عنوان: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات کی تحقیق (102052-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا یکم محرم الحرام حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات ہے؟

جواب: واضح رہے کہ کسی کی تاریخ ولادت یا وفات میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس اختلاف سے اس کی شخصیت پر اثر پڑتا ہے۔
حضرت عمر کی تاریخ شہادت میں مختلف اقوال ملتے ہیں، لیکن جمہور مورخین اس پر متفق ہیں کہ آپ کی شہادت ماہ ذی الحجہ میں ہوئی ہے، کوشش کے باوجود یکم محرم کو شہادت کی مضبوط روایت نہیں ملی، البتہ یکم محرم کو تدفین ہوئی ہے، چنانچہ مشہور مفسر و مؤرخ امام ابن جریر الطبری علیہ الرحمتہ (متوفی٣١٠ھ) نے اپنی مشہور تصنیف "تاریخ الامم والملوک" المعروف تاریخ طبری میں مختلف اقوال نقل فرمائے ہیں:

پہلا قول:
ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺳﻠﻢ ﺑﻦ ﺟﻨﺎﺩﺓ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺛﺎﺑﺖ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻋﻮﻑ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻲ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺟﻌﻔﺮ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻋﻦ اﻟﻤﺴﻮﺭ ﺑﻦ ﻣﺨﺮﻣﺔ- ﻭﻛﺎﻧﺖ ﺃﻣﻪ ﻋﺎﺗﻜﺔ ﺑﻨﺖ ﻋﻮﻑ- ﻗﺎﻝ: ﺧﺮﺝ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﻳﻮﻣﺎ ﻳﻄﻮﻑ ﻓﻲ اﻟﺴﻮﻕ۔ ﻗﺎﻝ: ﺛﻢ ﺗﻮﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻷﺭﺑﻌﺎء ﻟﺜﻼﺙ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ. ﻗﺎﻝ: ﻓﺨﺮﺟﻮا ﺑﻪ ﺑﻜﺮﺓ ﻳﻮﻡ اﻷﺭﺑﻌﺎء،ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺟﻌﻔﺮ: ﻭﻗﺪ ﻗﻴﻞ ﺇﻥ ﻭﻓﺎﺗﻪ ﻛﺎﻧﺖ ﻓﻲ ﻏﺮﺓ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﺳﻨﺔ ﺃﺭﺑﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ.
یہ کہ بدھ کی رات جبکہ ذی الحج میں تین دن باقی تھے کہ آپ فوت ہوگئے اور بدھ کی صبح دفن کیا گیا۔
ابوجعفر نے کہا کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کی وفات یکم محرم سن 24 ھجری میں ہوئی۔

دوسراقول:
ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻗﺎﻝ: ﻃﻌﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻰ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻨﻪ ﻳﻮﻡ اﻷﺭﺑﻌﺎء ﻷﺭﺑﻊ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ، ﻭﺩﻓﻦ ﻳﻮﻡ اﻷﺣﺪ ﺻﺒﺎﺡ ﻫﻼﻝ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﺳﻨﺔ ﺃﺭﺑﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ۔

ترجمہ : ابوبکر بن اسماعیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ کو بدھ کے دن سن 23 ھجری ذی الحج کی چار راتیں باقی تھیں کہ سیدنا عمرؓ کو زخم لگا اوراتوار کے دن سن 24 ھجری محرم کی پہلی تاریخ کو دفن کئے گئے۔

تیسرا قول:
ﻗﺎﻝ: ﻓﺬﻛﺮﺕ ﺫﻟﻚ ﻟﻌﺜﻤﺎﻥ اﻷﺧﻨﺴﻲ، ﻓﻘﺎﻝ: ﻣﺎ ﺃﺭاﻙ ﺇﻻ ﻭﻫﻠﺖ، ﺗﻮﻓﻲ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻨﻪ ﻷﺭﺑﻊ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ
ترجمہ:
عثمان اخنسی کہتے ہیں کہ یہ وھم ہے (یعنی جو پہلے بیان ہوا) سیدنا عمرؓ کی وفات ہوگئی تھی، جبکہ ذی الحج کی چار راتیں باقی تھیں، یعنی 26 ذی الحج۔

چوتھا قول:
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﻌﺸﺮ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺘﻞ ﻋﻤﺮ ﻳﻮﻡ اﻷﺭﺑﻌﺎء ﻷﺭﺑﻊ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ۔
ترجمہ : حضرت عمر بروز بدھ 26 ذی الحج سن 23 ھجری کو شہید کیے گئے۔

پانچواں قول:
ﻋﻦ اﺑﻨﻲ ﺷﻬﺎﺏ اﻟﺰﻫﺮﻱ، ﻗﺎﻟﻮا: ﻃﻌﻦ ﻋﻤﺮ ﻳﻮﻡ اﻷﺭﺑﻌﺎء ﻟﺴﺒﻊ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ.ﻗﺎﻝ: ﻭﻗﺎﻝ ﻏﻴﺮﻫﻢ: ﻟﺴﺖ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ.
ابن شھاب زہری کہتے ہیں کہ 23 ذی الحج کو زخمی کیے گئے اور وفات تین دن بعد یعنی 26 کو ہوئی۔

چھٹا قول:
ﻭﺣﺪﺛﺖ ﻋﻦ ﻫﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺘﻞ ﻋﻤﺮ ﻟﺜﻼﺙ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ۔
ترجمہ
آپ شہید کیے گئے، جبکہ ذی الحج کی تین راتیں باقی تھیں۔
(تاریخ الطبری:ج:4،ص:193۔194،ط:دارالتراث بیروت)

مشہور مؤرخ امام ابن اثیر علیہ الرحمتہ (متوفی٦٣٠ھ) اپنی مشہور زمانہ کتاب "اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ" میں سیدنا فاروق اعظمؓ کا یوم شھادت یوں بیان کرتے ہیں:
ﺭﻭﻯ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: ﻃﻌﻦ ﻋﻤﺮ ﻳﻮﻡ اﻷﺭﺑﻌﺎء ﻷﺭﺑﻊ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ، ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ، ﻭﺩﻓﻦ ﻳﻮﻡ اﻷﺣﺪ ﺻﺒﺎﺡ ﻫﻼﻝ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﺳﻨﺔ ﺃﺭﺑﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ، ﻭﻛﺎﻧﺖ ﺧﻼﻓﺘﻪ ﻋﺸﺮ ﺳﻨﻴﻦ، ﻭﺧﻤﺴﺔ ﺃﺷﻬﺮ، ﻭﺃﺣﺪا ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻳﻮﻣﺎ.
ﻭﻗﺎﻝ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻷﺧﻨﺴﻲ: ﻫﺬا ﻭﻫﻢ، ﺗﻮﻓﻲ ﻋﻤﺮ ﻷﺭﺑﻊ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ، ﻭﺑﻮﻳﻊ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻳﻮﻡ اﻷﺛﻨﻴﻦ ﻟﻠﻴﻠﺔ ﺑﻘﻴﺖ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ.
ﻭﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﻗﺘﻴﺒﺔ: ﺿﺮﺑﻪ ﺃﺑﻮ ﻟﺆﻟﺆﺓ ﻳﻮﻡ اﻷﺛﻨﻴﻦ ﻷﺭﺑﻊ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ، ﻭﻣﻜﺚ ﺛﻼﺛﺎ، ﻭﺗﻮﻓﻲ، ﻓﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﺻﻬﻴﺐ، ﻭﻗﺒﺮ ﻣﻊ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ. ﻭﻛﺎﻧﺖ ﺧﻼﻓﺘﻪ ﻋﺸﺮ ﺳﻨﻴﻦ، ﻭﺳﺘﺔ ﺃﺷﻬﺮ، ﻭﺧﻤﺲ ﻟﻴﺎﻝ، ﻭﺗﻮﻓﻲ ﻭﻫﻮ اﺑﻦ ﺛﻼﺙ ﻭﺳﺘﻴﻦ ﺳﻨﺔ، ﻭﻗﻴﻞ: ﻛﺎﻥ ﻋﻤﺮﻫ ﺧﻤﺴﺎ ﻭﺧﻤﺴﻴﻦ ﺳﻨﺔ، ﻭاﻷﻭﻝ ﺃﺻﺢ ﻣﺎ ﻗﻴﻞ ﻓﻲ ﻋﻤﺮ.۔۔۔۔۔" ﻭﻗﺎﻝ ﻗﺘﺎﺩﺓ: ﻃﻌﻦ ﻋﻤﺮ ﻳﻮﻡ اﻷﺭﺑﻌﺎء، ﻭﻣﺎﺕ ﻳﻮﻡ اﻟﺨﻤﻴﺲ
.
(ج: 4، ص ؛156، ط :دارالکتب العلمیہ)

پہلا قول ابوبکر بن اسماعیل والا جو پہلے ذکر ہو چکا ہے۔
دوسرا قول عثمان اخنسی والا وہ بھی پہلے گزر چکا ہے۔
تیسرا قول ابن قتیبہ کی وہی روایت ہے، جس کو عثمان اخنسی نے وھم قرار دیا ہے۔
مشہور و قدیم سیرت نگار محمد بن سعد الزھری علیہ الرحمتہ (متوفی٢٣٠ھ) نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "طبقات الکبیر" المعروف طبقات ابن سعد میں دو روایتیں نقل فرمائی ہیں:
ایک "ابوبکر بن اسماعیل" اور دوسری "عثمان الاخنسی" والی جو "اسد الغابہ" کے حوالہ سے اوپر گزر چکیں۔
ﻗﺎﻝ: ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻗﺎﻝ: ﻃﻌﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﻳﻮﻡ اﻷﺭﺑﻌﺎء ﻷﺭﺑﻊ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻭﺩﻓﻦ ﻳﻮﻡ اﻷﺣﺪ ﺻﺒﺎﺡ ﻫﻼﻝ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﺳﻨﺔ ﺃﺭﺑﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ.ﻓﻜﺎﻧﺖ ﻭﻻﻳﺘﻪ ﻋﺸﺮ ﺳﻨﻴﻦ ﻭﺧﻤﺴﺔ ﺃﺷﻬﺮ ﻭﺇﺣﺪﻯ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻟﻴﻠﺔ ﻣﻦ ﻣﺘﻮﻓﻰ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ اﻟﺼﺪﻳﻖ ﻋﻠﻰ ﺭﺃﺱ اﺛﻨﻴﻦ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﺳﻨﺔ ﻭﺗﺴﻌﺔ ﺃﺷﻬﺮ ﻭﺛﻼﺛﺔ ﻋﺸﺮ ﻳﻮﻣﺎ ﻣﻦ اﻟﻬﺠﺮﺓ.ﻭﺑﻮﻳﻊ ﻟﻌﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﻳﻮﻡ اﻻﺛﻨﻴﻦ ﻟﺜﻼﺙ ﻟﻴﺎﻝ ﻣﻀﻴﻦ ﻣﻦ اﻟﻤﺤﺮﻡ. ﻗﺎﻝ ﻓﺬﻛﺮﺕ ﺫﻟﻚ ﻟﻌﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻷﺧﻨﺴﻲ ﻓﻘﺎﻝ: ﻣﺎ ﺃﺭاﻙ ﺇﻻ ﻗﺪ ﻭﻫﻠﺖ. ﺗﻮﻓﻲ ﻋﻤﺮ ﻷﺭﺑﻊ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻭﺑﻮﻳﻊ ﻟﻌﺜﻤﺎﻥ ﻳﻮﻡ اﻻﺛﻨﻴﻦ ﻟﻠﻴﻠﺔ ﺑﻘﻴﺖ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻓﺎﺳﺘﻘﺒﻞ ﺑﺨﻼﻓﺘﻪ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﺳﻨﺔ ﺃﺭﺑﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ۔
(ج3، ص278، ط:دارالکتب العلمیہ)

مؤرخ ابو الحسن المسعودی (متوفی٣٤٦ھ) لکھتے ہیں:
حضرت عمر کو ان کی خلافت کے دوران ہی میں حضرت مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولولوہ نے قتل کر دیا تھا، اس وقت سن ہجری کا 23 واں سال تھااور بدھ کا دن تھا جب کہ ماہ ذی الحجہ کے اختتام میں چار روز باقی تھے۔
(مروج الذہب: ج:2، ص:240 ،ط:المکتبة العصریہ )

مشہور مؤرخ اور مفسر ابو الفداء ابن کثیر (متوفی٧٧٤ھ) مختلف اقوال لکھتے ہیں:
ﻗﺎﻝ اﻟﻮاﻗﺪﻱ ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻗﺎﻝ: ﻃﻌﻦ ﻋﻤﺮ ﻳﻮﻡ اﻷﺭﺑﻌﺎء ﻷﺭﺑﻊ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ، ﻭﺩﻓﻦ ﻳﻮﻡ اﻷﺣﺪ ﺻﺒﺎﺡ ﻫﻼﻝ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﺳﻨﺔ ﺃﺭﺑﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ، ﻓﻜﺎﻧﺖ ﻭﻻﻳﺘﻪ ﻋﺸﺮ ﺳﻨﻴﻦ ﻭﺧﻤﺴﺔ ﺃﺷﻬﺮ ﻭﺃﺣﺪا ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻳﻮﻣﺎ، ﻭﺑﻮﻳﻊ ﻟﻌﺜﻤﺎﻥ ﻳﻮﻡ اﻻﺛﻨﻴﻦ ﻟﺜﻼﺙ ﻣﻀﻴﻦ ﻣﻦ اﻟﻤﺤﺮﻡ. ﻗﺎﻝ: ﻓﺬﻛﺮﺕ ﺫﻟﻚ ﻟﻌﺜﻤﺎﻥ اﻷﺧﻨﺲ ﻓﻘﺎﻝ:ﻣﺎ ﺃﺭاﻙ ﺇﻻ ﻭﻫﻠﺖ. ﺗﻮﻓﻲ ﻋﻤﺮ ﻷﺭﺑﻊ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻭﺑﻮﻳﻊ ﻟﻌﺜﻤﺎﻥ ﻟﻠﻴﻠﺔ ﺑﻘﻴﺖ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻓﺎﺳﺘﻘﺒﻞ. ﺑﺨﻼﻓﺘﻪ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﺳﻨﺔ ﺃﺭﺑﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ. ﻭﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﻣﻌﺸﺮ: ﻗﺘﻞ ﻋﻤﺮ ﻷﺭﺑﻊ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻭﻛﺎﻧﺖ ﺧﻼﻓﺘﻪ ﻋﺸﺮ ﺳﻨﻴﻦ ﻭﺳﺘﺔ ﺃﺷﻬﺮ ﻭﺃﺭﺑﻌﺔ ﺃﻳﺎﻡ ﻭﺑﻮﻳﻊ ﻋﺜﻤﺎﻥ اﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ. ﻭﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﺟﺮﻳﺮ: ﺣﺪﺛﺖ ﻋﻦ ﻫﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﻗﺎﻝ: ﻗﺘﻞ ﻋﻤﺮ ﻟﺜﻼﺙ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻓﻜﺎﻧﺖ ﺧﻼﻓﺘﻪ ﻋﺸﺮ ﺳﻨﻴﻦ ﻭﺳﺘﺔ ﺃﺷﻬﺮ ﻭﺃﺭﺑﻌﺔ ﺃﻳﺎﻡ۔۔۔۔ﻋﻦ اﻟﺰﻫﺮﻱ ﻗﺎﻝ: ﻃﻌﻦ ﻋﻤﺮ ﻳﻮﻡ اﻷﺭﺑﻌﺎء ﻟﺴﺒﻊ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻭاﻟﻘﻮﻝ اﻷﻭﻝ ﻫﻮ اﻷﺷﻬﺮ۔
(ج:7، ص: 138،ط: دارالفکر بیروت)

ترجمہ :
پہلا وہی ابوبکر بن اسماعیل والا ، دوسرا وہی عثمان الاخنسی والا،تیسرا  ابو معشر کا جو طبری کے حوالہ سے پہلے بیان ہوا،چوتھا ھشام بن محمد کا یہ بھی طبری کے حوالہ سے گزر چکا، پانچواں زہری کا یہ بھی طبری کے حوالہ سے ذکر ہو چکا ہے۔ 
ان تمام اقوال کو نقل کرنے کے بعد حافظ ابن کثیر اپنی رائے یوں بیان کرتے ہیں کہ 
"والقول الاول ھو الاشھر"

یعنی پہلا قول زیادہ مشہور ہے کہ زخم 26 کو لگا اور دفن یکم محرم کو ہوئے۔
مشہور مؤرخ علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں
ولم يزل يذكر الله إلى أن توفي ليلة الأربعاء لثلاث بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، وصلّى عليه صهيب وذلك لعشر سنين وستة أشهر من خلافته.
(ج :2 ،ص:569،ط :دارالفکر بیروت)

ترجمہ :
زخمی ہونے کے بعد برابر ذکر اللہ کرتے رہے، یہاں تک کہ شب چہار شنبہ 27 ذی الحجہ 23 ہجری کو اپنی خلافت کے 10 برس 6 مہینے بعد جان بحق تسلیم ہوئے۔

علامہ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں بہت سے اقوال نقل کیے ہیں ان میں ایک قول یکم محرم کا بھی نقل کیا ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ اﻷﻋﺰ ﻗﺮاﺗﻜﻴﻦ ﺑﻦ اﻷﺳﻌﺪ ﺃﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﺠﻮﻫﺮﻱ ﺃﻧﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻟﺆﻟﺆ ﺃﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﺷﻬﺮﻳﺎﺭ ﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺣﻔﺺ اﻟﻔﻼﺱ ﻗﺎﻝ ﻭاﺳﺘﺨﻠﻒ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻋﻤﺮ ﻓﻤﻠﻚ ﻋﻤﺮ ﻋﺸﺮ ﺳﻨﻴﻦ ﻭﺳﺘﺔ ﺃﺷﻬﺮ ﻭﺛﻤﺎﻥ ﻟﻴﺎﻝ ﻭﻃﻌﻦ ﻟﻠﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻓﻤﻜﺚ ﺛﻼﺙ ﻟﻴﺎﻝ ﺛﻢ ﻣﺎﺕ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻳﻮﻡ اﻟﺴﺒﺖ ﻟﻐﺮﺓ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﺳﻨﺔ ﺃﺭﺑﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ
(ج:44، ص:478،ط: دارالفکر بیروت)
ترجمہ: حضرت عمر ذی الحجہ کے چند دن باقی تھے کہ زخمی کیے گئے اور تین دن تک زندہ رہے اور ہفتے کے دن یکم محرم کو انتقال فرماگئے۔

لیکن علامہ ابن عساکر نے جو تفصیل نقل کی ہے اس سے اس قول کی یہ تاویل ہوسکتی ہے کہ 26 ذی الحجہ کو زخمی کیے گئے اور تین دن زندہ رہے اور ہفتہ کے دن محرم کی چاند رات کو وفات پاگئے اور اس کی تائید علامہ سیوطی کی بات سے بھی ہوتی ہے اور خود علامہ ابن عساکر نے امام المؤرخین امام واقدی سے بھی یہی نقل کیا ہے
ﻗﺎﻝ اﻟﻮاﻗﺪﻱ ﻓﻲ اﻟﻄﺒﻘﺎﺕ ﻃﻌﻦ ﻋﻤﺮ ﻓﻲ ﺛﻼﺙ ﻟﻴﺎﻝ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻭﺗﻮﻓﻲ ﻟﻬﻼﻝ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﺳﻨﺔ ﺃﺭﺑﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻭﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﺘﺎﺭﻳﺦ ﻃﻌﻦ ﻳﻮﻡ اﻷﺭﺑﻌﺎء ﻷﺭﺑﻊ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ
(ج:44، ص:14،ط: دارالفکر بیروت)
علامہ جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ تاریخ الخلفاء میں لکھتے ہیں:
أصيب عمر يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة، ودفن يوم الأحد مستهل المحرم الحرام۔
(تاریخ الخلفاء ص: 109،ط: مکتبہ نزار المصطفی الباز)

ترجمہ:
حضرت عمر بدھ کے دن26ذی الحجہ 23ھجری کو شہید ہوئےاور ہفتہ کے دن محرم کی چاند رات کو دفن کئے گئے۔
شاہ عبدالعزیر دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "رہا تاریخ کا معاملہ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت بلا اختلاف 28 ذی الحجہ کو واقع ہوئی اور یکم محرم کو آپ مدفون ہوئے۔
(تحفہ اثنا عشریہ اردو: ص:،ط)

علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ نے شھادت کا عنوان قائم کرکے لکھا ہے:
"حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت 26 ذوالحجہ"
شہادت کا مکمل واقعہ ذکر کرنے لکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے تین دن بعد انتقال کیا اور محرم کی پہلی تاریخ ہفتہ کے دن مدفون ہوئے۔
(الفاروق:ص: 148۔152، ط: المصباح، کراچی)

مفتی زین العابدین میرٹھی لکھتے ہیں:
حضرت عمر کی وفات زخمی ہونے کے تیسرے دن 27 ذی الحجہ ۲۳ ہجری کو بدھ کی رات میں واقع ہوئی۔
(تاریخ ملت: ج:1،ص:291،ط:ادارہ اسلامیات، کراچی) 

خلاصہ کلام:
پہلی بات
جمہور کے نزدیک حضرت عمر فاروق چھبیس ذی الحجہ کو زخمی ہوئے۔ بعض کے نزدیک چھبیس سے پہلے زخمی ہوئے، اور بعض کے نزدیک ستائیس ذی الحج کو زخمی کیے گئے۔

اس پوری تفصیل سے یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔ جو مولانا یوسف لدھیانوی شہید نے " آپ کے مسائل اور ان کا حل" میں لکھی ہے کہ
"۔۔۔26 ذی الحجہ 23 ہجری بروز چہار شنبہ مطابق 31 اکتوبر 644 ء کو نماز فجر میں ابو لولو مجوسی کے خنجر سے زخمی پوئے، تین راتیں زخمی حالت پر زندہ رہے، 29 ذی الحجہ 3 نومبر کو وصال ہوا، یکم محرم 24 ہجری کو روضہ اطہر میں آسودہ خاک ہوئے، حضرت صہیب نے نماز جنازہ پڑھائی۔
(ج:1 ص: 151،ط:مکتبہ لدھیانوی )

دوسری بات:
حقیقت یہ ہے کہ ذی الحجہ یا محرم کی تاریخوں سے حضرت فاروق اعظم کی عظمت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، حضرت عمر، عمر رضی اللہ عنہ تھے اور فاروق اعظم تھے، مسلمانوں کی عزت و آبرو اور تاریخ اسلام کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1600
hazrat umar razi Allah anho ki tareekh e wafat / tarikhe inteqal ki tahqeeq / tehqiq, Research on the date of death of Hazrat Umar (RA)

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.