سوال:
مفتی صاحب! میرے پاس 6 ہزار روپے تھے جو میں نے اپنے پرس میں رکھے ہوئے تھے، اور وہ حلال تھے۔ انہی پیسوں میں میرے شوہر نے 11 ہزار روپے مزید ملا دیے، جو غالباً حلال نہیں تھے، اور اس طرح کل 17 ہزار روپے میرے پرس میں رکھ دیے گئے۔
مجھے اپنے وہ 6 ہزار روپے درکار ہیں، لیکن اب چونکہ تمام رقم آپس میں مل چکی ہے اور نوٹوں کی پہچان بھی ممکن نہیں، تو میں کس طرح اپنے حلال 6 ہزار روپے نکال سکتی ہوں؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں ان سترہ ہزار میں سے آپ کے لیے اپنے چھ ہزار روپے لینا جائز ہے، اگرچہ نوٹوں کی علیحدہ پہچان ممکن نہ ہو، اور بقیہ گیارہ ہزار روپے اپنے شوہر کو واپس کر دیں، البتہ اگر آپ کے شوہر نے اس رقم کو واقعتاً کسی حرام ذریعے سے حاصل کیا ہے تو آپ کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ اس رقم کو جہاں سے حاصل کیا ہے وہیں واپس کردیں، اور اگر اصل مالک کو واپس کرنا ممکن نہ ہو تو اس رقم کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الأشباه والنظائر - ابن نجيم: (ص:272، ط:دار الكتب العلمية)
اعلم أن عدم تعين الدراهم والدنانير في حق الاستحقاق لا غير فإنهما يتعينان جنسا وقدرا ووصفا بالإنفاق، وبه صرح الإمام العتابي في شرح الجامع الصغير۔
حاشية ابن عابدين: (5/ 99،ط: سعید)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی