عنوان: بینک میں ملازمت کرنے کا حکم     (102233-No)  

سوال: مفتی صاحب ! میں ایک بینک کے آئی ٹی کے شعبے میں ملازمت کرتا ہوں،کیا بینک میں کام کرنا اور اس کی آمدنی حرام ہے؟

جواب: واضح رہے کہ بینک دو طرح کے ہوتے ہیں(1) اسلامی (2) سودی۔ چونکہ اسلامی بینک کے مالی معاملات کی نگرانی جید علماء کرام کررہے ھوتے ہیں، اس لیے اسلامی بینک میں نوکری کرنے کی گنجائش ہے، تاہم وقتاً فوقتاً معلومات کرتے رہنا چاہئے، تاکہ اگر خدانخواستہ بینک کی طرف سے علماء و مفتیان کرام کے بتائے ہوئے طریقہ سے انحراف سامنے آئے تو بتایا جاسکے۔ جبکہ سودی بینک میں کام کرنے والے ملازمین سودی اور ناجائز معاملات میں معاون بن رہے ہوتے ہیں، اور شریعت میں ناجائز کام پر معاونت کرنا بھی منع ہے،اس لیے خاص طور پر سودی بینک کے ان شعبوں میں ملازمت جو براہ راست سودی لین میں مصروف عمل ہوں، جیسے اکاؤنٹس، کیش یا آئی ٹی کا شعبہ وغیرہ، یہ ملازمت کرنا حرام ہے اور اس ملازمت سے ملنے والی آمدنی بھی حرام ہے۔
قال اللہ تعالی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿٢٧٨﴾ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
الایہ279، البقرہ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
المائدة: الایہ2

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

تجارت و معاملات میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

16 Oct 2019
جمعرات 17 اکتوبر - 17 صفر 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com