سوال:
ایک شخص کی دو بیویاں تھی، ایک کا نام ساجدہ اور دوسری کا نام ماجدہ تھا اور دونوں ایک ہی مکان میں رہتی تھیں، مذکورہ بالا شخص ساجدہ سے فون پر بات کررہا تھا، لاؤڈ اسپیکر کھولا تھا، ساجدہ شاید کچھ کام میں ادھر ادھر ہوگئی۔ دوران گفتگو اس شخص نے ساجدہ کو پکارا تو اس کا جواب بجائے ساجدہ کے ماجدہ نے ہاں یا جی سے دیا۔ شوہر نے کسی بات کی وجہ سے کہا کہ تجھے تین طلاق تو کیا طلاق واقع ہوگئی؟ اگر واقع ہوگئی تو کس کو طلاق واقع ہوگی ساجدہ کو یا ماجدہ کو ؟
جواب: واضح رہے کہ مفتی غیب کا علم نہیں جانتا، بلکہ وہ سوال میں دی گئی معلومات کو سامنے رکھ کر جواب دیتا ہے، لہذا سوال میں لکھی گئی معلومات کے سچ یا خلاف واقعہ ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والے پر ہوگی۔
اس وضاحت کے بعد اب جواب یہ ہے کہ فون پر دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ فون پر گفتگو بھی آمنے سامنے گفتگو کی طرح ہے، لہذا اگر شوہر نے فون پر ساجدہ کا نام لیا ہے اور ساجدہ کو ہی طلاق دینا مقصود تھا، تو اس صورت میں یہ تین طلاقیں ساجدہ پر واقع ہوگئیں، ماجدہ پر واقع نہیں ہوئیں، لہذا ساجدہ تین طلاقیں پڑنے کی وجہ سے اپنے شوہر پر حرام ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (کتاب الطلاق، باب الصریح، 247/3)
"ولایلزم کون الإضافۃ صریحۃ في کلامہ إلٰی قولہ لوقال: امرأۃطالق،أوقال طلقت امرأۃ ثلاثا، وقال لم أعن امرأتي یصدق ویفہم منہ أنہ لولم یقل ذلک تطلق امرأتہ لأن العادۃ من لہ امرأۃ إنما یحلف بطلاقہا لابطلاق غیرہا".
البحر الرائق: (273/3)
"وفي المحيط: الأصل أنه متى وجدت النسبة وغير اسمها بغيره لا يقع؛ لأن التعريف لا يحصل بالتسمية متى بدل اسمها؛ لأن بذلك الاسم تكون امرأة أجنبية، ولو بدل اسمها وأشار إليها يقع".
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی