سوال:
السلام علیکم، عصر کی نماز باجماعت میں اگر صرف آخری رکعت ملے تو باقی کی تین رکعات کیسے پڑھنی ہوں گی؟ اسی طرح اگر مغرب کی آخری رکعت ملے تو باقی دو رکعت کیسے پڑھنا چاہیے؟ رہنمائی فرما دیں. جزاک اللہ
جواب: اس سلسلے میں ایک اصول یاد رکھنا چاہیے کہ جو رکعتیں آپ کو جماعت کے ساتھ ملی ہیں، وہی رکعتیں تصوّر کی جائیں گی کہ آپ کو ملی ہیں اور جو پہلی رکعتیں فوت ہوئی ہیں، وہ آپ سے فوت ہوئی ہیں، اس کو آپ نے بالترتیب دہرانا ہے، اور اس میں سورہ فاتحہ اور سورت بھی پڑھنی ہے، چنانچہ اگر کسی کو مغرب کی ایک رکعت ملی ہے تو یہ تصوّر کیا جائے گا کہ اس کو تیسری رکعت ملی ہے اور اس کے ذمہ پہلی دو رکعات باقی ہیں ،لہذا ان دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور سورت پڑھی جائے گی اور دونوں رکعتوں میں قعدہ بھی کیا جائے گا اور جس کو عصر کی ایک رکعت ملی ہے تو یہ تصوّر کیا جائے گا کہ اس کو چوتھی رکعت ملی ہے، اور اس کے ذمہ شروع کی تین رکعتیں باقی ہیں، لہذا شروع کی دو میں سورہ فاتحہ اور سورت، جبکہ آخری رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھی جائے گی اوران بقیہ تین رکعتوں میں پہلی اور آخری رکعت میں قعدہ بھی کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (596/1، ط: دار الفکر)
(والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتى يثني ويتعوذ ويقرأ، وإن قرأ مع الإمام لعدم الاعتداد بها لكراهتها مفتاح السعادة (فيما يقضيه) أي بعد متابعته لإمامه، فلو قبلها فالأظهر الفساد، ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی