عنوان: غیر مسلم اگر دنیا میں بھلائی کے کام کریں تو کیا وہ لوگ جنت میں جائیں گے؟ (102611-No)

سوال: مفتی صاحب ! ایک صاحب عرض کر رہے ہیں کہ اہل کتاب بہت اچھے اعمال کر کے جنت میں جا سکتے ہیں، حالانکہ ان کی موت کفر میں ہوئی ہو. آپ وضاحت فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ نیک اعمال کی قبولیت کی اولین شرط ہے کہ اللہ تعالٰی پر، اس کے پیغمبروں پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو وغیرہ، ان تمام باتوں پر ایمان لائے بغیر کسی بھی نیک عمل کا بدلہ آخرت میں جنت کی صورت میں نہیں ملے گا۔

قرآن کریم کا واضح اعلان ہے:

وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِینَ".
(سورة آل عمران، رقم الآیة: ۸۵)

ترجمہ:
جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا، تو ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں ہوگا۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کی ایک حدیث ہے:
"".
(فتح الملہم شرح مسلم: تتمة کتاب الإیمان/ باب الدلیل علی أن من مات علی الکفر لا ینفعہ عمل)

ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک رشتہ دار سے متعلق جن کی موت کفر پر ہوئی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! زمانہٴجاہلیت میں(یعنی بحالت کفر) انہوں نے بہت سارے نیک کام کیے تھے، وہ فقراء کو کھانا کھلاتے تھے اور صلہ رحمی کرتے تھے وغیرہ، تو کیا ان کے یہ نیک اعمال کل قیامت کے دن انھیں فائدہ دیں گے؟
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: نہیں ان کے نیک اعمال قیامت کے دن انھیں کچھ نفع نہیں دیں گے، کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کبھی دعا نہیں کی تھی کہ اے پروردگار قیامت کے دن میری مغفرت فرما۔
(یعنی وہ آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا تھا)
مذکورہ بالا آیت کریمہ اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بات معلوم ہورہی ہے کہ کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کے لیے ”ایمان“ کا ہونا اولین شرط ہے۔ اس کے بغیر انسان کتنی بھی عبادات کرلے، نیکیوں کے انبار لگا دے، آخرت میں ان کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، بلکہ وہ خسارے میں ہوگا۔

ایک اور حدیث مبارک میں ارشاد ہے:
"عن أبي ہریرة قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تجیء الأعمال یوم القیامة، -إلی أن قال- ثم یجیء الإسلام، فیقول: یا رب، أنت السلام، وأنا الإسلام، فیقول اللہ تعالی: إنک علی خیر، بک الیوم آخذ، وبک أعطی، قال اللہ تعالی: وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِینَ".
(تفسیر ابن کثیر، سورة آل عمران)

ترجمہ:
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن "اسلام" اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کرے گا، اے پروردگار! آپ کا نام "سلام" ہے اور میں "اسلام" ہوں، تو اللہ تعالٰی ارشاد فرمائیں گے: بے شک تو ہی بھلائی پر ہے، میں آج کے دن( لوگوں کو ان کے اعمال ) کا (اچھا یا برا) بدلہ تیرے ذریعے دوں گا،(یعنی اگر اچھے عمل ہوں گے، اور ساتھ ساتھ اسلام بھی ہوگا تو اچھا بدلہ ملے گا اور اگر نیک اعمال کے ساتھ اسلام نہیں ہوگا، تو اس کے نیک اعمال ضائع ہوجائیں گے)
ارشاد باری تعالٰی ہے:
"وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِینَ".
جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا، تو ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں ہوگا۔

نیز نیک اعمال کی مثال جسم کے اعضاء کی طرح ہے اور ایمان کی مثال روح کی طرح ہے، جس طرح روح کے بغیر جسم کے تمام اعضاء باوجود حسی طور پر موجود ہونے کے بے کار ہیں، اسی طرح ایمان کے بغیر نیک اعمال بھی بے فائدہ ہوتے ہیں، آخرت میں کچھ کام نہ دیں گے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ ایک ملک کا کوئی شہری اس ملک کے بنیادی قوانین کو تسلیم نہ کرتا ہو، اس ملک کے آئین کو نہ مانتا ہو، لیکن ساتھ ساتھ وہ بہت اعلی تعلیم یافتہ ہو، لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچ رہا ہو، وہ لوگوں کی بھلائی کے بہت سے کام بھی کرتا ہو، تو دنیا میں اس کے ساتھ وہ ریاست کیا سلوک کرتی ہے؟ یہی ناں ! کہ اس کو اس مملکت کا باغی کہا جاتا ہے اور باغی کو اس کی خوبیوں کے باوجود سزا ملتی ہے۔
ایسے ہی جو لوگ ایمان نہیں لاتے ہیں، تو وہ لوگ بھی اللہ تعالٰی کے باغی ہیں، انہیں آخرت میں ان کی نیکیاں کام نہیں آئیں گی۔
ہاں! البتہ ایسے کفار جو دنیا میں نیک کام کرتے رہے، اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں کسی نہ کسی شکل میں عطا فرما دیتے ہیں، جیسے کہ بسا اوقات ان کے نیک کاموں کے صلہ میں انھیں ایمان کی توفیق عطا فرمادیتے ہیں، اور کبھی تو دنیا میں ان کے نیک اعمال کے عوض لوگوں میں ان کا ذکر خیر عام کردیتے ہیں کہ لوگوں میں ان کے حسنِ کارکردگی کا چرچا عام ہوجاتا ہے، اور کبھی ان کی روزی میں فراخی اور کشادگی پیدا کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی فتح المہم شرح صحیح المسلم:

قال في فتح الملہم تحت حدیث حکیم ابن حزام أسلمت علی ما أسلفت: قال المازري: إن الکافر لا یصح منہ التقرب فلا یثاب علی طاعتہ لأن من شرط المتقرب أن یکون عارفصا لمن یتقرب إلیہ والکافر لیس کذلک، فالعماء حمدلوا ہذا الحدیث علی وجوہگ منہا․ إنک اکتسبت بذلک ثناء جمیلاً فہو باق لک في الإسلام أ إنک ببرکة فعل الخیر ہدیت إلی الإسلام لأن المبادی عنوان الغایات أو إنک بتلک الأفعال رزقت الرزق الواسع".

(تتمة کتاب الإیمان، باب حکم عمل الکافر إذا أسلم بعدہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 487

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.