عنوان: یزید کے لیے رحمة اللہ کہنے کا حکم(102181-No)

سوال: مفتی صاحب ! یزید کے نام کے آگے رحمۃ اللہ علیہ لگا سکتے ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ یزید کے بارے میں نہ قبرمیں سوال کیا جائے گا اور نہ حشر میں، اس کے بارے میں پوچھا جائےگا، لہذا جس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں ہے تو اس کے پیچھے لگ کر اپنا وقت ضائع کرنا مناسب نہیں ہے، بہرحال اہلِ سنت والجماعت  یزید کے تمام برے اعمال سے بیزار ہیں اور اُسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کے مقابلے میں غلطی پر سمجھتے ہیں اور اس کے اہل بیت کے ساتھ معاملات سے بیزار ہیں، لیکن اسے کافر قرار دینے کی کوئی حتمی دلیل نہیں ہےاور محض گناہ کرنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا،اس لیے کہ صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر نہیں ہوتا ہے کہ دائرہ اسلام سے نکل جائے، بلکہ اس گناہ کی وجہ سے فاسق ہوجاتا ہے، اسی وجہ سے یزید کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ توقف کیا جائے، توقف کا مطلب یہ ہے کہ نہ اُس کے لیے دعائےرحمت کی جائے اور نہ اُس پر لعن،طعن کیا جائے، بلکہ خاموشی اختیار کی جائے، کیونکہ لعنت کے معنیٰ ہیں “الله کی رحمت سے دور کرنا “۔ اور اس معنیٰ میں صرف وہی کافر قابلِ لعنت ہو سکتا ہے، جس کافر کی کفر پر موت قرآن وحدیث سے یقینی طور پر ثابت ہو، جیسے ابوجھل اور ابو لہب وغیرہ، ایسے کافر پر لعنت بھیجی جاسکتی ہے اورزندہ کافر یا جس کا کفر پر مرنا یقینی طور پر ثابت نہ ہو،اس پر لعنت نہ بھیجی جاسکتی ہے اور اسی طرح یزید کے لیے "رحمة اللہ علیہ"بھی نہ کہا جائے، کیونکہ عرف میں "رحمة اللہ علیہ" بزرگوں کے لیے کہاجاتا ہے۔

حضرت یوسف بنوری رحمہ اللہ “معارف السنن” میں لکھتے ہیں:
ویزید لا ریب فی کونہ فاسقاً ولعلماء السلف فی یزید وقتلہ الامام الحسین خلاف فی اللعن والتوقف۔ قال ابن الصلاح: فی یزید ثلاث فرق: فرقة تحبہ، وفرقة تسبہ، وفرقة متوسطة لا تتولاہ ولا تلعنہ۔ قال: وھذہ الفرقة ھی المصیبة․․․․ الخ۔”
(ج:۶ ص:۸)
ترجمہ: ”یزید کے فاسق ہونے میں تو کوئی شک نہیں، اور علمائے سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ یزید پر اور حضرت حسین کے قاتلین پر لعنت کی جائے یا توقف کیا جائے۔ ابن صلاح کہتے ہیں کہ: یزید کے بارے میں تین فرقے ہیں: ایک فرقہ اس سے محبت رکھتا ہے، ایک فرقہ اس سے بغض رکھتا ہے اور اسے گالیاں دیتا ہے، اور ایک فرقہ میانہ رو ہے، وہ نہ اسے اچھا جانتا ہے اور نہ اس پر لعنت کرتا ہے۔ ابن صلاح کہتے ہیں کہ: یہی فرقہ درستگی پر ہے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (كِتَاب اللِّبَاسِ، بَابُ الثِّيَابِ الْبِيضِ، رقم الحدیث: 5827)
عن يحيى بن يعمر، حدثه، ان ابا الاسود الدؤلي، حدثه ان ابا ذر رضي الله عنه حدثه، قال: اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثوب ابيض، وهو نائم، ثم اتيته وقد استيقظ، فقال:" ما من عبد قال لا إله إلا الله، ثم مات على ذلك، إلا دخل الجنة"، قلت: وإن زنى وإن سرق، قال:" وإن زنى وإن سرق"، قلت: وإن زنى وإن سرق، قال:" وإن زنى وإن سرق"، قلت: وإن زنى وإن سرق، قال:" وإن زنى وإن سرق"، على رغم انف ابي ذر، وكان ابو ذر إذا حدث بهذا، قال: وإن رغم انف ابي ذر۔

رد المحتار: (52/5)
” حقیقۃ اللعن المشھودۃ ھی الطرد عن الرحمۃ ، وھی لا تکون الا لکافر، ولذا لم تجز علی معین بدلیل وان کان فاسقا مشھورا کیزید علی المعتمد ، بخلاف نحو ابلیس وابی لھب وابی جھل فیجوز ، وبخلاف غیر المعین کالظالمین والکاذبین فیجوز ایضا ۔

شرح العقائد النسفیة: (ص: 333، ط: مکتبہ حقانیہ ملتان)
انمااختلفوا فی یزید بن معاویة حتی ذکر فی الخلاصة و غیرھا انہ لاینبغی اللعن علیہ و لا الحجاج
وقال صاحب النبراس تحت قولہ: واعلم انہ کثرالاختلاف فی ھذا المقام والذی حققہ المحققون ھو ان اللعن ثلاثة اقسام:
احدھا: اللعن بالوصف العام الوارد فی الشرع نحو لعن اللہ الکفار و الیھود و ھذا جائز۔۔۔۔۔
ثانیھا:اللعن علی الشخص المعین الذی صح موتہ علی الکفر باخبار الشارع کفرعون و ابی جھل و ابلیس وھو جائز۔
ثالثھا:علی شخص لم یعلم موتہ علی الکفر و ھو لایجوز سواء کان حیّا او میتا و کان بحسب الظاہر مؤمنا او کافرا لجواز ان یوفق اللہ سبحانہ الکافر للاسلام
ھذا ما قررہ المحققون ۔۔۔و بھذا ظہر ان استدلالھم علی لعن یزید بالنصوص العامة غیر صحیح و ان معنی اللعن فیھا ھو ذم الفعل لاتجویز لعن کل شخص بفعلہ فاحفظ ھذا التحقیق، ولاتکن من الذین لایراعون قواعد الشرع و یحکمون بان من نھی عن لعن یزید فھو من الخوارج۔ نعم قبح افعالہ مشھور و حب اھل البیت واجب لکن النھی عن لعنہ لیس للقصور فی حبھم بل لقواعد الشرع۔واللہ اعلم۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 509
yazeed ke / key liye rehmatullah kehne / kehney ka hokom / hokum, Ruling on saying may Allah have mercy on Yazid

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.