عنوان: حضرت امام مہدی، حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ، ان حضرات کے مدفن کا ذکر (102289-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! سوال یہ ہے کہ امام مہدی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفنایا جائے گا، یہ بات کس حدیث میں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تو ابو بکرؓ اورعمرؓ دفن ہیں، اور حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کو ان کے پہلو میں کیوں دفن نہیں کیا گیا ؟ اور حضرت عیسی کو کہاں دفن کیا جائے گا؟

جواب: ۱- حضرت امام مہدی کی تدفین، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس میں ہونے سے متعلق کوئی صحیح روایت نہیں ہے۔
تاہم حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
"ویصلي علیہ روح اللہ عیسیٰ علیہ السلام، ویدفنہ في بیت المقدس
(کذا في شرح العقیدة السفارینیة: ۲/ ۸۱)".
(التعلیق الصبیح،کتاب الفتن، حدیث الأبدال:۶/ ۲۰۳، سعید)

ترجمہ:
حضرت امام مہدی کی نمازِ جنازہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پڑھائیں گے اور بیت المقدس میں دفن کریں گے۔

۲- متعدد روایات میں یہ مضمون ثابت ہوتا ہے کہ روضہ اقدس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہ کی تین قبروں کے ساتھ چوتھی قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی ہوگی اور وہ روزِ حشر انہی کے ساتھ محشور ہوں گے۔

مشکاة المصابيح میں ہے:
فی حدیث عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما: ینزل عیسی بن مریم إلی الأرض فیتزوج ویولد لہٗ ویمکث خمسا وأربعین سنۃ ثم یموت ، فیدفن معي فی قبري، فأقوم أنا وعیسی بن مریم فی قبر واحد بین أبی بکرؓوعمرؓ ۔‘‘

(مشکوۃ ،رقم الحدیث:۵۵۰۸۔ وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ لابن جوزی،باب لا ینبغی رفع الصوت فی المسجد:۲/۳۲۵ بحوالہ کنزالعمال للہندیؒ۔ شرح مشکاۃ للطیبی الکاشف عن الحقائق للسنن، کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ :۱۱/۳۴۸۰۔مرقاۃ شرح مشکوۃ :۸/۳۴۹۶، تحفۃ الاحوذی، کتاب المناقب،باب ماجاء فی فضل النبی: ۱۰/۶۲۔ المواہب اللدنیہ :۲/۳۸۲۔زرقانی علی المواہب:۸/۲۹۶۔۔۔۔ ’’ویدفن عیسی ابن مریم ؑ مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی روضتہ ۔۔۔۔ الخ ‘‘ )

ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
حضرت عیسیٰ علیہ السلام (قربِ قیامت میں آسمان سے) زمین پر اُتریں گے تو وہ نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی، دنیا میں ان کی مدتِ قیام (تقریباً) پینتالیس (45) برس ہوگی، پھر اُن کی وفات ہو جائے گی اور وہ میری قبر یعنی میرے مقبرہ میں میرے پاس دفن کیے جائیں گے (چنانچہ قیامت کے دن) میں اورعیسی ابن مریم علیہ السلام دونوں ایک ہی مقبرہ سے ابو بکرؓ اور عمرؓ کے درمیان سے اُٹھیں گے۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري ميں ہے:
’’قَالَ:وأنی لَک ذَلِک الْموضع مَا فِیہِ إلاَّ قَبْرِی وقبر أبی بکر وَعمرؓ، وَفِیہ عِیسَی بن مَرْیَم عَلَیْہِمَا الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ ۔‘‘
( عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ج:۸، ص:۲۲۸)

ترجمہ:
(ایک موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی مقام پر اپنے لیے تدفین کی خواہش ظاہر کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا)
’’تیرے لیے یہ کہاں ممکن ہے؟ اس مقام پر تو صرف میری اور ابوبکرؓ اور عمر ؓ کی قبریں ہوں گی اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام بھی اسی جگہ مدفون ہوں گے ۔‘‘

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ :
’’ حضرت عیسیٰ علیہ السلام [دوبارہ آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے] اس کے بعد آپ کی وفات ہو جائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر میں چوتھی قبر آپ کی ہوگی۔‘‘
(ختم نبوت:۴۷۶، بحوالہ الاشاعۃ للبرزنجی، رقم الحدیث:۵۵)

۳- حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے المناک واقعہ میں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ اس وقت باغیوں کا قبضہ تھا، آپ کی تدفین کے موقع پر باغیوں کی سرکشی کی وجہ سے نہ آپ کی تدفین روضہ اقدس میں ہوسکی اور نہ جنت البقیع میں تدفین کی جاسکی، بلکہ اس وقت عام قبرستان سے الگ " حش کوکب " نامی جگہ میں آپ کو سپرد خاک کیا گیا تھا۔
(ماخذہ: تاریخ اسلام: ۱/ ۲۴۰)

۴- حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہی کوفہ میں ہوئی تھی، اور وہاں " عزی " نامی قبرستان میں آپ کی تدفین کی گئی تھی۔
(ماخذہ: تاریخ اسلام: ۱/ ۲۹۶)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 774
hazrat imam mehdi,hazrat esa ailaehe salam,hazrat usman ghani raziallaho anho or hazrat Ali raziallaho ,in hazrat ke / key madfan ka zikar, Mention of the burials of Hazrat Imam Mahdi, Hazrat Isa (as), Hazrat Usman Ghani (RA) and Hazrat Ali (RA)

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.