عنوان: تقلید کی شرعی حیثیت اور تقلید کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ (102413-No)

سوال: السلام علیکم، امید کرتا ہوں کہ خیریت سے ہونگے، سر میرا سوال ہے کہ کیا ہمیں مقلد ہونا ضروری ہے؟ مطلب کسی امام کی تقلید کرنا لازمی ہے؟جیسے پاکستان میں کافی لوگ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کرتے ہیں، آیا کہ ہمیں کسی امام کی تقلید کرنا لازمی ہے یا نہیں؟ کیونکہ 14سو سال پہلے جب دین مکمل ہو گیا تھا، تب نہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تھے اور نہ کوئی اور امام تھے ۔

جواب: تمہید:
واضح رہے کہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں، اس کے ماہرین کی پیروی کرنا، نہ صرف جائز ہے, بلکہ اس شعبے کے کام کو خوش اسلوبی سے چلانے کا ضامن ہے، اگر اس شعبے کے ماہرین کی آراء کو نظر انداز کیا جائے، تو نہ صرف وہ کام نہیں ہو سکتا، بلکہ اس شعبے کا نظام بھی درھم برھم ہو جاتا ہے۔
مثلاً: جسمانی علاج و معالجہ کے لیے اگر ہم طبی اصولوں کو پس پشت ڈال کرعلاج کریں تو کبھی بھی ہم صحتیاب نہیں ہو سکتے، اور جس طرح ہر شخص علاج کرنے کا اھل نہیں ہوتا، اسے طبیب کی بات پر بلا حیل و حجت عمل کرنا پڑتا ہے، اگر ہر شخص علاج و معالجہ کرنے کے لیے اپنی رائے پر اعتماد کرنے لگے اور اس کو نہ روکا جائے، تو عین ممکن ہے کہ ایسا شخص اپنی جان کا بھی دشمن بن جائےگا اور دوسروں کے لیے بھی باعث خطرہ ثابت ہوگا۔

اس ضروری تمہید کے بعد سمجھنا چاہیے کہ دین کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے احکامات شریعت کے ماہرین کی پیروی کرنا بھی جائز اور عین فطرت انسانی کے مطابق ہے۔
اس پیروی کو عربی میں "تقلید" کہا جاتا ہے۔
لیکن موجودہ زمانے میں بعض اچھے بھلے سمجھدار لوگوں کی طرف سے، صرف احکام شریعت کےمتعلق دنیا کے اس مسلمہ اصول کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اور تقلید کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، بلکہ اسے شرک بتلایا جاتا ہے۔
اس سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں۔
زیر نظر تحریر میں تقلید کے مفہوم کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہات و اشکالات کا عام فہم انداز میں ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مرکز اطاعت کون؟
انسان کی پیدائش کا بنیادی مقصد اللہ تعالی کی بندگی ہے، جسے عربی میں عبادت کہا جاتا ہے، (عبادت کے مفہوم میں وسعت ہے، اس میں زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالی کی دی گئی ھدایات پر عمل کرنا، سب عبادت کے زمرے میں آتا ہے)
یہاں فطری طور پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے، مگر کیسے؟ اس کے لیے اللہ تعالی نے اپنے رسولوں کو بھیجا کہ وہ انسان کو بتائیں کہ اللہ تعالی کی اطاعت کیسے کرنی ہے؟
چنانچہ حکم دیا گیا کہ "أطیعوا اللہ وأطیعوا الرسول" اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی اس لیے واجب کی گئی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے احکامِ الٰہی کی ترجمانی فرمائی ہے۔
کون سی چیز حلال ہے؟ کون سی چیز حرام؟ کیا جائز ہے؟ کیا ناجائز؟ احکامات الہی پر خود عمل کرکے دکھایا۔
الغرض! خالصةً اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا واجب ہے، اور جو شخص اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے کسی اور کی اطاعت کرے، وہ یقینا دائرہٴ اسلام سے خارج ہے، لہٰذا ہر مسلمان پر صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہے۔
اس موقع پر ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے: "قرآن وسنت"
قرآن کریم میں احکامات الہیہ کا ذکر ہے، سنت سے مراد ان قرآنی احکامات کی عملی شکل ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے پیش فرمائی ہے۔

تقلید کا آسان مفہوم

قرآن و سنت کے تمام احکام ایسے نہیں ہیں، کہ جن کو ہر معمولی لکھا پڑھا آدمی سمجھ سکتا ہو، بلکہ ان احکامات میں سے بعض ایسے ہیں، جو بالکل واضح ہیں، ان میں کسی قسم کا ابہام نہیں پایا جاتا، سو ان پر عمل کرنا آسان ہے، مثلاً: توحید، رسالت، آخرت، ارکان اسلام جیسے: پانچ نمازیں، زکوٰة، روزے اور حج وغیرہ کی فرضیت، نیز زنا، سود، جوا، شراب نوشی، چوری اور قتل وغیرہ کی حرمت، یہ سب قرآن و سنت کے متفقہ اور قطعی احکام ہیں، ان پر عمل کرنے کے لیے کسی اجتہاد و تقلید کی ضرورت نہیں اور نہ ہی جائز ہے؛ کیونکہ اس میں کوئی پیچیدگی اور ابہام نہیں ہے۔
اس کے برعکس قرآن و سنت کے بہت سے احکام وہ ہیں، جن میں کوئی اِبہام یا اِجمال پایا جاتا ہے، اور کچھ احکام ایسے بھی ہیں، جو قرآن کریم ہی کی کسی دوسری آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کسی دوسری حدیث سے مختلف معلوم ہوتے ہیں، جیسے: عبادات، اور معاملات وغیرہ کے فروعی مسائل وغیرہ۔
اب قرآن و سنت سے احکام شریعت تلاش کرنے کی دو صورتیں ہیں:

۱- ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم اپنی فہم و بصیرت پر اعتماد کرتے ہوئے خود کوئی فیصلہ کر لیں اور خود سے قرآن وسنت کی تشریح شروع کر دیں اور اس پر عمل کریں۔
۲- دوسری صورت یہ ہے کہ ہم بھی وہی مسلمہ اصول یہاں بھی اپنائیں کہ قرآن وسنت کے سب سے زیادہ ماہرین کی تشریح کو اتھارٹی تسلیم کرتے ہوئے ان کی پیروی کریں۔
چنانچہ اسلام کے ابتدائی دور کے جن بزرگوں کو ہم علومِ قرآن و سنت کا زیادہ ماہر پائیں، انہی کی فہم و بصیرت پر اعتماد کریں اور انھوں نے جو کچھ سمجھا ہے، اس کے مطابق عمل کریں۔

مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں سے دوسری صورت بہت محتاط، سلامت فکر اور فطرت کےاصولوں کے مطابق ہے۔
لہذا اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ میں اپنی کم فہمی پر اعتماد نہیں کرتا، بلکہ ہمارے بزرگوں نے دین کی جو تشریح کی ہے، میں اس پر عمل کرتا ہوں، اس عمل کرنے کو" تقلید "کہا جاتا ہے۔

تقلید کن امور میں کی جائے گی؟

مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید صرف اس موقع پر کی جائے گی، جہاں قرآن و سنت سے کسی حکم کی مراد سمجھنے میں کوئی دشواری ہو رہی ہو۔

نیز کسی امام یا مجتہد کی تقلید کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اُسے بذاتِ خود صاحب شریعت سمجھ کر اتباع کی جا رہی ہے، اور اس کی ہر بات کو واجب الاتباع سمجھا جا رہا ہے۔
نہیں ! ایسا ہرگز نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اصل تقلید تو قرآن و سنت کی ہے، لیکن قرآن و سنت کی مراد کو سمجھنے کے لیے بحیثیت شارحِ قانون اُن کی بیان کی ہوئی تشریح و تعبیر پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت کے قطعی احکام میں کسی امام یا مجتہد کی تقلید ضروری نہیں سمجھی گئی، کیونکہ وہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا اصل مقصد ان کی تشریح کے بغیر بآسانی حاصل ہو جاتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیں کہ مقلد اپنے امام کے قول کو مآخذِ شریعت نہیں سمجھتا؛ کیونکہ مآخذِ شریعت صرف قرآن و سنت (اور انہی کے ذیل میں اجماع و قیاس) ہیں، البتہ یہ سمجھ کر اس کے قول پر عمل کرتا ہے کہ چونکہ وہ قرآن و سنت کے علوم میں پوری بصیرت و مہارت کا حامل ہے، اس لیے اس نے قرآن و سنت سے جو مطلب سمجھا ہے، وہ میرے لیے زیادہ قابلِ اعتماد ہے اور اسی مکمل اعتماد کا نام ”تقلید“ ہے، اور بس۔
اس تناظر میں غور فرمائیے کہ اس عمل میں کون سی بات ایسی ہے، جسے ’گناہ“ یا ”شرک“ کہا جا سکے؟

تقلید کی دو صورتیں
١- ایک یہ ہے کہ تقلید کے لیے کسی خاص امام و مجتہد کو معین نہ کیا جائے، بلکہ اگر ایک مسئلہ میں ایک عالم کا مسلک اختیار کیا گیا ہو، تو دوسرے مسئلہ میں کسی دوسرے عالم کی رائے قبول کر لی جائے، اس کو ”تقلیدِ مطلق“ یا ”تقلیدِ عام“ کہا جاتا ہے۔
٢- دوسری صورت یہ ہے کہ تقلید کے لیے کسی ایک مجتہد عالم کو اختیار کیا جائے، اور ہر ایک مسئلہ میں اسی کا قول معتبر مان کر اس پر عمل کیا جائے، اسی ”تقلیدِ شخصی“ کہا جاتا ہے۔
تقلید کی ان دونوں صورتوں کی حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ ایک شخص براہِ راست قرآن و سنت سے احکام تلاش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، تو وہ جس مجتہد کو قرآن و سنت کے علوم کا ماہر سمجھتا ہے، اس پر اعتماد کر کے اس کی تشریحات کے مطابق عمل کرتا ہے، اور یہ وہ چیز ہے جس کا جواز، بلکہ وجوب قرآن و سنت کے بہت سے دلائل سے ثابت ہے۔

چنانچہ صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے جو حضرات قرآن وسنت کے علوم ومعارف سے گہری واقفیت نہیں رکھتے تھے، وہ بھی فقہاءِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے رجوع کرتے وقت اُن کی بتائی ہوئی بات پر بلا چوں وچرا عمل فرماتے تھے، بلکہ اُن کے بتائے ہوئے مسائل پر اعتماد کر کے عمل فرماتے تھے۔

تقلید کی دونوں قسموں پر صحابہٴ کرام کے عہدِ مبارک میں عمل ہوتا رہا ہے، اور حقیقت یہی ہے کہ جو شخص قرآن و سنت سے براہِ راست احکام مستنبط کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، اصل کے اعتبار سے اس کے لیے تقلید کی دونوں قسمیں جائز اور درست تھیں۔

تقلید شخصی ہی کیوں؟

اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائے ہمارے بعد کے فقہاء کرام پر، جو اپنے اپنے زمانے کے نبض شناس تھے اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات پر گہری نگاہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائی تھی، انھوں نے بعد میں ایک زبردست انتظامی مصلحت کے تحت تقلید کی مذکورہ دونوں قسموں میں سے صرف ”تقلیدِ شخصی“ کو عمل کے لیے اختیار فرما لیا، اور یہ فتویٰ دے دیا کہ اب لوگوں کو صرف تقلیدِ شخصی پر عمل کرنا چاہیے اور کبھی کسی امام کی تقلید کے بجائے کسی ایک مجتہد (کے مکتبِ فکر) کو متعین کر کے اسی کے مذہب کی پیروی کرنی چاہیے۔

”انتظامی مصلحت“ کیا تھی؟
اس کو جاننے سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ انسان کا اپنی ”خواہش پرستی“ وہ زبردست گمراہی ہے، جو بسا اوقات انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے، اسی لیے قرآن و حدیث میں بے شمار مقامات پر خواہش پرستی کی مذمت فرمائی گئی ہے اور اس سے دامن بچانے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔
خواہش پرستی کی دو صورتیں ہیں:
١- ایک تو یہ ہے کہ انسان بُرے کام کو بُرا اور گناہ کو گناہ سمجھے، مگر اپنے نفس کی خواہشات سے مجبور ہو کر اس میں مبتلا ہو جائے۔
٢- دوسری صورت یہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کی غلامی میں اس حد تک پہنچ جائے کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر ڈالے اور دین و شریعت کو کھلونا بنا دے۔
یہ دوسری صورت پہلی سے زیادہ سنگین، خطرناک اور تباہ کن ہے، کیونکہ پہلی صورت میں جرم پر نادم ہو کر توبہ کرنے کی اُمید رہتی ہے، اس کے برعکس دوسری صورت میں ایسا نہیں ہے۔
صحابہ و تابعین کے زمانے میں، چونکہ خوفِ خدا اور فکرِ آخرت کا غلبہ تھا، اس لیے اُس دَور میں ”تقلیدِ مطلق“ سے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ لوگ اپنی خواہشات کے تابع ہو كر کبھی کسی مجتہد کا اور کبھی کسی مجتہد کا قول اختیار کریں گے، اس لیے اُس دَور میں ”تقلیدِ مطلق“ پر بلا روک ٹوک عمل ہوتا رہا اور اُس میں کوئی قباحت نہیں سمجھی گئی، لیکن بعد کے فقہاء كرام نے جب یہ دیکھا کہ دیانت کا معیار روز بروز گھٹ رہا ہے اور لوگوں پر نفسانیت غالب آتی جا رہی ہے، تو اس وقت انھوں نے مذکورہ بالا انتظامی مصلحت سے یہ فتویٰ دیا کہ اب لوگوں کو صرف تقلیدِ شخصی پر عمل کرنا چاہیے اور ”تقلیدِ مطلق“ کا طریقہ ترک کر دینا چاہیے، یہ کوئی شرعی حکم نہیں تھا، بلکہ ایک انتظامی فتویٰ تھا۔
كیونکہ اگر ایسی صورت میں تقلیدِ مطلق کی اجازت دی گئی، تو بہت سے لوگ جان بوجھ کر اور بہت سے غیر شعوری طور پر خواہش پرستی میں مبتلا ہو جائیں گے۔
مثلاً: ایک شخص کے سردی کے موسم میں خون نکل آیا، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا وضو ٹوٹ گیا، اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں ٹوٹا( یاد رکھیے! دونوں اماموں کے اس پر اپنے اپنے دلائل ہیں)
وہ اپنی تن آسانی کی وجہ سے اس وقت امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کی تقلید کر کے بلا وضو نماز پڑھ لے گا۔ پھر اُس کے تھوڑی دیر بعد اگر اس نے کسی عورت کو چُھو لیا، تو امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا وضو جاتا رہا، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برقرار ہے( دونوں اماموں کے اپنے اپنے دلائل ہیں) اس صورت میں اس شخص کی تن آسانی کے اس موقع پر اُسے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی تقلید کا سبق دے گی، اور پھر وہ بلا وضو نماز کے لیے کھڑا ہو جائے گا۔
غرض جس امام کے قول میں اُسے آرام اور فائدہ نظر آئے گا اسے اختیار کرے گا، اور جس قول میں کوئی مشکل نظر آئے یا خواہشات کی قربانی دینی پڑے اُسے چھوڑ دے گا، اور ایسا بھی ہو گا کہ اس کا نفس اسی قول کی صحت کی دلیلیں سُجھائے گا جو اُس کے لیے زیادہ آسان ہے اور وہ بالکل غیر شعوری طور پر خواہش پرستی میں مبتلا ہو گا۔ اس صورتحال کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ احکامِ شرعیہ نفسانی خواہشات کا ایک کھلونا بن کر رہ جائیں گے، اور یہ وہ چیز ہے جس کے حرامِ قطعی ہونے میں آج تک کسی مسلمان کا اختلاف نہیں ہوا۔
اس موضوع پر قرآن و حدیث کی نصوص اور علماءِ اُمت کی تصریحات بے شمار ہیں۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ یہ تسلیم فرماتے ہیں :
" اپنی خواہشات کے تابع ہو کر کبھی کسی کا اور کبھی کسی کا مذہب اختیار کرلینا بہ اجماعِ اُمت ناجائز ہے"۔

خلاصہ
یہ ہے کہ صحابہٴ کرام اور تابعین کے دَور میں دیانت عام تھی، جس پر اعتماد کیا جا سکتا تھا، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضِ صحبت سے اُن کی نفسانیت اس قدر مغلوب تھی کہ خاص طور سے شریعت کے احکام میں انھیں خواہشات کی پیروی کا خطرہ نہیں تھا، اس لیے ان حضرات کے دَور میں تقلیدِ مطلق اور تقلیدِ شخصی دونوں پر عمل ہوتا رہا، بعد میں جب یہ زبردست خطرہ سامنے آیا تو تقلید کو ”تقلیدِ شخصی“ ہی کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو احکامِ شریعت کے معاملہ میں جو افراتفری برپا ہوتی، اس کا تصور ہم مشکل ہی سے کر سکتے ہیں۔

چند شبہات کا ازالہ

تقلیدِ شخصی کی حقیقت و ضرورت واضح ہو جانے کے بعد دو مشہور شبہات کے جواب ملاحظہ ہوں:

١- سوال:
جو چیز عہدِ صحابہ و تابعین میں ضروری نہ تھی، بعد میں کیسے ضروری قرار دے دی گئی؟

جواب:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جمعِ قرآن کا واقعہ ( امت مسلمہ کو مختلف مصاحف قرآنی سے ایک مصحف کی طرف متوجہ کرنا اور اسی کو پوری امت کے لیے رائج کرنا) ”تقلیدِ شخصی“ کے معاملے کی ایک واضح نظیر ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُمت کی جس اجتماعی مصلحت کی بناء پر ایسا کیا، وہی صورتِ حال تقلید کے معاملے میں بھی پیش آئی، لہٰذا اس عمل کو بدعت نہیں کہا جا سکتا۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر اُمت کو کسی مقصد کے حصول کے لیے متعدد امور کا اختیار ملا ہو، تو وہ زمانے کے فساد کے پیشِ نظر ان میں سے کسی ایک طریقے کو اختیار کر کے باقی طریقوں کو چھوڑ سکتی ہے، اور تقلیدِ شخصی کے معاملے میں اس سے زائد کچھ نہیں ہوا۔

٢- سوال:
اگر کسی بھی ایک امام کو معین کر کے اس کی تقلید کرنا طے ہو گیا ہے، تو پھر صرف ان چار اماموں کی کیا خصوصیت ہے؟ اُمت کے دوسرے مجتہدین کی تقلید کیوں نہیں کی جاتی؟

جواب:
ان چار آئمہ کرام کے علاوہ حضرات کے فقہی مذاہب باقاعدہ مرتب و مدون شکل میں محفوظ نہیں رہ سکے، اگر ان حضرات کے مذاہب بھی اس طرح مدوّن ہوتے جس طرح ائمہ اربعہ کے مذاہب مدوّن ہیں، تو بلاشبہ ان میں سے کسی کو بھی تقلید کے لیے اختیار کیا جا سکتا تھا، لیکن نہ تو ان حضرات کے مذاہب کی مفصل کتابیں مدوّن ہیں، نہ ان مذاہب کے علماء پائے جاتے ہیں، اس لیے اب ان کی تقلید کی کوئی صورت نہیں بن سکتی۔

تقلید کے درجات اور اُن کے احکام

پھر تقلید کرنے والوں کے لحاظ سے تقلید کے چار مختلف درجات اور اُن میں سے ہر درجے کا حکم علیحدہ ہے۔
در حقیقت ان درجات میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور جو لوگ "تقلید" پر اعتراض کرتے ہیں، ان کے بیشتر اعتراضات اسی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں کہ انہوں نے تقلید کے درجات میں فرق نہیں کیا ہے، لہذا ان چار درجات کا سمجھنا بہت ضروری ہے، وہ درجات بالترتیب یہ ہیں:

١- عوام کی تقلید
٢- متبحر عالم کی تقلید
٣- مجتہد فی المذب کی تقلید
٤- مجتہد مطلق کی تقلید۔

١- عوام کی تقلید:
یہاں ”عوام“ سے ہماری مراد مندرجہٴ ذیل اقسام کے حضرات ہیں:
١- وہ لوگ جو عربی زبان اور اسلامی علوم سے بالکل ناواقف ہوں، خواہ وہ دوسرے فنون میں وہ کتنے ہی اعلی تعلیم یافتہ، ماہر اور محقق ہوں۔
٢- وہ لوگ جو عربی زبان جانتے اور عربی کتابیں سمجھ سکتے ہوں، لیکن انھوں نے تفسیر، حدیث، فقہ اور متعلقہ دینی علوم کو باقاعدہ اساتذہ سے نہ پڑھا ہو۔
٣- وہ حضرات جو رسمی طور پر اسلامی علوم پڑھ چکے ہوں، لیکن تفسیر، حدیث، فقہ اور ان کے اصولوں میں اچھی استعداد اور اب تک ان میں بصیرت پیدا نہ ہوئی ہو۔
مذکورہ بالا تینوں قسم کے حضرات تقلید کے معاملے میں ”عوام“ ہی کی صف میں شمار ہوں گے اور ان تینوں کا حکم ایک ہی ہے۔

عوام کی تقلید کا حکم
اس قسم کے عوام کو ”تقلید محض“ کے سوا چارہ نہیں، کیونکہ ان میں اتنی استعداد اور صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ براہِ راست قرآن و سنت کو سمجھ سکیں، یا اس کے متعارض دلائل میں تطبیق و ترجیح کا فیصلہ کر سکیں۔
لہٰذا احکامِ شریعت پر عمل کرنے کے لیے ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ کسی امام مجتہد کا دامن تھام لیں اور اس سے مسائلِ شریعت معلوم کریں۔

مقلد دلیل کا مطالبہ نہیں کرتا
اس درجے کے مقلد کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ دلائل کی بحث میں اُلجھے اور یہ دیکھنے کی کوشش کرے کہ کون سے فقیہ و مجتہد کی دلیل زیادہ راجح ہے؟ اس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کسی مجتہد کو متعین کر کے، ہر معاملے میں اسی کے قول پر اعتماد کرتا رہے۔
کیونکہ اس کے اندر اتنی استعداد موجود نہیں ہے کہ وہ دلائل کے راجح و مرجوح ہونے کا فیصلہ کر سکے، بلکہ ایسے شخص کو اگر اتفاقاً کوئی حدیث ایسی نظر آ جائے جو بظاہر اس کے امام مجتہد کے مسلک کے خلاف معلوم ہوتی ہو، تب بھی اس کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے امام و مجتہد کے مسلک پر عمل کرے، اور حدیث کے بارے میں یہ اعتقاد رکھے کہ اس کا صحیح مطلب میں نہیں سمجھ سکا، یا یہ کہ امام مجتہد کے پاس اُس کے معارض کوئی قوی دلیل ہو گی۔
بالفرض اگر ایسے مقلد کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ کوئی حدیث اپنے امام کے مسلک کے خلاف پا کر امام کے مسلک کو چھوڑ سکتا ہے، تو اس کا نتیجہ شدید افراتفری اور سنگین گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہو گا، اس لیے کہ قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط ایک ایسا وسیع و گہرا فن ہے اور ایسا بحر ناپید کنار ہے، کہ اس میں لوگوں کی عمریں کھپ جاتی ہیں، کر بھی ہر شخص اس پر عبور حاصل نہیں کر سکتا۔

قرآن و حدیث کو بغیر استاد کے خود سمجھنے سے کیوں منع کیا جاتا ہے؟
ایسی آیات و احادیث بیسیوں ہیں، جن کو قرآن و سنت کے علوم میں کافی مہارت کے بغیر انسان دیکھے گا، تو لامحالہ غلط فہمیوں میں مبتلا ہو گا، ان کا صحیح مفہوم ان کی آپس میں تطبیق یا کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا یہ مجتہدین ہی کا خاصہ تھا، عوام کا اس میں کوئی گذر نہیں، اب تک جس نے بھی اس موضوع میں رائے زنی کی کوشش کی ہے، وہ خود بھی صحیح راستے سے بھٹک گیا اور لوگوں کو بھی بھٹکایا۔
اسی بناء پر علماء نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے علمِ دین باقاعدہ حاصل نہ کیا ہو، اُسے قرآن و حدیث کا مطالعہ ماہر استاذ کی مدد کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔
ہمارے فقہاء نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ عوام کو براہِ راست قرآن و حدیث سے احکامِ شریعت معلوم کرنے کے بجائے علماء و فقہاء کی طرف رجوع کرنا چاہیے، بلکہ فقہاء نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر کسی عام آدمی کو کوئی مفتی غلط فتویٰ دے دے تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا، عام آدمی کو الزام نہیں دیا جائے گا، لیکن اگر عام آدمی کوئی حدیث دیکھ کر اس کا مطلب غلط سمجھے اور اس پر عمل کر لے، تو وہ معذور نہیں ہے؛ کیونکہ اس کا کام کسی مفتی کی طرف رجوع کرنا تھا، خود قرآن و سنت سے مسائل کا استنباط اس کا کام نہ تھا۔
جیسے: کسی قانون کی تشریح کرنے کا اختیار عدالت کے جج یا وکیل کو حاصل ہے اور اسی کی تشریح پر اعتماد کیا جاتا ہے، غیر جج یا غیر وکیل کسی قانون کی تشریح نہیں کر سکتا، اگر کرے گا تو اس کی تشریح پر اعتماد نہیں کیا جائے گا۔
بالکل اسی طرح ہماری شریعت کا قانون "قرآن و سنت" ہیں، اس کی تشریح وہی معتبر ہو گی جو صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین، آئمہ مجتہدین نے کی ہے، اسی کو معتبر مانا جائے، اور اسی پر اعتماد کیا جائے گا، ان کی تشریح سے ہٹ کر جو بھی تشریح ہوگی، وہ معتبر نہیں ہوگی۔

٢- متبحر عالم(دینی علوم میں گہری بصیرت رکھنے والے) کی تقلید:
”متبحر عالم“ سے ہماری مراد ایسا شخص ہے جو اگرچہ رُتبہٴ اجتہاد تک نہ پہنچا ہو، لیکن اسلامی علوم کو باقاعدہ ماہر اساتذہ سے حاصل کرنے کے بعد، انہی علوم کی تدریس و تصنیف کی خدمت میں اکابر علماء کے زیرِ نگرانی عرصہٴ دراز تک مشغول رہا ہو، تفسیر، حدیث، فقہ اور ان کے اصول اسے محفوظ ہوں، اور وہ کسی مسئلے کی تحقیق میں اسلاف کے علوم و معارف سے بخوبی فائدہ اُٹھا سکتا ہو، اور ان کے طرزِ تصنیف و استدلال کا مزاج شناس ہونے کی بناء پر ان کی صحیح مراد تک پہنچ سکتا ہو۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیہ ایسے شخص کو ”متبحر فی المذہب“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ایسا شخص بھی اگرچہ رُتبہٴ اجتہاد تک نہ پہنچنے کی وجہ سے مقلد ہی ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے مذہب کا مفتی بن سکتا ہے، ایسے شخص کی تقلید عوام کی تقلید سے کچھ امور میں مختلف ہوتی ہے۔

لیکن باوجود اس کے متبحر عالم ہونے کے مجموعی طور پر اُسے مقلد ہی کہا اور سمجھا جاتا ہے، چنانچہ بہت سے فقہاءِ حنفیہ نے اسی بناء پر امام ابو حنیفہ کے قول کو ترک کر کے دوسرے ائمہ کے قول پر فتویٰ دیا ہے۔

تنبیہ:
یہ مسئلہ انتہائی نازک ہے، اس لیے اس میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے اور ہر شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو متبحر علماء کی صف میں شمار کر کے اس منصب پر فائز ہو جائے۔

٣- مجتہد فی المذہب کی تقلید:
”مجتہد فی المذہب“ اُن حضرات اہل علم کو کہتے ہیں جو استدلال و استنباط کے بنیادی اُصولوں میں کسی مجتہد مطلق کے طریقے کے پابند ہوتے ہیں، لیکن اُن اصول و قواعد کے تحت جزوی مسائل کو براہِ راست قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ وغیرہ سے مستنبط کرنے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں، چنانچہ ایسے حضرات اپنے مجتہد مطلق سے بہت سے فروعی احکام میں اختلاف رکھتے ہیں، لیکن اصول کے لحاظ سے اس کے مقلد کہلاتے ہیں۔
مثلاً: فقہ حنفی میں امام ابو یوسف اور امام محمد، فقہ شافعی میں امام مزنی اور امام ابو ثور، فقہ مالکی میں سحنون اور ابن القاسم، اور فقہ حنبلی میں ابراہیم الحربی اور ابو بکر الاثرم (رحمہم اللہ تعالیٰ)۔
لہٰذا مجتہد فی المذہب اصول کے لحاظ سے مقلد اور فروع کے لحاظ سے مجتہد ہوتا ہے۔
ان کی تقلید بھی اس مسلک فقہی کے امام کی تقلید سمجھی جائے گی، کیونکہ ان استنباط مسائل کی بنیاد بھی وہی اصول ہوتے ہیں، جو ان کے امام مجتہد نے وضع کیے ہوتے ہیں، لہذا فقہ حنفی میں اگر بعض مسائل میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ یا امام محمد رحمہ اللّٰہ کے قول پر عمل کیا جائے، تب بھی یہ تقلید در حقیقت امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کی تقلید کہلائے گی۔

٤- مجتہد مطلق کی تقلید:
”مجتہد مطلق“ وہ شخص ہے جس میں تمام شرائط اجتہاد پائی جاتی ہوں اور وہ اپنے علم و فہم کے ذریعہ اصولِ استدلال بھی خود قرآن و سنت سے وضع کرنے پر قادر ہواور ان اصول کے تحت تمام احکامِ شریعت کو قرآنِ کریم سے مستنبط بھی کر سکتا ہو، جیسے: امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد وغیرہ (رحمہم اللہ تعالیٰ)۔ یہ حضرات اگرچہ اصول اور فروع دونوں میں مجتہد ہوتے ہیں، لیکن ایک طرح کی تقلید ان کو بھی کرنی پڑتی ہے، اور وہ اس طرح کہ جن مسائل میں قرآنِ کریم یا سنت ِصحیحہ میں کوئی تصریح نہیں ہوتی، وہاں یہ حضرات اکثر و بیشتر اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ خالصةً اپنی رائے اور قیاس سے فیصلہ کرنے کے بجائے، صحابہ و تابعین میں سے کسی کا کوئی قول یا فعل مل جائے، چنانچہ اگر ایسا کوئی قول و فعل مل جاتا ہے تو یہ حضرات بھی اس کی تقلید کرتے ہیں۔

تمام ائمہ مجتہدین نے اجتہاد کی شرائط کو پورا کر کے قرآن و حدیث کی صحیح مراد معلوم کرنے کی کوشش کی ہے، اس لیے سب کے مذاہب برحق ہیں، اور اگر کسی سے اجتہادی غلطی ہوئی ہے تو اللہ کے نزدیک وہ نہ صرف معاف ہے، بلکہ اپنی کوشش صرف کرنے کی وجہ سے مجتہد کو ايك گونا ثواب ہو گا، جس کی تصریح احادیث میں موجود ہے۔
البتہ ایک مقلد یہ اعتقاد رکھ سکتا ہے کہ میرے امام کا مسلک صحیح ہے، مگر اس میں خطا کا بھی احتمال ہے، اور دوسرے مذاہب میں ائمہ سے اجتہادی خطا ہوئی ہے، لیکن ان کے صحیح ہونے کا بھی احتمال ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تقلید کیوں نہیں کی جاتی؟
یہاں پہنچ کر ہمیں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ آئمہ مجتہدین چاہے فضیلت کے اعلی مقام پر فائز ہو جائیں، لیکن بہرحال ان کی درجہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ادنی صحابی سے کم تر ہے، پھر بجائے مجتہدین کی تقلید کے صحابہ کرام کی تقلید کیوں نہ کی جائے؟
خوب سمجھ لینا چاہیے! ائمہ کا درجہ کسی طور بھی ادنی صحابی سے زیادہ نہیں ہے، لہذا آئمہ اربعہ کی تقلید وجہ ان کی صحابہ کرام سے فضیلت نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقلید کے لیے ان تمام فروعی مسائل کا علم ہونا ضروری ہے، جن میں تقلید کی جاتی ہے، آج جس قدر تفصیل کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے کے مسائل ائمہ اربعہ کے مرتب و مدون ہیں، اس طرح تفصیل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کا مذہب مدون نہیں ملتا، نہ تابعین کا اور نہ ہی تبع تابعین کا، اس لیے ائمہ اربعہ رحمہ اللہ تعالٰی ہی کی تقلید کو اختیار کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالٰی نے قرآن وسنت کے تمام علوم ومعارف ان چاروں ائمہ مجتہدین کو عطاء فرمائے تھے، لہذا ان کی تقلید کرنا قرآن وسنت کی اتباع کرنا ہے اور یہی " أطيعو الله وأطيعوا الرسول" کا صحیح مصداق ہیں۔

تقلید کے موضوع کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے کتاب ملاحظہ فرمائیں:

تقلید کی شرعی حیثیت
مصنفہ : حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الآیۃ: 59)
"يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُوْلِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّأَحْسَنُ تَأْوِيْلًاo

احکام القرآن للجصاص: (210/2)
"اختلف فی تاویل اولی الامر فروی عن جابر بن عبداﷲ وابن عباس روایۃ والحسن وعطاء ومجاھد: انھم اولوا الفقہ والعلم".

"فان تنازعتم فی شیٔ فردوہ الی ﷲ والرسول فامر اولی الامر برد المتنازع فیہ الی کتاب ﷲ وسنۃ نبیہﷺ اذ کانت العامۃ ومن لیس من اھل العلم لیست ھذہ منزلتھم لانھم لایعرفون کیفیۃ الرد الی کتاب ﷲ والسنۃ ووجوہ دلائلھما علی احکام الحوادث فثبت انہ خطاب للعلماء ..."۔

و قولہ تعالی: (النساء، الآیۃ: 83)
"واذا جاء ھم امر من الامن اوالخوف اذاعوابہ ط ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم۔۔۔۔الخ

و قولہ تعالی: (النحل، الآیۃ: 43)
"فاسئلٓوا اھل الذکران کنتم لا تعلمونo

روح المعانی: (148/5)
"ویؤید ذلک مانقل عن الجلال المحلی انہ یلزم غیر المجتھد عامیا کان اوغیرہ التقلید للمجتھد لقولہ تعالی فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون".

صحیح البخاری: (باب میراث ابنۃ ابن مع ابنۃ، 997/2، رقم الحدیث: 6479)
"سئل أبو موسیٰ عن ابنۃ وابنۃ ابن، وأخت، فقال: للابنۃ النصف، وللأخت -إلی- فأتینا أبا موسیٰ فأخبرناہ بقول ابن مسعود، فقال: لاتسألوني ما دام ہذا الحبر فیکم۔

و فیہ أيضا: (کتاب الحج، باب إذا حاضت المرأۃ بعد ما أفاضت، 237/1، رقم الحدیث: 1725)
"عن عکرمۃ أن أہل المدینۃ سألوا ابن عباس عن امرأۃ طافت، ثم حاضت، قال لہم: تنفر، قالوا: لا نأخذ بقولک وندع قول زید".

مشكاة المصابيح: (324)
"عن معاذ بن جبل ان رسول اﷲﷺ لمابعثہ الی الیمن قال کیف تقضی اذا عرض لک قضاء قال اقضی بکتاب اﷲ قال فان لم تجد فی کتاب اﷲ قال فبسنۃ رسول اﷲﷺ قال فان لم تجد فی سنۃ رسول اﷲﷺ قال اجتھد برأی ولاالو قال فضرب رسول اﷲﷺ علی صدرہ وقال الحمدﷲ الذی وفق رسول رسول اﷲ لمایرضی بہ رسول اﷲ".

مرقاة المفاتيح: (239/7)
"قال الخطابي: لم یردبہ الرأی الذی یسنح لہ من قبل نفسہ أویخطر ببالہ علی غیر اصل من کتاب اوسنۃ بل اراد رد القضیۃ الی معنی الکتاب والسنۃ من طریق القیاس وفی ھذا اثبات للحکم بالقیاس".

حجۃ اللہ البالغۃ: (154/1، ط: مکتبہ حجاز)
"إن ہذہ المذاہب الأربعۃ المدونۃ المحررۃ قد اجتمعت الأمۃ، أو من یعتد بہ منہا علی جواز تقلیدہا إلی یومنا ہذا، وفي ذلک من المصالح مالا یخفی، لا سیما في ہذہ الأیام التي قصرت فیہا الہمم جدا واشربت النفوس الہوی، وأعجب کل ذی رأي برأیہ۔

و فیہ أيضاً: (154/1، ط: مکتبہ حجاز)
ان ھذہ المذاھب الاربعۃ المدونۃ قد اجتمعت الامۃ اومن یعتد بہ منھا علی جواز تقلیدھا الی یومنا ھذا وفی ذلک من المصالح مالایخفی لاسیما فی ھذہ الایام ……".

شرح جمع الجوامع للمعلی:
" والأصح أنہ یجب علی العامي
وغیرہ ممن لم یبلغ رتبۃ الاجتہاد التزام مذہب معین من مذاہب المجتہدین".

الموسوعة الفقهية: (21/1)
"إن الفقہ الإسلامي وإن کان مجموعۃ آراء لبعض العلماء، إلا أن ہذہ الآراء لا بد أن تکون معتمدۃ علی نص شرعي من کتاب اللہ أو سنۃ رسول اللہ ﷺ حتی إن الآراء المعتمدۃ علی الإجماع والقیاس وغیرہا من الأدلۃ المساندۃ لابد أن ترجع أخیرا إلی کتاب اللہ أو سنۃ رسولہ".

و فیہ أيضاً: (43/1)
"ومن ہنا یتبین أن مصادر الأحکام کلہا ترجع إلي الکتاب والسنۃ بصفۃ مباشرۃ".

الفتاوی الکبریٰ: (237/2)
"وقد نص الامام احمد انہ لیس لأحد أن یعتقد الشیٔ واجبا اوحراما ثم یعتقدہ غیر واجب اومحرم بمجرد ھواہ مثل ان یکون طالبا لشفعۃ الجوار فیعتقدھا انہاحق لہ ثم اذا طلبت منہ شفعۃ الجوار اعتقد انھالیست ثابتۃ …………فمثل ھذا ممن یکون فی اعتقادہ حل الشیٔ وحرمتہ ووجوبہ وسکوتہ بسبب ھواہ ھومذموم مجروح خارج عن العدالۃ وقد نص احمد وغیرہ علی ان ھذا لایجوز".

و فيه أيضا: (285/2)
"وھذا القول یخالف اجماع المسلمین فانھم متفقون علی ان من اعتقد حل الشیٔ کان علیہ ان یعتقد ذلک سواء وافق غرضہ اوخالفہ ومن اعتقد تحریمہ کان علیہ ان یعتقد ذلک فی الحالین وھؤلاء ………یکونون فی وقت یقلدون من یفسدہ وفی وقت یقلدون من یصحہ بحسب الغرض والھواء ومثل ھذا لایجوزباتفاق الائمۃ".

وقال العلامة النووی رحمه الله:
"ووجھہ انہ لوجاز اتباع ای مذھب شاء لافضیٰ الی ان یلتقط رخص المذاھب متبعاھواہ ، ویتخیر بین التحلیل والتحریم والوجوب والجوازوذلک یؤدی الی انحلال ربقۃ التکلیف بخلاف العصر الاول فانہ لم تکن المذاھب الوافیۃ باحکام الحوادث مھذبۃوعرفت، فعلی ھذا یلزمہ ان یجتھد فی اختیار مذھب یقلدہ علی التعیین. ولیس لہ المتذھب بمذھب احد من ائمۃ الصحابۃ ث وغیرھم من الاولین وان کانوا اعلم وأعلی درجۃ ممن بعدھم لانھم لم یتفرغوا لتدوین العلم وضبط اصولہ وفروعہ فلیس لاحد منھم مذھب مھذب ومحرر مقرر وانماقام بذلک من جاء بعدھم من الائمۃ الناحلین لمذاھب الصحابۃ والتابعین القائمین بتمھید احکام الوقائع قبل وقوعھا ، الناھضین بایضاح اصولھا وفروعھا کمالک وابی حنیفۃ وغیرھما".

واللہ تعالی اعلم باالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1743
taqleed ki shari hesiyat or / aur taqleed ke / key mutalliq ghalat fehmiyo ka izala, The legal status of Taqlid and the elimination of misconceptions about Taqlid

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.