عنوان: زوال کے وقت سجدہ کرنے کی ممانعت کا حدیث سے ثبوت    (102223-No)  

سوال: السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاته، مفتی صاحب ! زوال کے وقت سجدہ نہیں کرنے کا حکم قرآن یا حدیث میں کہاں آیا ہے؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔ جزاك الله خيراً

جواب: واضح رہے کہ احادیث میں زوال کے وقت نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اورسجدہ بھی معنیً نماز کا ایک حصہ ہے، لھذا جب پوری نماز پڑھنا منع ہے، تو سجدہ کرنا بھی بدرجہ اولی منع ہوگا، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے:

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین وقتوں میں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے: اول سورج نکلنے کے وقت یہاں تک کہ بلند ہو جائے، دوسرا دوپہر کا سایہ قائم ہونے "یعنی نصف النھار" کے وقت یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اور تیسرا اس وقت جب کہ سورج ڈوبنے لگے یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔

دلائل:

کما فی الصحیح المسلم:
عن عقبۃ بن عامر الجہني رضي اللّٰہ عنہ قال: ثلاث ساعات کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ینہانا أن نصلي فیہن أو أن نقبر فیہن موتانا: حین تطلع الشمس بازغۃ حتی ترتفع، وحین یقوم قائم الظہیرۃ حتی تمیل الشمس، وحین تضیف الشمس للغروب حتی تغرب۔
(کتاب الصلاۃ، باب الأوقات التي نہی عن الصلاۃ فیہا)

وکذا فی الھندیۃ:
ثلاث ساعات لا تجوز فیھا المکتوبۃ ولا صلوۃ الجنازۃ ولا سجدۃ التلاوۃاذا طلعت الشمس حتی یرتفع وعند الانتصاف الی ان تزول واحمرارھا الی ان تغیب الاعصر یومہ ذلک فانہ یجوز ادائہ عند الغروب، ھکذا فی فتاوی قاضیخان
(کتاب الصلاۃ، الفصل الثالث في بیان الأوقات التي لا تجوز فیہا الصلاۃ وتکرہ فیہا)

وکذا فی الھدایۃ:
ولا سجدۃ تلاوۃ؛ لأنہا في معنی الصلاۃ… والمراد بالنفي المذکور في … سجدۃ التلاوۃ الکراہۃ،
(کتاب الصلاۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com





نماز میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

16 Oct 2019
بدھ 16 اکتوبر - 16 صفر 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com