گرم کرتے ہیں۔ کیا امام مسجد کے لیے کنڈے کی بجلی سے پریشر پمپ چلانا، اس بجلی سے راڈ لگا کر گرم کیے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کرنا اور استری کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر ناجائز ہے تو اس امام کے پیچھے نماز ادا کرنا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ مسجد یا غیر مسجد، کسی بھی جگہ کنڈے کی بجلی استعمال کرنا درست نہیں ہے، تاہم ایسی بجلی کو استعمال کرنے والے کے پیچھے نماز ہو جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

رد المحتار: (كتاب السرقة، 82/4، ط: دار الفکر)
"قال القهستاني: وهي نوعان؛ لأنه إما أن يكون ضررها بذي المال أو به وبعامة المسلمين، فالأول يسمى بالسرقة الصغرى والثاني بالكبرى، بين حكمها في الآخر؛ لأنها أقل وقوعا وقد اشتركا في التعريف وأكثر الشروط اه أي؛ لأن المعتبر في كل منهما أخذ المال خفية، لكن الخفية في الصغرى هي الخفية عن غين المالك أو من يقوم مقامه كالمودع والمستعير. وفي الكبرى عن عين الإمام الملتزم حفظ طرق المسلمين وبلادهم كما في الفتح".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 41 Jun 07, 2024

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.