عنوان: اسباب پر بھروسہ کرنے والوں کا شرعی حکم(102556-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! جب بات یہ ہے کہ انسان کے مقدر میں جتنا رزق لکھ دیا گیا ہے وہ اس کو مل کر ہی رہتا ہے، تو پھر لوگ انسانوں کے آگے ہاتھ باندھے کیوں کھڑے رہتے ہیں، اور ڈرتے ہیں کہ کہیں ملازمت سے نہ نکال دیے جائیں، یہ ایمان کے منافی تو نہیں ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ان لوگوں کی نظر اسباب پر ہوتی ہے، اور اسباب کا اختیار کرنا ایمان کے منافی نہیں ہے، بشرطیکہ اسباب کے اختیار کرنے میں اللہ تعالی کی کسی حکم کی خلاف ورزی لازم نہ آئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الھندیة:

الاسباب المزیلة للضرر تنقسم الی مقطوع بہ۔۔۔۔۔۔ والی مظنون۔۔۔۔۔۔والی موھوم۔۔۔۔۔۔واما المقطوع بہ فلیس ترکہ من التوکل، بل ترک حرام عند خوف الموت واما الموھوم فشرط التوکل ترکہ۔۔۔۔ واما الدرجة المتوسطة وھی المظنونة ۔۔۔۔ ففعلہ لیس مناقضا للتوکل۔

(ج: ۵، ص: ٣۵۵)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 212

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.