عنوان: مارکیٹ میں ریٹ بڑھنے کی صورت میں پرانا مال نئے ریٹ کے مطابق زیادہ نفع سے فروخت کرنے کا حکم    (102066-No)

سوال: مفتی صاحب ! آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ ایک چیز ھم نے مارکیٹ سے سستے دام میں خریدی، پھر وہ چیز مہنگی ہو گئی تو اب ہم اس چیز کو نئے ریٹ پر فروخت کر سکتے ہیں؟

جواب:
واضح رہے کہ شرعا منافع کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، لہذا دھوکہ اور جھوٹ سے بچتے ہوئے، جتنا بھی مناسب نفع رکھ کے فروخت کیا جائے اور باہمی رضامندی سے طے ہو جائے، تو ایسا کرنا جائز ہے، تاہم کسی مسلمان کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے حد سے زیادہ مہنگی چیز فروخت کرنا، باہمی خیر خواہی اور مروت کے خلاف ہے، لیکن بہر حال نفع حلال ہوگا۔

لما فی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
"(المادة 153) الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقاً للقيمة الحقيقية أو ناقصاً عنها أو زائداً عليها".
(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: ١/ ١٢۴)


(مزید سوال و جواب کے لیے وزٹ کریں)

http://AlikhlasOnlin.com

تجارت و معاملات میں مزید فتاوی

15 Sep 2019
اتوار 15 ستمبر - 15 محرّم 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com