عنوان: کینیڈا میں مقیم شخص کی طرف سے پاکستان میں عید کے پہلے دن قربانی کرنا (18082-No)

سوال: قربانی کے بڑے جانور میں سات بندے شریک تھے جن میں سے چھ بندے پاکستان (ملتان) میں رہتے ہیں اور ساتواں شریک کینیڈا (شمالی امریکہ) میں رہتا ہے، قربانی کا جانور پاکستان میں عید کے پہلے دن 17 جون کو ذبح کیا گیا، جبکہ کینیڈا میں عید 18 جون کو تھی۔ اس ضمن میں دو سوال ہیں ایک یہ ہے کہ کینیڈا والے شخص کی قربانی ہوئی یا نہیں؟ کیونکہ اُس کی جگہ پر ابھی تک قربانی کا وقت شروع نہیں ہوا تھا، اور دوسرا سوال یہ ہے کہ پاکستان والے بندوں کی قربانی ہوئی یا نہیں؟
تنقیح: آپ کے سوال میں کچھ ابہام ہے، آپ اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ جس وقت پاکستان میں جانور ذبح ہوا، اس وقت کینیڈا میں جس جگہ ساتواں شریک موجود تھا، وہاں عید کا دن شروع ہوگیا تھا یا نہیں؟ نیز اگر عید کا دن شروع ہوگیا تھا تو کیا وقت تھا؟ اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا۔
جواب تنقیح: جس وقت پاکستان میں جانور ذبح کیا گیا، اس وقت کینیڈا میں قربانی کا وقت شروع نہیں ہوا تھا، ان کی عید 18 جون کو ہوئی ہے، جبکہ پاکستان میں 17 جون کو ہوئی ہے۔

جواب: واضح رہے کہ قربانی صرف ایامِ نحر میں مشروع ہے، اس لیے قربانی کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قربانی کے جانور اور جس کی طرف سے وہ قربان کیا جارہا ہو، دونوں کے مقام پر ایام نحر میں سے کوئی دن چل رہا ہو، اگر کسی ایک جگہ تو یوم نحر ہو، لیکن دوسری جگہ ابھی قربانی کے دن شروع نہیں ہوئے یا شروع ہو کر ختم ہوچکے ہوں تو اس صورت میں جس جگہ قربانی کے دن نہ ہوں، اس جگہ رہنے والے شخص کی طرف سے کی گئی قربانی درست نہیں ہوگی۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ جس شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی تھی، اس کے مقام (کینیڈا) میں عید کا دن شروع (طلوعِ فجر) نہیں ہوا تھا، اس لیے پاکستان میں اس کی طرف سے کی جانی والی قربانی سے اس کا واجب ادا نہیں ہوا، اسے چاہیے کہ قربانی کے لائق ایک متوسط بکرے کی قیمت کے بقدر رقم صدقہ کردے، البتہ اس جانور میں پاکستان میں مقیم جو لوگ شریک تھے، ان کی قربانی درست ہوگئی ہے، ان پر کسی قسم کی قضاء لازم نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (285/6 ط: دار الکتب العلمیة بیروت)
وأما وقت الوجوب فأیام النحر، فلا تجب قبل دخول الوقت؛ لأن الواجبات الموٴقتة لا تجب قبل أوقاتھا کالصلاة والصوم ونحوھما، وأیام النحر ثلاثة ۔

الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب الأضحیة، 463/9، ط: بیروت)
"(ولو ترکت التضحیة ومضت أیامها تصدق بها حیة ناذر)".
قوله : (ولو ترکت التضحیة الخ) شروع في بیان قضاء الأضحیة إذا فاتت عن وقتها فإنها مضمونة بالقضاء في الجملة کما في البدائع ۔۔۔۔۔۔۔ قوله : (تصدق بها حیة) لوقوع الیأس عن التقرب بالإراقة ، وإن تصدق بقیمتها أجزأہ أیضًا ؛ لأن الواجب ہنا التصدق بعینها ، وهذا مثله فیما هو المقصود ۔ اھ ۔ ذخیرۃ".

بدائع الصنائع: (72/5، ط: دار الکتب العلمیة)
ولو أرادوا القربة؛ الأضحية أو غيرها من القرب أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجبت على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار۔۔۔۔وهذا قول أصحابنا الثلاثة وقال زفر - رحمه الله -: لا يجوز إلا إذا اتفقت جهات القربة بأن كان الكل بجهة واحدة۔۔۔۔۔۔ ولنا أن الجهات وإن اختلفت صورةفهي في المعنى واحد؛لأن المقصود من الكل التقرب إلى الله عز شأنه

کذا فی فتویٰ بنوری تاؤن: رقم الفتوی: 144105200440

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 46 Jul 02, 2024

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.