resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: باپ کا اپنے بچوں کے ہونٹ چومنا(2193-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! جب یزید کے سامنے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا، تو اس نے لکڑی سے حضرت حسینؓ کے ہونٹوں کو چھوا تو کسی نے کہا کہ ایسا مت کر، کیونکہ میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹوں کو حضرت حسینؓ کے ہونٹوں پہ مس ہوتے دیکھا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اپنے بچوں کو ہونٹوں پہ چوم سکتے ہیں، اور کیا اپنی نا بالغ بیٹی کو باپ ہونٹوں چوم سکتا ہے؟

جواب: جی ہاں ! باپ اپنی پدری شفقت اور محبت میں اپنے بچوں کے ہونٹ چوم سکتا ہے، بشرطیکہ کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (کتاب الأدب، باب رحمة الولد و تقبيله و معانقته، رقم الحدیث: 5651)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَبَّلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رضي الله عنهما وَعِنْدَهُ الاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيْمِيُّ جَالِسًا، فَقَالَ الْأَقْرَعُ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ الله صلی الله عليه وآله وسلم ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما کو بوسہ دیا۔ اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اقرع بن حابس تمیمی بھی بیٹھے تھے وہ بولے: (یا رسول اﷲ!) میرے دس بیٹے ہیں، میں نے تو کبھی اُن میں سے کسی کو نہیں چوما۔ اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی طرف دیکھ کر فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اُس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

مسند احمد: (62/28)
عن معاوية، قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم " يمص لسانه - أو قال: شفته، يعني الحسن بن علي صلوات الله عليه - وإنه لن يعذب لسان أو شفتان مصهما رسول الله صلى الله عليه وسلم "

ترجمہ:
حضرت معاویہ فرماتے ہیں کہ : ”میں نے دیکھا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم حضرت حسن بن علی کی زبان یا ہونٹ کو چوس رہے تھے اور جس زبان اور ہونٹ کو حضورصلی الله علیہ وسلم نے چوسا ہو اُسے کبھی عذاب نہیں ہوسکتا۔“

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

walid / bap k apne / apney bacho / olad ke / key hont chomna, A father kissing his children's lips

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals