عنوان: وسیلہ کی شرعی حیثیت(100267-No)

سوال: مفتی صاحب ! وسیلہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: اھلسنت والجماعت کے نزدیک انبیاء، اولیاء یا نیک اعمال کے توسّل(وسیلہ) سے دعا کرنا جائز بلکہ دعا قبول ھونےمیں موٴثر ہے، دعا میں توسل کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے۔
عن عثمان بن حنیف، أن رجلا ضریر البصر أتی النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ادع اللہ أن یعافیني قال: إن شئت دعوت، وإن شئت صبرت فھو خیر لک․ قال: فادعہ، قال: فأمرہ أن یتوضأ فیحسن وضوئہ ویدعو بھذا الدعاء: اللھم إني أسألک وأتوجہ إلیک بنبیک محمد نبي الرحمة، إني توجھت بک إلی ربي في حاجتي ھذہ لتقضی لی، اللھم فشفعہ فی : قال الترمذي: ھذا حدیث حسن صحیح غریب وزاد الحاکم في ہذہ الواقعة ”فدعا بہذا الدعاء فقام وقد أبصر
ترجمہ:۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار عالم ﷺ کی بارگاہ میں ایک شخص ضریرالبصر(جسکی بصارت جا چکی تھی یعنی نابینا تھے) آیا اور عرض کیا کہ اللہ پاک سے میری تکلیف دور کرنے کے لیئے دعا فرمائیں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایااگر تو چاہے تو میں تیرے لیےدعاکردوں اور اگر تو اس پر صبر کرنا چاہے تو تیرے لیئے زیادہ بھلائی ہے ۔ اس نے کہا دعا فرمادیجیے۔ پس آپ ﷺ نے اسے حکم فرمایا کہ اچھی طرح وضوکرو اور دو رکعت نماز ادا کرو اور پھر یہ دعا مانگو، اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں بوسیلہ محمد نبی رحمت ﷺ کے،میں محمد آپکے وسیلہ جلیلہ سے اپنے رب کے حضور متوجہ ہوتا ہوں۔ اے اللہ پس تو آپ ﷺ کے وسیلہ سے میری حاجت مجھے نواز دے،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت میرے حق میں قبول کیجیے۔
(نابینا کھڑا ہوا اور بینا ہوگیا)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب قحط ہوتا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے توسل سے دعا مانگتے اور کہتے اللہم انا نتوسل إلیک بعمّ نبیّنا فاسقنا فیسقون(بخاری شریف: ۵۲۶۱) اے اللہ ہم آپ کے نبی کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اوران کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا کیا کرتے تھے، پس آپ بارش برسادیا کرتے تھے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں سیراب کردیجیے نتیجتا یہ ہوتا کہ بارش ہوجاتی تھی، تاہم توسل کے ساتھ دعا کرنا لازم وضروری نہیں ہے، اس کے بغیر بھی دعا کرسکتے ہیں، لہذا اس کو لازم اور ضروری سمجھنا درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی المستدرک للحاکم:

عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف، عن عمه عثمان بن حنيف رضي الله عنه، أن رجلا ضرير البصر أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، علمني دعاء أدعو به يرد الله علي بصري، فقال له: «قل اللهم إني أسألك، وأتوجه إليك بنبيك نبي الرحمة، يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي، اللهم شفعه في، وشفعني في نفسي» ، فدعا بهذا الدعاء فقام وقد أبصر

(ج: 1، ص: 707، ط: دار الکتب العلمیۃ)

وفی صحیح البخاری:

عن أنس بن مالك، أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال: «اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا»، قال: فيسقون

(ج: 2، ص: 27، ط: دار طوق النجاۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 594
waseelah/waseelay ki shari haisyat/hasyat /waseela ki shar'ee hasiyat

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com