عنوان: شلوار ، پائجامہ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا حکم اور حضرت ابوبکر صدیق کے فعل سے جواز پر استدلال کرنے کا مفصل جواب(2013-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! اس بات کی وضاحت فرمادیں کہ ٹخنے ڈھانپ کے رکھنا کیا گناہ کبیرہ ہے؟ لوگ اکثر اس کی تاویل حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے منسوب کرتے ہیں کہ ان کو اس کی چھوٹ دی گئی تھی کہ ان پر تکبر کا شائبہ بھی نہ تھا تو آج کے دور میں عمومی طور پر لوگ تکبر کی نیت سے پائنچے ٹخنوں سے نیچے نہیں رکھتے تو کیا نیچے رکھنا گناہ ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ اگر امام کے ٹخنے ننگے نہ ہوں تو اس صورت میں اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟ جزاکم اللہ خیر

جواب: واضح رہے کہ عہد نبوی ﷺ میں عرب متکبرین کا یہ فیشن تھا کہ کپڑوں کے استعمال میں بہت اسراف سے کام لیتے تھے اور اس کو بڑائی کی نشانی سمجھتے تھے، ”ازار“ یعنی تہبند اس طرح باندھتے تھے کہ چلنے میں نیچے کا کنارہ زمین پر گھسٹتا تھااور مقصد اپنی بڑائی اور چودھراہٹ کی نمائش کرنا ہوتا تھا تو اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے اس کی سخت ممانعت فرمائی،
چنانچہ مسلم شریف کی روایت ہے کہ وعن ابن عمر رضی اللہ عنھما ان رسول اللہ ﷺ قال لا ینظر اللہ الی من جر ثوبہ خیلاء (صحیح مسلم، کتاب اللباس: حدیث نمبر 5411 )
ترجمہ:
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالی اس شخص کی طرف نہیں دیکھیں گے، جس نے اپنا کپڑا تکبر کے ساتھ کھینچا۔
 سنن ابی داؤد کی روایت ہے کہ عَنْ أبي سَعِیْدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سمعتُ رسولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یقولُ: ازارةُ المُوٴْمِنِ الٰی أنْصَافِ سَاقَیْہِ، لاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ فِیْمَا بَیْنَہ وَبَیْنَ الْکَعْبَیْنِ، وَمَا أسْفَلَ مِنْ ذٰلِکَ فَفِي النَّارِ، قَالَ ذٰلِکَ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ وَلاَ یَنْظُرُ اللّٰہُ یومَ القیامةِ الیٰ مَنْ جَرِّ ازارَہ بَطَرًا (ابوداوٴد، اللباس، باب فی قدر الموضع من الازار، حدیث نمبر: 4093)
ترجمہ:
   حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، فرماتے تھے کہ مومن بندے کے لیے ازار یعنی تہبند باندھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پنڈلی کے درمیانی حصہ تک ہو اور نصف ساق اور ٹخنوں کے درمیان تک ہو تو یہ بھی گناہ نہیں ہے، (یعنی جائز ہے)اور جو اس سے نیچے ہو تو وہ جہنم میں ہے(راوی کہتے ہیں) کہ یہ بات آپ ﷺ نے تین دفعہ ارشاد فرمائی(اس کے بعد فرمایا) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس آدمی کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا، جو ازراہِ فخروتکبر اپنی ازار گھسیٹ کے چلے گا۔
حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں: ان جیسے روایات سے پتہ چلا کہ پائجامہ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کے حرام ہونے کی اصل وجہ تکبر ہےاور تکبر ایک پوشیدہ امر ہے، حتی کہ بسااوقات مبتلی بہ شخص کو بھی اس کا پتہ نہیں چلتا ہے، لہذا پائجامہ لٹکانا تکبر کا سبب ہے، اگر یہ پائجامہ لٹکانا اپنے ارادے اور اختیار سے قصدا ہو تو ہر صورت میں ممنوع ہوگا اور اگر یہ پائجامہ لٹکانا اپنے ارادے اور اختیار سے قصدا نہ ہو تو پھر ممنوع نہیں ہوگا
کیا اگر تکبر نہ ہو تو ٹخنے سے نیچے کپڑے پہن سکتے ہیں؟
جو لوگ یہ کہتے ہیں، کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑے پہننے کو تکبر کی وجہ سے منع کیا گیا ہے،وہ حضرات، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعے سے استدلال کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں اجازت دی تھی،
چنانچہ بخاری میں ہے کہ
  عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: مَنْ جَرَّ ثَوْبَہ خُیَلَاءَ لَمْ یَنْظُرِ اللّٰہُ إلیہ یومَ القیامةِ، فقالَ أبو بکرٍ: یا رسولَ اللّٰہِ إزارِيْ یَسْتَرْخِيْ إلاَّ أنْ أتَعَاہَدُہ، فقالَ لَہ رسولُ اللّٰہِ ﷺ: إنَّکَ لَسْتَ مَنْ یَفْعَلُہ خُیَلَاءَ․ (بخاری، کتاب اللباس، باب من جر ازارہ من غیر خیلاء، حدیث نمبر: 5784، ابوداؤد، کتاب اللباس ، باب ماجاء فی اسبال الازار، حدیث نمبر:4085)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی فخرو تکبر کے طور پر اپنا کپڑا زیادہ نیچا کرے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر بھی نہیں کرے گا، حضرت ابو بکر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا تہبند اگر میں اس کا خیال نہ رکھوں، تو نیچے لٹک جاتا ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو، جو فخروغرور کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔
لیکن حضرت ابوبکر صدیق کے اس واقعہ سے یہ استدلال کرنا کہ پائجامہ لٹکانے کی ممانعت صرف تکبر کی وجہ سے ہے اور اگر تکبر کی وجہ سے نہ ہو تو منع نہیں ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق اپنے قصد اور ارادے سے ایسا نہیں کرتے تھے، بلکہ حضرت ابو بکر صدیق دبلے پتلے جسم والے تھے، جس کی وجہ سے کبھی کبھار چلتے ہوئے آپ کا تہبند بے دھیانی میں ٹخنوں سے نیچے سرک جاتا تھا، اور یاد آنے پر پھر فوراً آپ تہبند درست فرماتے
  ” کان  ابوبکر رضی اللہ عنہ  نحیفاً یستمسک ازارہ علیہ بل یسترخی عن حقویہ ” ( بذل المجہود، جلد 16،صفحہ  : 411)
خلاصہ کلام:
پائجامہ وغیرہ کا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ہر صورت میں مرد کے لیے منع ہے، چاہے وہ تکبر کی نیت سے ہو یا تکبر کی نیت سے نہ ہو ہے، البتہ اگر تکبر کی وجہ سے ہو یا قصداً ہو تو مکروہِ تحریمی ہے اور اگر تکبر کی نیت سے نہ ہو یا بغیر قصدو ارادے کے ہو تو مکروہِ تنزیہی ہے، اِس لئے بہرحال ٹخنہ سے نیچے پینٹ یا پائجامہ وغیرہ پہننے سے اجتناب کرنا چاہئے اور نماز کی حالت میں اس کی قباحت اور بڑھ جاتی ہے، چنانچہ
سنن ابی داؤد میں ہے کہ
  عَنْ أبي ہُرَیْرَة قال: بینما رجلٌ یصلي مُسْبِلاً إزارَہ، إذْ قَالَ لَہ رسولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذْہَبْ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، ثم قال: إذْہَبْ فَتَوَضَّأَ، فَذَہَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَہ رَجُلٌ: یارسولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم! مَا لَکَ أَمَرْتَہ أنْ یَّتَوَضَّأَ؟ قال: انَّہ کَانَ یُصَلِّيْ وَہُوَ مُسْبِلٌ ازَارَہ وَانَّ اللّٰہَ جَلَّ ذِکْرُہ لاَ یَقْبِلُ صَلاَةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ ازَارَہ․۔(ابوداوٴد، کتاب الصلاة، باب الاسبال فی الصلاة، حدیث نمبر: 638)
ترجمہ:
 حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہونے کی حالت میں نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: جاؤ، دوبارہ وضو کر کے آؤ، تو وہ شخص وضو کر کے آیا، پھر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: جاوٴ،وضو کر کے آؤ، وہ شخص گیا اور وضو کر کے آیا، ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: آپ ﷺ نے اسے وضو کرنے کا حکم کیوں فرمایا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ اپنی ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہونے کی حالت میں نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتے ،جو اپنی ازار ٹخنوں کے نیچے لٹکائے ہوئے ہو۔
اس سے معلوم ہواکہ نماز کی حالت میں اس کا ارتکاب زیادہ ناپسندیدہ عمل ہے ،اس لئے امام ہو یا مقتدی ، سب کو اس سے بچنا چاہئے ،البتہ اس کے باوجود نماز درست ہو جاتی ہے ،چنانچہ مذکورہ حدیث میں آپ ﷺ نے ان کو نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا؛ البتہ دوبارہ وضو کرنے کا حکم اس لیے دیا کہ وضو گناہ کا کفارہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

حاشیہ صحیح مسلم: (235/2، ط: مکتبة لدھیانوی)
فمانزل عن الکعبین فھو ممنوع فان کان للخیلاء فھو ممنوع منع تحریم و الا فمنع تنزیہ۔

تکملة فتح الملہم: (کتاب اللباس و الزینة، 123/4، ط: مکتبة دار العلوم کراتشی)
والحاصل۔ عند ھذا العبد الضعیف عفااللہ عنہ۔ ان العلة الاصلیة من وراء تحریم الاسبال ھی الخیلاء، کماصرح بہ رسول اللہ ﷺ فی حدیث الباب و لکن تحقق الخیلاء امر مخفی ربما لایطلع علیہ من ابتلی بہ فاقیم سببہ مقام العلة و ھو الاسبال۔۔۔۔وعلی ھذا کلما تحقق الاسبال تحت اللکعبین جاء المنع الا فی غیر حالة الاختیار فان انتفاء الخیلاء فی ذلک متیقن لان الخیلاء لاتحقق بفعل لا قصد للعبد فیہ و من ھذہ الجھة اجاز رسول اللہ ﷺ الاسبال لابی بکر وقال لہ " لست ممن یصنع خیلاء"۔۔۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1528 Aug 28, 2019
shalwaar, pyjama waghaira takhnon/takhno se/say neechay/neeche latkaane/latkaanay ka hukm/hukum/hokm aur hazrat Abu Bakr (R.A) ke/kay fa'al/fail se/say jawaaz per/par istedlaal karne/karnay ka mufassil jawab. , Rulings regarding the keeping/hanging of a shalwar, pyjama, trousers, pants etc. below the ankle, and does the fact that Hazrat Abu Bakr (R.A) did it, make it permissible? detailed answer.

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.