عنوان: کسی متواتر یا مشہور حدیث سے انکار کرنے کا حکم(102406-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! کسی نے حدیث سنائی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مفہوم اگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ تمہیں موت دے کر ایسے لوگ پیدا کرے گا، جو گناہ کر کے توبہ کرینگے۔ تو کسی نے یہ کہا کہ نعوذباللہ یہ کیسی بات ہے؟ ایسا ہوتا ہوگا، مگرمیں یہ بات نہیں مانتا تو اب کیا کیا جائے؟ رہنمائی فرما دیں

جواب: واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک احادیث پہنچنے کے دو بڑے طریقے اور انداز ہیں ،ایک طریقہ یہ ہےکہ کوئی حدیث رسو ل اللہ سے لے کر ہم تک اس طریقے پر پہنچی ہو کہ ہر زمانے میں اس حدیث کو نقل کرنے والے افراد کی تعداد اتنی زیادہ رہی ہوں کہ ان کی نقل کردہ بات کو جھوٹا قرار نہیں دیا جاسکتا ہو،اور نہ اس پر کسی قسم کا شک وشبہ کیا جاسکتا ہو، اس قسم کی حدیث کو متواتر حدیث کہتے ہیں ،اور بلاوجہ اس قسم کی حدیث سےانکار کرنے والا شخص کفر کا مرتکب ہوجاتا ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک احادیث پہنچنے کا دوسرا بڑا طریقہ یہ ہے، کہ کوئی حدیث رسو ل اللہ سے لے کر ہم تک اس طریقے پر پہنچی ہو ، کہ ہر زمانے میں اس حدیث کو کم از کم ایک یا ایک سے زیادہ افراد نے نقل کیا ہوں،لیکن ایک سے زیادہ ہونے کی صورت میں افراد کی تعداد اتنی زیادہ بھی نہ ہوں، کہ ان کی نقل کردہ بات کو بلاشک وشبہ تسلیم کیا جاسکتا ہو ،اور اس دوسرے طریقے پر پہنچنے والی احادیث کو خبرِ آحاد کہتے ہیں ، اور بلاوجہ اس قسم کی کسی حدیث سے انکار کرنے والا شخص سخت قسم کا گناہ گار اور گمراہ ہوتا ہے ۔
اور اس دوسر ے طریقے پر پہنچنے والی احادیث میں سے ایک قسم حدیث مشہور کی ہے ، حدیث مشہور اس قسم کی حدیث کو کہتے ہیں ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ہمارے زمانے تک اس کو نقل کرنے والے افراد کی تعداد کم از کم تین سے کم کہی بھی نہ رہی ہوں ،اور اس قسم کی حدیث سے بلا وجہ انکار کرنے والا
شخص بھی بہت بڑا گمراہ اور گناہ گار ہوتا ہے، بلکہ بعض علما کے نزدیک کفر تک کا مرتکب ہوتا ہے،البتہ اس قسم کی احادیث سے انکار مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے،جس کی وجہ سے اس کے منکر پر حکم لگانے میں فرق پڑھتاہے۔

اور سوال میں جو حدیث مذکور ہے، تو یہ بھی ایک مشہور حدیث ہے، اور مشہور حدیث سے انکار کرنے میں مختلف امکانات ہوتے ہیں ،اس لیے مذکورہ حدیث کو ماننے سے انکار کرنے میں دو امکان ہیں:
ایک یہ کہ اس آدمی نے اس حدیث سے انکار کسی مناسب قابلِ قبول وجہ سے کیا ہو ، کہ اس نے اس حدیث کے بارے میں یہ سمجھا ہو ، کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں ہے ، یا یہ حدیث دینی تعلیمات کے خلاف ہے ، یا یہ کہ اس آدمی نے حدیث سنانے والے شخص کو قابلِ اعتماد نہ سمجھا ہو ، یا کوئی اور قابلِ قبول مناسب وجہ پائی گئی ہو ، جس کی وجہ سے اس آدمی نے مذکورہ حدیث کو ماننے سے انکار کیاہو،تو ایسی صورت میں اس شخص نے اگر چہ حدیث نبویؐ کے بارے میں انتہائی بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو ماننے سے انکار کیا ہے ، البتہ اس کی وجہ سے وہ کسی بڑے گناہ میں مبتلا نہیں ہوا ہے ۔
دوسر ا یہ کہ اس آدمی نے مذکور حدیث کو ارشادِ نبویؐ سمجھتے ہوئے ، اس کو ماننے سے انکار کیا ہو، اور اس کے ذہن وخیال میں کوئی مناسب قابلِ قبول وجہ بھی نہ پائی گئی ہو ، تو ایسی صورت میں اس شخص کا ایمان صحیح قول کے مطابق اگر چہ برقرار ہے ، البتہ حدیث نہ ماننے کی وجہ سے اس سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوا ہے، بلکہ بعض علما کے نزدیک تو ایمان جانے کا بھی خطرہ لاحق ہوا ہے،جس کی وجہ سے اس شخص پر خوب توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے احادیث نبویؐ کے بارے احتیاط لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی صحیح لمسلم:

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «والذي نفسي بيده لو لم تذنبوا لذهب الله بكم، ولجاء بقوم يذنبون، فيستغفرون الله فيغفر لهم»

(كتاب التوبة، باب سقوط الذنوب بالاستغفار توبة، رقم الحدیث: 2749، ج: 4 ،ص: 2106، ط: دار الفكر)

وفی الشامیۃ:

ثم نقل في نور العين عن رسالة الفاضل الشهير حسام جلبي من عظماء علماء السلطان سليم بن بايزيدخان ما نصه إذا لم تكن الآية أو الخبر المتواتر قطعي الدلالة أو لم يكن الخبر متواترا، أو كان قطعيا لكن فيه شبهة أو لم يكن الإجماع إجماع الجميع أو كان ولم يكن إجماع الصحابة أو كان ولم يكن إجماع جميع الصحابة أو كان إجماع جميع الصحابة ولم يكن قطعيا بأن لم يثبت بطريق التواتر أو كان قطعيا لكن كان إجماعا سكوتيا ففي كل من هذه الصور لا يكون الجحود كفرا يظهر ذلك لمن نظر في كتب الأصول فاحفظ هذا الأصل فإنه ينفعك في استخراج فروعه حتى تعرف منه صحة ما قيل، إنه يلزم الكفر في موضع كذا، ولا يلزم في موضع آخر. اهـ.

(کتاب الجہاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 223، ط: ایچ ایم سعید)

وفی الفتاوى الهندية:

ومن أنكر المتواتر فقد كفر، ومن أنكر المشهور يكفر عند البعض، وقال عيسى بن أبان: يضلل ولا يكفر، وهو الصحيح ومن أنكر خبر الواحد لا يكفر غير أنه يأثم بترك القبول هكذا في الظهيرية.

(كتاب السير وهو مشتمل على عشرة أبواب، مطلب في موجبات الكفر، ج: 2، ص: 265، ط: رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 581

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.