resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کیا سنت پر عمل کرنا ضروری ہے؟ اور فقہاء نے سنت مؤکدہ ترک کرنے کو کیوں گناہ قرار دیا ہے؟ (2087-No)

سوال: کیا سنت کا ادا نہ کرنا یا چھوڑ دینا گناہ کے زمرے میں آتا ہے؟

جواب: مذکورہ بالا سوال کے جواب کو سمجھنے سے قبل چند ضروری باتوں کو ذہن نشین کرلینے سے جواب سمجھنے میں سہولت ہوگی۔
١- واضح رہے کہ احکام شریعت کے جو درجات فقہاء کرام نے مقرر فرمائے ہیں، وہ گہرے غور وفکر کے بعد اصول فقہ کی روشنی میں مقرر فرمائے ہیں۔
٢- قرآن کریم کے اندر جو احکامات آئے ہیں، وہ اصولی اور مجمل ہیں، جن کی تفسیر صحابہ کرام نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرکے ان پر عمل کیا ہے، چنانچہ کسی حکم کو فرض، واجب، سنتِ مؤکدہ، سنت غیر مؤکدہ، مستحب اور مباح وغیرہ قرار دینے جیسی اصطلاحات ان کے پیش نظر نہیں تھیں، بلکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی ہر ھدایت پر بلا چوں وچراں عمل کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے جیسے عمل کرنے کو دین پر چلنے کا معیار قرار دیا گیا ہے۔
بہر کیف! شریعت کے جتنے بھی احکامات ہیں، ان کی اپنی اپنی اہمیت مسلم ہے، لہذا کسی حکم شرعی کو معمولی سمجھنا، یا اس سے صرف نظر کرنا، مثلا سنن و نوافل کی اہمیت سے پہلو تہی کرنا، گویا کہ عبادات کی روح کو ختم کرنا ہے۔
ویسے بھی فرائض اور واجبات پر عمل کرنا یہ اللہ تعالی کے ساتھ ہمارے قانونی تعلق کا تقاضا ہے اور سنن و مستحبات پر عمل کرنا، حق تعالی کے ساتھ ہماری محبت کے تعلق کا تقاضہ ہے، اس تعلق میں اضافہ کرنے اور اس کو بتدریج بڑھانا مطلوب شرعی ہے۔
"اتباع سنت کی اہمیت"
اللہ تعالی کا محبوب بننے کی بنیادی شرط جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اتباع کو قرار دیا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
"قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله"
(سورۃ آل عمران)
ترجمہ: اے نبی! آپ کہیے! اگر تم اللہ کو چاہتے ہو، تو میری پیروی کرو، تب اللہ تم سے پیار کرے گا۔
لہذا جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی جس قدر پیروی کرے گا، وہ اتنا ہی آپ کے قریب ہوگا، اس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالی کا محبوب بن جائے گا، گویا اتباع سنت ہی روح عبادت اور حاصل بندگی ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے:
" من یطع الرسول فقد الله "
(سورة النساء:٨۰ )

ترجمہ:
جس شخص نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
ارشاد الہی ہے:
" ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزا عظیما".
(سورۃ الأحزاب: ٧١)

ترجمہ:
اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، سو وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا۔
ان قرآنی ھدایات سے اتباع سنت کی تاکید اور اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ایک غلط خیال کی اصلاح:
آج کل دین و شریعت کے اصولوں سے ناواقف لوگ، یہ سمجھتے ہیں کہ دین کے احکامات صرف فرائض و واجبات کی حد تک ہیں، باقی سنتیں پڑھنا کوئی ضروری نہیں ہے، بلکہ ان کو پڑھا جائے تو ثواب ملے گا نہ پڑھنے پر کوئی گناہ نہیں ہے، اس سلسلے میں وہ سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ میں کوئی فرق نہیں کرتے۔
خوب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ خیال بہت ہی ناسمجھی پر مبنی ہے، اگر سنتوں کا معاملہ اتنا ہی ہلکا ہوتا جتنا سمجھ لیا گیا ہے، تو پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان بے شمار احادیث کا کیا مطلب سمجھا جائے گا، جن میں سنت پر عمل کرنے کی بے انتہا تاکید آئی ہے اور ترک سنت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے؟
ذیل میں اس سلسلے کی چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں:
"جنت میں داخلہ اتباع سنت پر منحصر ہے"
فی صحیح البخاری:
" عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کل امتی یدخلون الجنۃ الا من ابی قالوا ومن ابی قال من اطاعنی دخل الجنۃ ومن عصانی فقد ابی"
( صحیح البخاری: کتاب الاعتصام، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، رقم الحدیث : ٧٢٨۰)

ترجمہ :
حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی، سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا، صحابہ کرام نے عرض کیا: اور وہ انکار کرنے والا کون ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری اطاعت نہ کی، گویا اس نے انکار کیا( جس وجہ سے وہ جنت میں جانے سے محروم رہے گا)۔

جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے:
" عن انس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : من رغب عن سنتی فلیس منی".
(السنۃ لابن ابی عاصم: ١/ ٣١، رقم الحدیث : ۶١)
(وکذا فی صحیح ابن خزیمۃ : ١/ ٩٩، رقم الحدیث : ١٩٧، عن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما، بلفظہ)

ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ دونوں فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔
فائدہ :
سنت پر عمل کرنے کی اس سے بڑھ کر کیا تاکید ہو سکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت ترک کرنے والے سے اپنا تعلق ہی منقطع فرما دیا۔
سنت سے اعراض کرنے والا سب سے بڑا ظالم ہے:
فی ذم الکلام واھلہ لابی اسماعیل الھروی:
" عن عدی بن حاتم الطائی رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ومن اظلم ممن رغب عن سنتی".
(ذم الکلام: ٢/ ٣۶٩، رقم الحدیث : ۴۵۶-۴۵٧)

ترجمہ :
حضرت عدی بن حاتم الطائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو میری سنت سے روگردانی کرے۔
اتباع سنت ہی نجات اخروی کا ذریعہ ہے:
وفی مسند الشامیین للطبرانی:
" عن انس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ألا! انی آتی یوم القیامۃ بطاعۃ ربی، ومن أخذ بطاعتی، فمن ثبت نجا، ومن خالف ھلک".
( مسند الشامیین للطبرانی: ١/ ١۰۶، رقم الحدیث : ١۵٩)

ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آگاہ رہو! میں قیامت کے دن اپنے رب کی اطاعت کے ساتھ آؤں گا، میری امت میں سے جس نے میری اطاعت کو لازم پکڑا اور جو میری اطاعت پر ثابت قدم رہا، وہ نجات پا جائے گا اور جس نے میری اطاعت سے روگردانی کی وہ ھلاک ہو جائے گا ۔
اتباع سنت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور جنت میں آپ کی معیت کا ذریعہ ہے
وفی ذم الکلام للھروی:
"انس بن مالک یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : من عمل بسنتی فقد أحبنی، ومن أحبنی کان معی فی الجنۃ".
(ذم الکلام وأھلہ للھروی: ٣/ ٣۴۰، رقم الحدیث : ٧١٢)

ترجمہ :
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے میری سنت پر عمل کیا، اس نے مجھ سے محبت کی اور مجھ سے محبت کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
سنت کو معمولی اور ہلکا سمجھنے والے کی دنیا وآخرت تباہ ہو جاتی ہے:
" الحکم بن عمیر الثمالی رضی اللہ عنہ یقول: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول :(فی حدیث طویل، وفی آخرہ، قال: )
آمر أمتی أن خذوا قولی وأطیعوا أمری واتبعوا سنتی، من أخذ بقولی، واتبع سنتی جاء یوم القیامۃ مع القرآن، ومن تھاون بحدیثی، وسنتی، فقد تھاون بالقرآن، ومن تھاون بالقرآن خسر الدنیا والآخرۃ؛ لأن اللہ یقول : ما آتاکم الرسول فخذوہ".
(ذم الکلام واھلہ : ٣/ ١٧۴،رقم الحدیث : ۶٢٧)

ترجمہ :
حضرت حکم بن عمیر الثمالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:(لمبی حدیث ہے، اس کے آخر کے الفاظ ہیں)
میں اپنی امت کو حکم دیتا ہوں، کہ میری حدیث کو تھامو! اور میری پیروی کرو! اور میری سنت کی اتباع کرو! جس نے میری حدیث کو تھاما اور میری سنت کی اتباع کی، وہ قیامت والے دن قرآن کریم کے ساتھ آئے گا۔
اور جس نے میری حدیث کو معمولی سمجھا( اھمیت نہ دی) اور میری سنت کو معمولی سمجھا(اھمیت نہ دی)، اس نے گویا قرآن کریم کو معمولی سمجھا اور جس نے قرآن کریم کو معمولی سمجھا، گویا وہ دنیا وآخرت میں برباد ہوگیا؛ اس لیے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: جو بات بھی رسول تمہارے پاس لے کر آئے، اسے لے لو۔
نوٹ:
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے سنت کی اھمیت واضح ہوتی ہے۔
بظاہر ان احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سنت کا حکم یہی ہے، لیکن فقہاء امت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کو سامنے رکھ کر تجزیہ فرمایا اور امت کے لیے عمل کرنے میں سہولت کے لیے ان احکام شریعت کے درجات متعین فرمائے ہیں، اس سلسلے میں انہوں نے اس بات کو ملحوظ رکھا کہ دین کے کس حکم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ کرام کا عمل کس درجہ پابندی کا تھا، اس عمل کے ترک پر کوئی وعید اور ملامت ہے یا نہیں، اگر ہے تو کس درجے کی ہے؟
اس کے نتیجے میں کسی حکم کو فرض، واجب اور سنت قرار دیا ہے۔
مثلا فجر کی سنتوں سے متعلق صحیح بخاری کی روایت ہے:
فی صحیح البخاری:
١١۶٩- " عن عائشۃ قالت: لم یکن النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی شیئ من النوافل اشد منہ تعاھدا علی رکعتی الفجر".
(صحیح البخاری : باب تعاھد الفجر، ومن سماھا تطوعا، رقم الحدیث : ١١۶٩)

حضرت عائشۃ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفلوں میں سے کسی بھی نماز کا اتنا اہتمام نہیں فرماتے تھے جتنا فجر سے پہلے دو رکعتوں کا اہتمام فرماتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ فجر کی سنتیں اہتمام سے ادا کرنی چاہییں، چنانچہ فقہاء کرام نے اس کو سنت مؤکدہ قرار دے دیا۔
اسی طرح صحیح بخاری ہی کی روایت ہے:
فی صحیح البخاری :
١١۵٩- " عن عائشۃ قالت : صلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم العشاء، ثم صلی ثمانی رکعات، ورکعتین جالسا، ورکعتین بین الندائین، ولم یکن یدعھما ابدا" ( صحیح البخاری : باب المداومۃ علی رکعتی الفجر، رقم الحدیث : ١١۵٩)

ترجمہ :
حضرت عائشۃ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا فرمائی، پھر آپ نے آٹھ رکعتیں ادا فرمائیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں اور دو اذانوں کے درمیان( فجر کی اذان و اقامت کے درمیان) دو رکعتیں پڑھیں اور آپ نے ان کو کبھی نہیں چھوڑا۔
اس طرح کی دیگر روایات کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء کرام ( فقہاء حنفیہ) نے دن رات کی فرض نمازوں کے ساتھ کچھ سنتوں کو مؤکدہ قرار دیا ہے، جن کی تعداد بارہ ہے، بقیہ اشراق، چاشت، اوابین، تحیۃ المسجد اور تحیۃ الوضو وغیرہ جیسی نمازوں کو سنت غیر مؤکدہ ( نفل) قرار دیا ہے۔
اسی طرح سنتوں سے متعلق ایک ضابطہ مقرر فرما کر
سنت کی دو قسمیں کر دیں:
لہذا سنت کی جو تعریف اور قسمیں فقہاء کرام نے ذکر فرمائی ہے وہ یہ ہے:
سنت وہ فعل ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام نے کیا ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں:
١- سنت مؤکدہ
٢- سنت غیر مؤکدہ
(سنت غیر مؤکدہ کی تعریف وہ ہے، جس میں سنت مؤکدہ والی بات نہ ہو، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس پر عمل کر لیا جائے، تو اجرو ثواب ملے گا اور اگر بلاعذر اسے ترک کریں، تو اس پر گناہ وملامت نہیں ہوگی)۔
سنت مؤکدہ :
وہ فعل ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہمیشہ کیا ہو اور بغیر کسی عذر کے ترک نہ کیا ہو۔
سنت مؤکدہ کا حکم:
عمل کے اعتبار سے واجب کی طرح ہے، یعنی بلاعذر سنت مؤکدہ کو چھوڑنے والا اور اس کے ترک کی عادت بنانے والا فاسق اور گنہگار ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم رہے گا۔
اس تعریف سے یہ معلوم ہوا کہ عذر کی حالت میں سنت مؤکدہ کو ترک کرنا گناہ نہیں ہے۔
سنت مؤکدہ کو ترک کرنا کب گناہ ہے؟
سنت مؤکدہ کو کسی عذر کی بنا پر کبھی کبھار ترک کیا جا سکتا ہے، البتہ سنت مؤکدہ کو بلاعذر شرعی ترک کرنا اور ہمیشہ نہ ادا کرنے کی عادت بنا لینا یقینا گناہ اور موجب ملامت ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو کامل اتباعِ سنت کی توفیق عطاء فرمائے، آمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (124/1)
"فالأولى ما في التحرير أن ما واظب عليه مع ترك ما بلا عذر سنة، وما لم يواظب عليه مندوب ومستحب وإن لم يفعله بعد ما رغب فيه".

و فیہ ایضا: (337/6)
"وفي الزيلعي في بحث حرمة الخيل: القريب من الحرام ما تعلق به محذور دون استحقاق العقوبة بالنار، بل العتاب كترك السنة المؤكدة، فإنه لا يتعلق به عقوبة النار، ولكن يتعلق به الحرمان عن شفاعة النبي المختار – صلى الله عليه وسلم – لحديث «من ترك سنتي لم ينل شفاعتي» فترك السنة المؤكدة قريب من الحرام، وليس بحرام اه.".

و فیہ ایضا: (388/6)
"وما في الزيلعي موافق لما في التلويح حيث قال: معنى القرب إلى الحرمة أنه يتعلق به محذور دون استحقاق العقوبة بالنار؛ وترك السنة المؤكدة قريب من الحرمة يستحق حرمان الشفاعة اه. ومقتضاه أن ترك السنة المؤكدة مكروه تحريما لجعله قريبا من الحرام، والمراد سنن الهدى كالجماعة والأذان والإقامة فإن تاركها مضلل ملوم كما في التحرير والمراد الترك على وجه الإصرار بلا عذر".

البحر الرائق: (29/1)
"فالأولى ما عليه الأصوليون من عدم ( عدم ) الفرق بين المستحب والمندوب وأن ما واظب عليه مع ترك ما بلا عذر سنة وما لم يواظب عليه مندوب ومستحب وإن لم يفعله بعد ما رغب فيه كذا في التحرير وحكمه الثواب على الفعل وعدم اللوام ( اللوم ) على الترك".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

kia sunnat par / per amal karna zarori he? or / aur kia fuqaha ne / ney sunnat e muakkida tark karne / karney ko gunaah qarar diya he / hey?, Is it necessary to follow the Sunnah? And why do the jurists consider it a sin to abandon the definite Sunnah/ muakkida?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)