عنوان: سورۃ توبہ کی ابتدا میں بسم اللہ نہ ہونے کی وجہ(101820-No)

سوال: سورۃ توبہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے نہ پڑھنے کے متعلق تفصیل ارشاد فرمادیں۔

جواب: سورۃ التوبہ کے شروع میں بسم الله نہ پڑھنے میں مختلف اقوال ہیں، جس میں سے دو مشہور ہیں، جن کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے:

(1) حضور  ﷺ کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ  ﷺ کاتبینِ وحی صحابہ کو بلاکر اس آیت کو جس جگہ جس سورت میں لکھنا ہوتا تھا بتلا کر اس آیت کو لکھوا لیتے، لیکن یہ آیتیں جنہیں سورۃ توبہ کے نام سے جانا جاتا ہے ان کے متعلق حضور  ﷺ نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا کہ انہیں کس سورت میں کس جگہ پر لکھنا ہے ؟ اس لیے ایسا سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ بھی ایک مستقل سورت ہوگی، تاہم سورۃ انفال کی آخری اور سورۃ توبہ کی ابتدائی آیات کے مضامین میں مناسبت پائی جاتی ہے، دونوں سورتوں میں مناسبت کی وجہ سے سورۃ توبہ کو سورۃ انفال کے بعد رکھا گیا،  دوسری طرف جب ایک سورت کو دوسری سورت سے علیحدہ کرنا ہوتا ہے، تو بیچ میں بسم اللہ لکھی جاتی تھی، تاکہ یہ معلوم ہو کہ دونوں سورتیں الگ الگ ہیں، سورۃ توبہ کے شروع میں بسم اللہ لکھوائی نہیں گئی، تاکہ ماقبل والی سورت کے ساتھ اس کا تعلق ہونا سمجھ میں آئے، اور چوں کہ یہ بات واضح نہیں تھی کہ سورۃ توبہ الگ سورۃ ہے یا سورۃ انفال ہی کا جز ہے، اس لیے دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے صحابہؓ کے زمانہ میں جب حضرت عثمان ؓ نے قرآن کو جمع کیا، تو اس کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی گئی، اور اگلی سورت سے اس کو الگ بتایا گیا، تاکہ دونوں سورتوں کو ایک ہی نہ سمجھ لیا جائے۔

کذا فی تفسير القرطبي:
"واختلف العلماء في سبب سقوط البسملة من أول هذه السورة على أقوال خمسة: الأول: أنه قيل: كان من شأن العرب في زمانها في الجاهلية إذا كان بينهم وبين قوم عهد فإذا أرادوا نقضه كتبوا إليهم كتاباً ولم يكتبوا فيه بسملةً فلما نزلت سورة براءة بنقض العهد الذي كان بين النبي صلى الله عليه وسلم والمشركين بعث بها النبي صلى الله عليه وسلم علي ابن أبي طالب رضي الله عنه فقرأها عليهم في الموسم ولم يبسمل في ذلك على ما جرت به عاد تهم في نقض العهد من ترك البسملة.

وقول ثان: روى النسائي قال: حدثنا أحمد قال: حدثنا محمد بن المثنى عن يحيى بن سعيد قال: حدثنا عوف قال: حدثنا يزيد الرقاشي  قال: قال لنا ابن عباس: قلت لعثمان: ما حملكم إلى أن عمدتم إلى [الأنفال] وهي من المثاني وإلى" براءة" وهي من المئين فقرنتم بينهما ولم تكتبوا سطر بسم الله الرحمن الرحيم ووضعتموها في السبع الطول ، فما حملكم على ذلك؟ قال عثمان: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا نزل عليه الشيء يدعو بعض من يكتب عنده فيقول: (ضعوا هذا في السورة التي فيها كذا وكذا) . وتنزل عليه الآيات فيقول: (ضعوا هذه الآيات في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا) . وكانت" الأنفال" من أوائل ما أنزل ، و" براءة" من آخر القرآن، وكانت قصتها شبيهة بقصتها وقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يبين لنا أنها منها فظننت أنها منها فمن ثم قرنت بينهما ولم أكتب بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم. وخرجه أبو عيسى الترمذي وقال: هذا حديث حسن". 
(ج6،ص61)


(2) بعض صحابہ وتابعین وغیرہ سے اس کی ایک وجہ یہ مروی ہے کہ بسم اللہ الخ ذریعہ امان ہے جب کہ اس سورت میں کفار سے براء ت اور ان کے حق میں رفع امان مذکور ہے اور یہ بسم اللہ الخ کے مناسب نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما في روح المعاني:

والحق أنہما سورتان إلا أنہم لم یکتبوا البسملة بینہما لما رواہ أبو الشیخ وابن مردویہ عن ابن عباس رضي اللہ عنہما عن علي کرم اللہ تعالیٰ وجہہ من أن البسملة أمان وبرائة نزلت بالسیف، ومثلہ عن محمد بن الحنفیة وسفیان بن عیینة ومرجع ذلک إلی أنہا لم تنزل في ہذہ السورة کأخواتہا کما ذکر إلخ․ 

(ج: 10، ص: 41، ط: دار إحیاء التراث العربي، بیروت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 219

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com