عنوان: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی شان میں توہین کرنا اور قادیانیوں کو بھائی کہنے کا گناہ(102383-No)

سوال: مفتی صاحبان سے ایک سوال صحابہ کی گستاخی کرنا بڑا گناہ ہے یا ایک مسلمان کا قادیانیوں کو اپنا بھائی بہن کہنا زیادہ بڑا گناہ ہے؟ اور ان دو شخصوں کیلئے شریعت نے کیا کہا ہے اور کیا سزا مقرر کی ہے ؟

جواب: ۱- واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اس امت کا مدار ایمان ہیں، امت کو قرآن و حدیث، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہم تک پوری امانت کے ساتھ پہنچائی ہے، اسلام کے اولین جانثار ہیں، ان کی تعریف خود اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمائی ہے اور جن کی اللہ تعالی تعریف فرمائے، ایسی برگزیدہ ہستیوں کو برا بھلا کہنا یقیناً لعنت کا موجب ہے، ایک مقام پر مہاجرین و انصار کی عظمت و فضیلت کو یوں بیان فرمایاہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
{وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُم بِإِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّہُ عَنْہُمْ وَرَضُواْ عَنْہُ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ}
(سورة التوبۃ: ۱۰۰)

ترجمہ:
"اسلام میں سب سے پہلے آگے بڑھنے والے مہاجرین اور انصار اور پھر وہ جنہوں نے ان کی اچھی طرح پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے خوش ہو گئے اور اس نے ان کیلئے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے"۔

خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں خود ارشاد فرمایا:

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ".
(الصحیح مسلم،حدیث نمبر: ۲۵۴۰ ٬ فضائل صحابہ امام احمد : ۵۳۴ ، سنن الکبری للنسائی : ۸۲۵۱ ، سنن ابن ماجہ ۱۶۱)

ترجمہ:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے اصحاب کو برا مت کہو، میرے اصحاب کو برا مت کہو، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا (اللہ کی راہ میں) خرچ کرے تو ان کے دیئے ایک مُد (آدھ کلو) یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔
لہذا حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کی تنقیص کرنا برا بھلا کہنا، طعن وتشنیع کرنا ناجائز اور حرام ہے، بلکہ ایسے شخص کو اپنے ایمان کی خبر لینا چاہیے۔

۲- کافر کو دلی محبت اور تعلق کی وجہ سے یا دین کی وجہ سے اسے بھائی کہنا درست نہیں ہے، تاہم اگر کسی کا وہ نسبی بھائی ہو یا اس کا وطن اور قوم ایک ہو، اس نسبت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر بھائی کہا جائے، تو اس نسبت کی وجہ سے بھائی کہنے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی فتح المغیث:

"إذا رأیت الرجل ینقص أحدا من أصحاب رسول اللہ ﷺ فاعلم أنہ زندیق، وذلک أن القرآن حق، والرسول حق، وما جاء بہ حق، وما أدی ذلک إلینا إلا الصحابۃ، فمن جرحہم إنما أراد إبطال الکتاب والسنۃ، فیکون الجرح بہ ألیق، والحکم علیہ بالزندقۃ والضلالۃ أقوم وأحق".

(ص: ۳۷۵)

وکذا فی مظاہر حق:

(ج: ۴، ص: ۶۵۵، مطبوعہ نولکشور)

وفی المرقاة:

"إعلم أن سب الصحابۃ من أکبر الفواحش، ومذہبنا ومذہب الجمہور أنہ یعزر، وقال بعض المالکیۃ: یقتل۔ وقولہ: بأنہ یقتل من سب الشیخین. وقولہ: کل کافر تاب فتوبتہ مقبولۃ في الدنیا والآخرۃ إلا جماعۃ الکافر بسب النبي ﷺ وسب الشیخین أو أحدہما...الخ".

(باب مناقب الصحابۃ، الفصل الأول، ج: ۱۱، ص: ۲۷۳، ط: إمدادیہ ملتان، حاشیۃ بخاري ۱/ ۵۱۵)

وفی عمدة القاري شرح صحيح البخاري:

’’ قَوْله: (الْمُسلم أَخُو الْمُسلم) ، يَعْنِي أَخُوهُ فِي الْإِسْلَام، وكل شَيْئَيْنِ يكون بَينهمَا اتِّفَاق تطلق عَلَيْهِمَا اسْم الْأُخوة. وَقَوله: الْمُسلم، تنَاول الْحر وَالْعَبْد والبالغ والمميز‘‘.

(ج: ١٢، ص: ٢٨٩)

وفی تفسير خواطر محمد متولي الشعراوي:

"وهذه المسألة لها سبب، ففي حنين اختلفوا على شيء وتفاقم بينهم هذا الخلاف، حتى صار معركة خاصة بين سفهاء القوم منهم واستعملوا فيها الأسلحة الخفيفة مثل العِصيِّ وسعف النخيل والشماريخ، وقبل أنْ تتحول إلى حرب حقيقية بلغ الأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لهم: " أصلحوا بين أخويكم ".
ذلك لأن المؤمنين إخوة في النسب من آدم عليه السلام، وإخوة في الإيمان، وإخوة النسب أسبق وتبعها إخوة الإيمان، وهذا يعني أن للكافر حقَّ أخوّة النسب، وإنْ لم يكُنْ له حق في أخوة الإيمان.

لذلك نقول في إخوة النسب إخوة، وفي الإيمان نقول:
{ إِخْوَٰناً عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَـٰبِلِينَ }

[الحجر: 47] لذلك تكتمل الأخوة في إخوة الإيمان.

ويُروى أن معاوية دخل عليه حاجبه. فقال: يا أمير المؤمنين بالباب رجل يستأذن في الدخول، ويدَّعي أنه أخوك، فضحك معاوية وقال: خدمتني كذا وكذا ولا تعرف إخوتي؟ قال: هكذا قال لي، قال: أدخله، فلما دخل سأله معاوية: أي إخوتي أنت؟ فقال: أخوك من آدم، فضحك معاوية وقال: رحم مقطوعة، والله لأكوننَّ أولَ مَنْ وصلها، وقضى له حاجته.
ولفظ الإخووة هنا يُقرِّب النفوس، ويُزيل ما بين الناس من طبقية أو عصبية، لذلك نجد الأسلوب القرآني حتى في مسألة القصاص في القتلى يقول:
{ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَٱتِّبَاعٌ بِٱلْمَعْرُوفِ... }

[البقرة: 178].

يريد أنْ يُذكره أنه أخوه رغم ما بينهما من عداوة و شحناء، فالله يُرقِّق القلوب حِرْصاً على سلامة المجتمع المسلم، ولمنزلة الأخوة فبالعلاقات الإنسانية قالوا في الحِكَم: رُبَّ أخ لك لم تلده أمك.".

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 257

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com