عنوان: مسلمانوں کا قبلہ اول کیا تھا؟ اور بیت المقدس قبلہ کیوں بنا؟(102461-No)

سوال: مفتی صاحب ! السلام علیکم، سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کا قبلہ حضرت ابراھیم علیہ سلام کے زمانے میں کعبہ تھا، پھر بیت المقدس کب اور کیوں ہوا؟ پھر بیت المقدس کے بعد کعبہ کیوں ہوا؟ اب مسلمانوں کے لیے بیت المقدس کی کیا فضیلت اور اہمیت ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب: قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ (96) سورۃ آل عمران
بلاشبہ سب سے پہلا گھر (عبادت گاہ) جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے، اس گھر کو برکت دی گئی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا "
لوگوں کی عبادت کیلئے سب سے پہلے جو گھر تعمیر ہوا وہ بیت اللہ ہی تھا، بیت المقدس نہیں تھا، کیوں کہ "بیت اللہ" کی سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے تعمیر کی تھی، جبکہ بیت المقدس کی تعمیر اول حضرت ابراہیم علیہ السلام نےبیت اللہ کی تعمیر کے چالیس سال بعد اپنے ہاتھوں سے کی تھی، اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو بیت المقدس کی تعمیر کی، یہ بھی بیت اللہ کی طرح بالکل نئی اور ابتدائی تعمیر نہ تھی، بلکہ سلیمان علیہ السلام نے بناءِ ابراہیمی پر اس کی ازسرِ نوتعمیر کی تھی ۔
رہا آپ کا یہ سوال کہ "بیت اللہ" کے ہوتے ہوئے بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنایا گیا؟ تو اس کا جواب بھی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بیان فرما دیا ہے، ارشاد ہے:

وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلاَّ عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللّهُ وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ.
ترجمہ:
اور آپ پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم (پرکھ کر) ظاہر کر دیں کہ کون (ہمارے) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتا ہے (اور) کون اپنے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے، اور بیشک یہ (قبلہ کا بدلنا) بڑی بھاری بات تھی مگر ان پر نہیں جنہیں اﷲ نے ہدایت (و معرفت) سے نوازا، اور اﷲ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان (یونہی) ضائع کردے۔
(البقرة، 2: 143)

درج بالا آیت سے معلوم ہوا کہ دورانِ نماز قبلہ تبدیل فرما کر اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی اطاعت کو پرکھا کہ کون میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پھر جاتا ہے اور کون اپنی جگہ پر کھڑا رہتا ہے، خانہ کعبہ کی موجودگی میں بیت المقدس کو قبلہ بنانے کی یہی علت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دی ہے۔
مسلمانوں کے لئے اب مسجد اقصی کی حیثیت اور فضیلت یہ ہیکہ مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ سابق ہے، جس طرح مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت ہے اسی طرح مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کی فضیلت ہے ،مسجد حرام کی بنسبت مسجد اقصی میں ایک چوتھائی ثواب ملتا ہے ، ایک روایت میں ہے مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار نمازوں کا ملتا ہے، اور مسجد اقصی میں ڈھائی سو نماز پڑھنے کا ثواب ملتا ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ ﷺ نے انبیاء کی امامت فرمائی ہے، سفر معراج کی پہلی منزل بیت المقدس ہے، بعض روایت میں ہے کہ معراج پر تشریف لے جاتے وقت ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کی امامت فرمائی تھی، جبکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ معراج سے واپسی پر آپﷺ نے بیت المقدس میں فجر کی نماز میں انبیاء کی امامت فرمائی، ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عبادت کی نیت سے کسی مسجد کا سفر کرنا درست نہیں ہے سوائے تین مساجد کے، مسجد حرام ، مسجد نبوی ، اور مسجد اقصی ، یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر بیت المقدس سے مسلمانوں کا رشتہ ایمانی اور مذہبی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

وفی الحدیث:
عن ابی ذر رضی اللہ عنہ قال: قلت یا رسول اللہ ، ای مسجد وُضع الاول؟ قال: المسجد الحرام، قلت: ثم ای؟ قال: ثم المسجد الاقصی، قلت: کم کان بینھما؟ قال: اربعون، ثم قال: حیثما ادرکت الصلاة فصل، والارض لک مسجد۔ (صحیح البخاری، ٣۴٢۵، کتاب احادیث الانبیاء)

وفیہ ایضا:
عنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا وَنَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهُمَا أَفْضَلُ: مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَسْجِدُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ فِيهِ، وَلَنِعْمَ الْمُصَلَّى، وَلَيُوشِكَنَّ أَنْ لَا يَكُونَ لِلرَّجُلِ مِثْلُ شَطَنِ فَرَسِهِ مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ يَرَى مِنْهُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا – أَوْ قَالَ: خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا –

مستدرک الحاکم؛4/509،المعجم الاوسط؛8226، 9/8226،شعب الایمان؛3849، 6/42

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 2869

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com