resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: امام کا نمازیوں کے انتظار میں وقت مقررہ سے جماعت کو مؤخر کرنا(2225-No)

سوال: السلام علیکم،
مفتی صاحب ! ہماری رہائش ایک ایسے ٹاون شپ میں ہے، جو حال ہی میں آباد ہوا ہے. ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنائی گئی ہے، جہاں پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا ہوتی ہے. قاری صاحب بھی دستیاب ہیں، جو کہ خوش قسمتی سی عالم بھی ہیں. مسجد ایسی جگہ پر بنائی گئی ہے کہ وہاں سے آس پاس کے تمام گھر نظر آتے ہیں.
صورتحال یہ ہوتی ہے کہ جب نماز کا ٹائم پورا ہو جاتا ہے اور مسجد میں دو یا دو سے زیادہ مقتدی بھی موجود ہوتے ہیں، جو کہ وقت سے پہلے اہتمام کے ساتھ پہنچ چکے ہوتے ہیں. تو رواج یہ ہے کہ جماعت شروع کرنے سے پہلے اگر کوئ نمازی دور سے آتا ہوا نظر آجائے، تو اسکے پہنچنے تک نماز روک دی جاتی ہے، کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ صف بھی تیار کھڑی ہوتی ہے اور آنے والے کے انتظار میں نماز موقوف کر دی جاتی ہے، اگرچہ فاصلہ اتنا کم ہوتا ہے، اگر جماعت شروع کر بھی لی جائے تو آنے والا آرام سے پہلی یا دوسری رکعت میں شامل ہو جائے، لیکن اس کے باوجود بھی انتظار کرنا پڑتا ہے، اور اس دوران مسجد میں دنیاوی باتیں ہی ہوتی رہتی ہیں. تو کیا نماز کا وقت پورا ہونے کے بعد بھی کسی نمازی کا انتظار جائز ہے یا اس سے نماز کا یا مسجد کا وقار خراب ہونے کا اندیشہ ہے؟ شکریہ.

جواب: اگر اتفاقاً کبھی اس لئے تھوڑی تاخیر کرلی جائے کہ زیادہ لوگ جماعت میں شریک ہوجائیں تو مضائقہ نہیں ہے، لیکن مستقل تاخیر کا معمول بنالینا، کسی طرح مناسب نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (495/1، ط: دار الفکر)
فالحاصل أن التأخير القليل لإعانة أهل الخير غير مكروه.

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

imam ka namazion ke / key intizar me / mein waqt e muqarara se / sey jamat ko moakhar karna, Delaying the congregation / jamat from the appointed / fixed time while the Imam is waiting for the prayers

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)