عنوان: مریض کی عیادت یا دینی بھائی سے ملاقات کرنے پر جنت میں محل کی بشارت (18048-No)

سوال: مفتی صاحب! مندرجہ ذیل حدیث کی تصدیق فرمادیں:
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کی تو اس کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمہاری دنیاوی و اخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو، تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کرلیا‘‘ (جامع ترمذی، حدیث نمبر:2008)

جواب: جی ہاں! یہ حدیث جامع ترمذی میں موجود ہے، ذیل میں اس حدیث کا ترجمہ اور مختصر تشریح ذکر کی جاتی ہے:حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کی تو اس کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمہاری دنیاوی و اخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو، تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کرلیا‘‘ (جامع ترمذی، حدیث نمبر:2008)
تشریح:
اس حدیث مبارکہ سے ان دونوں عملوں یعنی مریض کی عیادت اور دوستوں کی زیارت کی بڑی فضیلت معلوم ہوئی کہ یہ ایسے اعمال ہیں کہ ان کی بدولت آدمی فرشتوں کی دعا کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ اس شخص کی دنیاوی و اخروی فلاح و نجات اور کامیابی کے لیے دعا گو رہتا ہے اور اس یقین سے کہتا ہے کہ بجائے انشاء کے اخبار کا صیغہ استعمال کرتا ہے کہ گویا یہ آدمی کامیاب ہو ہی گیا۔
تاہم "فی اللہ" کی قید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فضیلت ان دوستانہ تعلقات والوں کو ملتی ہے جن کا تعلق اللہ کی خوشنودی کے حصول کے لیے ہو اور ظاہر ہے کہ ایسا تعلق نیک لوگوں سے ہی ہو سکتا ہے، چور اور ڈاکوؤں کے ناجائز تعلقات کو یہ فضیلت بظاہر حاصل نہیں ہے، کیونکہ اگر چور اپنے چور ساتھی کی عیادت اس لیے کرتا ہے کہ معلوم ہو کہ وہ میرے ساتھ چوری کرنے کی غرض سے جانے کے لیے کب تیار ہو سکے گا تو یہ کوئی ثواب کی نیت یا کام نہیں ہے۔ (تشریحاتِ ترمذی، 286/6، ط: قدیمی کتب خانہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلیل:

جامع الترمذی: (كتاب البر والصلة عن رسول الله ﷺ، بَابُ مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الإِخْوَانِ​، رقم الحدیث:2008، ط: دارالغرب الاسلامی)
حدثنا محمد بن بشار، والحسين بن ابي كبشة البصري، قالا: حدثنا يوسف بن يعقوب السدوسي، حدثنا ابو سنان القسملي هو الشامي، عن عثمان بن ابي سودة، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من عاد مريضا، او زار اخا له في الله، ناداه مناد ان طبت وطاب ممشاك وتبوات من الجنة منزلا "، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب، وابو سنان اسمه عيسى بن سنان، وقد روى حماد بن سلمة، عن ثابت، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم شيئا من هذا.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 30 Jun 10, 2024

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.