resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کیا صلہ رحمی کے حکم میں دیورانی اور جیٹھانی کے آپس کے تعلّقات بھی شامل ہیں؟ (30140-No)

سوال: مفتی صاحب! معذرت کے ساتھ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ شریعت کی رو سے دیورانی اور جٹھانی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں یا نہیں؟ صلہ رحمی کی جو وعیدیں آئیں ہیں وہ دیورانی اور جٹھانی پر بھی لاگو ہوں گی یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ ہر مسلمان دوسروں کی جانب سے حُسنِ سلوک کا حق دار ہے، ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ذمّے کم از کم حق یہ ہے کہ ایک دوسرے کو اپنی زبان اور ہاتھوں کی ایذاء سے محفوظ رکھیں، جہاں تک صلہ رحمی کا تعلق ہے تو بعض علماء کے ہاں یہ لفظ "ذی رحم محرم" رشتہ داروں کے ساتھ خاص ہے، مگر دُرُست تر بات یہ ہے کہ صلہ رحمی کا لفظ عام ہے، جس میں تمام اقارب شامل ہیں، جتنی قریب کی رشتہ داری ہوگی، اسی درجے صلہ رحمی لازم ہوگی، نیز اسلام میں حسنِ معاشرت اور مکارمِ اخلاق کا حکم عام ہے جو تمام رشتے داروں سے بھی متعلق ہے۔
لہٰذا ذکر کردہ تفصیل کے مطابق قطع رحمی اور قطع تعلقی سے متعلق جو وعیدیں وارد ہیں، وہ دیورانی اور جیٹھانی سے بھی متعلق ہوسکتی ہیں، نیز اسلامی اخوّت اور حسنِ سلوک کے عام حقوق اس رشتے پر بھی لاگو ہیں، لہٰذا ایذا دینا یا قطع تعلقی کرنا درست نہیں، بلکہ شرعی و اخلاقی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے اعتدال کے ساتھ میل جول رکھنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحيح مسلم: (4/ 1986، رقم الحديث: 2564، ط: دار إحياء التراث العربي)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ. حدثنا داود (يعني ابن قيس) عن أبي سعيد، مولى عامر بن كريز، عن أبي هريرة. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "لا تحاسدوا. ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض. وكونوا، عباد الله! إخوانا. ‌المسلم ‌أخو ‌المسلم. ‌لا ‌يظلمه، ولا يخذله، ولا يحقره. التقوى ههنا" ويشير إلى صدره ثلاث مرات "بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه ‌المسلم. كل ‌المسلم على ‌المسلم حرام. دمه وماله وعرضه"»

التوضيح لشرح الجامع الصحيح لابن الملقن» (28/ 264)
«فصل: قال عياض: لا خلاف أن صلة الرحم واجبة في الجملة، وقطيعتها (معصية) (4) كبيرة، والصلة درجات، فأدناها ترك المهاجرة وصلتها بالكلام ولو بالسلام، ويختلف ذلك باختلاف القدرة والحاجة، فمنها واجب ومنها مستحب، فلو وصل بعض الصلة ولم يصل غايتها لا يسمى قاطعًا ولو قصر عما يقدر عليه، وينبغي له أن يسمى به واصِلًا. قال: واختلفوا في حد الرحم التي يجب صلتها، فقيل: كل رحم محرم بحيث لو كان أحدهما ذكرًا والآخر أنثى حرمت مناكحتها، فعلى هذا لا يدخل أولاد الأعمام والأخوال، واحتج هذا القائل بتحريم الجمع بين المرأة وعمتها أو خالتها في النكاح ونحوه، وجواز ذلك في بنات الأعمام والأخوال. وقيل: هو عام في كل رحم من ذوي الأرحام في الميراث، يدل عليه قوله - عليه السلام -: "ثم أدناك أدناك" .
قال: وهذا هو الصواب، يدل عليه قوله في أهل مصر: "فإن لهم ذمة ورحمًا" . وقوله: "من البر أن يصل الرجل أهل ود أبيه" مع أنه لا محرمية بينهم. »

شرح النووي على مسلم: (2/ 201، ط: دار إحياء التراث العربي)
«وأما صلة الرحم فهي الإحسان إلى الأقارب على حسب حال الواصل والموصول فتارة تكون بالمال وتارة بالخدمة وتارة بالزيارة والسلام وغير ذلك»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals